ہفتہ وار زرعی خبریں مئی 2020

مئی 7 تا 13 مئی، 2020

زمین

سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے محکمہ جنگلات کو حکم دیا ہے کہ وہ کیٹی ممتاز، کیٹی کھرل، کیٹی فرید آباد، کیٹی جتوئی اور دیگر علاقوں میں غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی جنگلات کی زمین واگزار کروائے۔ عدالت نے یہ حکم کئی اضلاع میں جنگلات کی ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 1985 سے اب تک جنگلات کی زمین کی منتقلی (الاٹمنٹ) کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ نیب کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ اب تک کی تحقیق کے مطابق خیرپور میں 10 اور نوشہروفیروز میں کچے کے علاقے میں واقع ایک قطعہ اراضی جنگلات کی زمین پر کچھ بااثر سیاسی شخصیات کا غیرقانونی قبضہ ہے۔ عدالت نے ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز کو سرکاری حکام کو زمین واگزار کروانے کے لیے تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
(ڈان، 13 مئی، صفحہ15)

زراعت

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹڈی دل کے خلاف چھڑکاؤ شروع کرنے کے لیے محکمہ زراعت کے منجمد شدہ 132 ملین روپے جاری کرنے کے علاوہ مزید 286 ملین روپے کی منظوری دیدی ہے۔ ٹڈی دل پہلے ہی صوبے میں 166,701 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو متاثر کرچکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی زیرصدارت مواصلاتی اجلاس میں وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو نے بتایا کہ ٹڈی دل کی پہلی اطلاع جیکب آباد سے 25 اپریل کو موصول ہوئی تھی۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں شکارپور، لاڑکانہ، کندھ کوٹ، کشمور، گھوٹکی، سکھر، دادو، جامشورو، حیدرآباد اور کراچی میں ملیر اور گڈاپ شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بروقت چھڑکاؤ نہ کیا گیا تو حال ہی میں کاشت کی گئی گنا، کپاس اور دیگر فصلیں شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔
(ڈان، 10 مئی، صفحہ15)

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں زرعی شعبہ کے لیے 56 بلین روپے کا امدادی پیکج منظور کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کئی ضمنی شعبہ جات میں کورونا کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں کسانوں کی مدد کے لیے یہ امدادی پیکچ تیار کیا ہے۔ وزارت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی میں اپنی سفارشات جمع کروادی ہیں۔ وزارت نے ڈی اے پی کھاد پر 925 روپے فی بوری اور دیگر کیمیائی کھادوں پر 243 روپے فی بوری زرتلافی دینے کی تجویز دی ہے۔ اس زرتلافی پر 37 بلین روپے لاگت آئے گی۔ یہ زرتلافی کھاد کی بوری میں موجود پرچی (اسکریچ کارڈ اسکیم) کے زریعے تقسیم ہوگی جس پر پنجاب میں پہلے ہی عملدرآمد جاری ہے۔ حکومت اس وقت کھاد بنانے والوں کو گیس پر زرتلافی دیتی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر کسانوں تک نہیں پہنچتی۔ اس بار حکومت نے براہ راست کسانوں کو پرچی اسکیم کے زریعے زرتلافی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے دیے جانے والے زرعی قرضوں پر شرح سود 18.4 فیصد ہے جس میں 10 فیصد کمی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شرح سود پر دی جانے والی اس زرتلافی کے لیے 8.8 بلین روپے درکار ہونگے۔ اس کے علاوہ سندھ اور پنجاب میں کپاس کے بیج پر 150 روپے فی کلو زرتلافی دینے کی تجویز دی گئی ہے جس کے لیے 2.3 بلین روپے درکار ہونگے۔ اس کے ساتھ ہی سفید مکھی سے بچاؤ کے لیے زرعی زہر (پیسٹی سائیڈ) کے فی تھیلے پر 300 روپے زرتلافی دینے کی تجویز دی گئی ہے جس پر چھ بلین روپے خرچ ہونگے۔ وزارت نے مقامی طور پر تیار ہونے والے ٹریکٹروں پر ایک سال کے لیے پانچ فیصد سیلز ٹیکس میں چھوٹ بطور زرتلافی دینے کی سفارش کی ہے جو 2.5 بلین روپے بنتی ہے۔ زرائع کے مطابق فنانس ڈویژن نے زرعی شعبہ کو زرتلافی فراہم کرنے کی توثیق کی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 12 مئی، صفحہ11)

گندم

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم خریداری مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاسکو اور خوراک کے صوبائی محکموں سے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اب تک پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک 3.96 ملین ٹن گندم خرید چکے ہیں جو مقررہ ہدف کا تقریباً 48 فیصد ہے۔ تاہم کے پی اور بلوچستان میں گندم کی خریداری کا عمل سست ہے۔ مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لئے پنجاب کو 4.5 ملین ٹن، سندھ کو 1.4 ملین ٹن، جبکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پاسکو کو بالترتیب 0.4، 0.1، 1.8 ملین ٹن گندم کی خریداری کرنی ہوں گی تا کہ مجموعی طور پر 8.25 ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔
(بزنس ریکارڈر، 7 مئی، صفحہ1)

ایک خبر کے مطابق پاکستان اب تک مکمل طور پرآٹا اور گندم کے بحران سے باہر نہیں آیا ہے اور ایسا ہی ایک اور بحران اگلے سال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ کیونکہ حکومت کی جانب سے رواں موسم میں گندم کی پیداوار اور خریداری کا ہدف مکمل نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اضافی بارشیں اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں گندم پر زرد پھپھوندی (یلورسٹ) کا حملہ نقصانات کا سبب ہوسکتا ہے۔ وفاقی زرعی کمیٹی (فیڈرل کمیٹی آن ایگری کلچر نے سال 2020 کے لیے 22.73 ملین ایکڑ پر 27.03 ملین ٹن گندم کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے۔ (دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 مئی، صفحہ11)

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن، بلوچستان کے صدر سید صالح آغا نے حکومت بلوچستان پر الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے نام پر گندم کی بین الاضلاع ترسیل پر پابندی عائد کرکے جان بوجھ کر صوبے میں گندم کا بحران پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اضلاع کے دوران گندم کی نقل و حمل پر عائد دفعہ 144 ختم کرنی چاہیے کیونکہ اس پابندی سے صوبہ بھر میں آٹے کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ آٹا ملوں کو گندم خریدنے کی بھی اجات دی جائے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 10 مئی، صفحہ7)

ڈیری

حکومت نے بجٹ میں دودھ کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس صفر کرنے کی تجویز پر غور کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے، کیونکہ گزشتہ حکومت کی ٹیکس پالیسی کی وجہ سے ڈیری کمپنیوں کو پیداواری لاگت بڑھ جانے کی وجہ سے بھاری نقصان ہوا تھا۔ اس کمیٹی کی صدارت سیکریٹری خزانہ کریں گے۔ کمیٹی ڈیری فارموں کے مالیاتی کھاتوں کا جائزہ لے گی اور انہیں گزشتہ حکومت کی جانب سے صفر درجہ ٹیکس کی سہولت واپس لیے جانے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا تجزیہ کرے گی۔ وزیراعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے ساتھ بزریعہ ویڈیو لنک ملاقات بھی کی ہے۔ ڈیری ایسوسی ایشن کا دعوی ہے کہ اس کی 30 فیصد پیداواری صلاحت استعمال نہیں ہورہی ہے، 2017 سے پہلے کی (صفر درجہ) ٹیکس پالیسی کی بحالی ان کے کاروبار میں اضافے کے لیے معاون ہوگی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 8 مئی، صفحہ11)

مرغبانی

ایک خبرکے مطابق کراچی میں خوردہ فروشوں نے مرغی کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔ گزشتہ چند روز میں مرغی کے گوشت کی قیمت 70 سے 80 روپے فی کلو بڑھ کر 350 سے 400 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت 214 روپے فی کلو ہے۔ مرغبانی کے تاجروں کا کہنا ہے کہ مارچ کے آخری ہفتے میں مرغبانی صنعت نے آنے والے دنوں میں قیمت میں اضافے سے متعلق خبردار کیا تھا کیونکہ پولٹری فارمر مرغیوں کی فروخت میں واضح کمی کی وجہ سے چوزوں کی فارمنگ نہیں کررہے تھے۔
(ڈان، 13 مئی، صفحہ14)

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن (پی پی اے)، شمالی ریجن نے حکومت پنجاب سے مرغبانی شعبہ میں طلب و رسد کو قابو میں رکھنے کے لیے قیمت میں مداخلت کرنے کے بجائے آزاد منڈی کے طریقہ کار کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی پی اے شمالی ریجن کے نائب چیئرمین چوہدری فرغام کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی زندہ مرغی اور گوشت کی قیمت برقرار رکھنے کے لیے کارروائی سے مرغبانی کی صنعت متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب منڈی میں پولٹری فارمر اپنا نقصان پورا کرسکتے ہیں لیکن انتظامیہ مرغی کا گوشت فروخت کرنے والوں کو گرفتار کررہی ہے اور انہیں گوشت 260 روپے فی کلو فروخت کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ ایسے اقدامات پولٹری فارم بند ہونے کی وجہ بنیں گے جس سے ناصرف مرغی کے گوشت کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا بلکہ گائے، بکرے کے گوشت اور دالوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 13 مئی، صفحہ7)

پانی

وزیر اعظم عمران خان نے ایک اجلاس کے دوران متعلقہ حکام کو ملک میں فوری طور پر ڈیموں کی تعمیر شروع کرنے ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں وزیر اعظم کو دیامیر بھاشا ڈیم میں تعطل سے متعلق معلومات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ کئی وجوہات کی بناء پر ایک دہائی سے تعطل کا شکار ہے۔ 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے مجوزہ ڈیم سے ملک میں پانی کی کمی 12 ملین ایکڑ فٹ سے کم ہوکر 6.1 ملین ایکڑ فٹ ہوجائے گی۔
(ڈان، 12 مئی، صفحہ4)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبروں میں شامل ٹڈی دل کے حملے کی خبریں اور پیشنگوئیاں کورونا کی وبائی صورتحال سے پہلے ہی متاثر زرعی شعبہ اور اس سے جڑے لاکھوں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کے لیے مزید مسائل کا اشارہ دے رہی ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے ناقص حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کی ایک طویل فہرست ہے۔ دیگر اہم خبروں میں حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کے لیے ”مراعات“ کی فراہمی سے متعلق خبر شامل ہے۔ ہمیشہ کی طرح حکومت سرمایہ داروں جاگیرداروں کو کو تحفظ دینے کے لیے عوامی خزانے کا منہ کھولنے پر تلی ہے۔ زرعی قرضے ہوں یا کھاد و دیگر اشیاء پر دی جانے والی زرتلافی، ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھانے کے اہل بڑے بڑے جاگیر دار، سرمایہ دار اور وہ کاروباری طبقہ ہی رہا ہے جو آدھی سے زیادہ زرعی زمین پر قابض ہے اور مداخل کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ غرض ان مراعات کا بظاہر مقصد زرعی کمپنیوں چاہے وہ کھاد بنانے والی ہوں، بیج یا زرعی زہر، فائدہ پہنچانا نظر آتاہے۔ اس خدشے کو مزید تقویت بڑی بڑی بین الاقوامی ڈیری کمپنیوں کو ٹیکس سے مستثنی قرار دینے کی بجٹ تجاویز سے بھی ملتی ہے۔ کورونا وائرس کی وبائی صورتحال میں ملک بھر کے چھوٹے اور بے زمین کسان اپنی دودھ کی پیداوار آدھی قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوئے جن کے لیے حکومت کی جانب سے مراعات کا اعلان کرنا تو دور انہیں منڈی میں اپنی پیداوار فروخت کرنے سے روکنے کے لیے فوڈ اتھارٹیاں سرگرم رہتی ہیں۔ نیولبرل پالیسی کے تحت سرمایہ دار کمپنیوں اور ان کے مقامی پالیسی ساز ایجنٹوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے خوراک کی پیداوار سے لے کر اس کی ترسیل و فروخت کو آزاد منڈی کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کا نتیجہ گزشتہ دنوں گندم اور آٹے جیسی بنیادی خوراک کی قیمت میں بے تحاشہ اضافے کی صورت دیکھا گیا۔ ملک میں بے زمینی، بھوک و غربت اور استحصال کی موجودہ صورتحال ناصرف اس جاگیر دار، سرمایہ دار نظام پیداوار و معیشت بلکہ اس کو تحفظ دینے والے پالیسی سازوں سے بھی فوری چھٹکارا حاصل کرنے کا تقاضہ کرتی ہے، جس کے لیے لازم ہے کہ چھوٹے اور بے زمین کسان مزدورں سمیت تمام تر استحصال کے شکار طبقات متحد ہوکر اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *