ہفتہ وار زرعی خبریں

 2018 فروری: 8 تا 14 فروری

زراعت

ایک مضمون کے مطابق زراعت پاکستانی معیشت کا اہم ترین ستون ہے جس سے ملک کی تقریباً نصف سے زائد افرادی قوت روزگار حاصل کرتی ہے اور یہی شعبہ زرمبادلہ کے حصول کا اہم ذریعہ بھی ہے، تاہم یہ شعبہ ناقص منصوبہ بندی و انتظام کا شکار ہے۔ موجودہ رجحان جو زرعی شعبے میں پیداوار میں اضافے پر زور دیتا ہے دیہی غربت، آبی قلت، غذائی عدم تحفظ، ماحولیاتی اور صحت کے حوالے سے درپیش خطرات جیسے مسائل پر قابو پانے کے لئے ناکافی ہے۔ پاکستان جیسے وسیع زرعی شعبہ رکھنے والے تیسری دنیا کے ممالک کو اپنی افرادی قوت کو روزگار کی فراہمی کے لیے ماحول دوست طریقہ زراعت پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ زرعی پیداوار کے لئے امیر (سرمایا دار) طبقہ کی وضع کردہ منڈی پر مبنی حکمت عملی پر بھروسہ کریں۔ نام نہاد ’’سبز انقلاب‘‘ ملک میں زرعی پیداوار میں اضافے کے زریعے خوراک کی درآمد کو کم کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اس پالیسی کو اپنانے سے ملک کا انحصار مہنگی (کیمیائی مداخل، کمپنیوں کے بیج اور مشینری کے زریعے کی جانے والی) زراعت پر بڑھ گیا۔ اس کے علاوہ ’’سبز انقلاب‘‘ ماحول کو متاثر کرنے کا باعث بنا اور صنعتی طریقہ زراعت میں اضافہ کی وجہ سے غریب کسان خاص طور پر بٹائی پر کاشت کرنے والے کسان زمین سے محروم ہوگئے۔ زرعی بڑھوتری کے لیے متعارف کروائی جانے والی آج کی پالیسیاں اس (سبز انقلاب) سے مختلف نہیں۔ ان پالیسیوں کے فوائد بھی بڑے پیمانے پر چھوٹے اور بے زمین کسانوں کو نہیں پہنچتے اور وہ لوگ جو شہروں میں کچی آبادیوں میں منتقل نہیں ہوئے کسی اور (جاگیرداروں) کی زمین پر یومیہ یا موسمی بنیادوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں تاکہ فصلیں پیدا کی جاسکیں اور ان سے زرمبادلہ حاصل ہو بجائے اس کے کہ اس پیداوار سے غریب گھرانوں کے غذائی تحفظ میں کوئی بہتری ہو۔

(سید محمد علی، دی ایکسپریس ٹریبیون، 9 فروری، صفحہ16)

زمین

فوج، ادارہ ترقیات اسلام آباد (کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی) اور فیڈرل گورنمنٹ امپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے درمیان طویل عرصے سے جاری زمین کا تنازعہ اسلام آباد میں سیکریٹری وزارت دفاع کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں حل کرلیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ادارہ ترقیات اسلام آباد سیکٹر جی۔13 میں وزارت ہاؤسنگ کے زیر قبضہ فوج کی زمین کے متبادل کے طور پر فوج کو سیکٹر ایف۔12 میں 33 ایکٹر زمین دے گا اور ادارہ ترقیات اسلاآباد کو (سیکٹر جی۔13 کی) زمین کے بدلے سیکٹر ایف۔12/3 میں فوج کی زمین دی جائے گی۔ تقسیم سے پہلے ہی اسلام آباد کے متعدد علاقوں میں زمین فوج کی ملکیت میں ہے اور سیکٹر جی۔13 میں زمین بھی برطانوی دور سے فوج کی ملکیت میں ہے۔ زرائع کے مطابق سیکٹر جی۔12، جی۔13، جی۔14 اور کشمیر ہائی وے کے ساتھ کی زمین، جس پر ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ ملکیت کا دعوی کرتی ہے، کا مسئلہ بھی حل کرلیا گیا ہے اور اب فوج کو سیکٹر ایچ۔13 میں متبادل زمین دیے جانے کا امکان ہے۔

(ڈان، 8 فروری، صفحہ4)

کراچی پریس کلب کے باہر گڈاپ، ملیر اور ٹھٹھہ کے دیہات سے تعلق رکھنے والوں نے رہائشی منصوبے کی تعمیر کے لیے جبراً دیہات سے بیدخل کرکے دربدر کیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے سرگرم ادارہ انڈیجنس رائٹس الائنس کراچی نے ہزاروں ایکٹر پر بننے والے بحریہ ٹاؤن کے خلاف اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔ مصنف اور مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن گل حسن کلمتی کے مطابق ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف ریونیو نے بحریہ ٹاؤن کو صرف 9,000 سے 11,000 ایکڑ زمین فراہم کی تھی لیکن بحریہ ٹاؤن انتظامیہ 45,000 ایکڑ سے زیادہ زمین پر ترقیاتی کام کررہی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے کئی تاریخی مقامات کو بھی مسمار کردیا ہے۔

(ڈان، 10 فروری، صفحہ18)

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے 141 تحصیلوں میں قائم 151 اراضی ریکارڈ سینٹرز کے ڈیٹا کو مرکزی نظام سے منسلک کردیا ہے۔ مرکزی ڈیٹا بیس ارفہ کریم ٹاور، لاہور میں قائم کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے زمین کا ریکارڈ صرف متعلقہ اراضی سینٹرز پر ہی دستیاب تھا۔ ڈیٹا کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد میں بھی ایک مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جاچکا ہے۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 10 فروری، صفحہ11)

امرود

محکمہ زراعت پنجاب نے صوبے کے مخصوص اضلاع میں امرود کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے منصوبہ بندی کی ہے جس کا مقصد امرد کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا اور مخصوص اضلاع میں کامیابی کے بعد اس منصوبے کو دیگر اضلاع تک بڑھانا ہے۔ منصوبے کے تحت تحصیل کی سطح پر امرود کی پیداوار میں اضافے اور اسے منافع بخش بنانے کے لیے 10 ایکڑ سے زیادہ زمین تیار کی جارہی ہے۔ امرود کے یہ آزمائشی باغات کسانوں کی رہنمائی کے لیے سیالکوٹ، لاہور، ناروال، گجرانوالہ اور حافظ آباد میں تیار کیے جارہے ہیں۔

(بزنس ریکارڈر، 9 فروری، صفحہ18)

چاول

سینئر وائس چیرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان رفیق سلیمان کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں چاول کی برآمد ایک بلین ڈالر سے بڑھ چکی ہے۔ جولائی تا جنوری 2017-18 کے درمیان 2.28 ملین ٹن چاول برآمد کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 1.971 ملین ٹن چاول برآمد کیا گیا تھا۔ امید ہے کہ اس سال چار ملین ٹن چاول کی برآمد کا ہدف پورا ہوجائے گا۔

(ڈان، 10 فروری، صفحہ10)

زرعی قرضے

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف نے حکومت پر زرعی قرضوں کی غیرمنصفانہ تقسیم پر تنقید کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ زیادہ تر زرعی قرضے صوبہ پنجاب کو دیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے فراہم کیے گئے کل زرعی قرضوں کا 88 فیصد پنجاب کو اور بقیہ تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے شرح سود پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے کہ سرکاری بینکوں کے زرعی اور رہائشی قرضوں پر شرح سود نجی تجارتی بینکوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے‘‘۔ اس حوالے سے وزیر مملکت برائے خزانہ رعنا افضل نے کہا کہ گزشتہ سال زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے ایک بلین روپے کے زرعی قرضوں میں سے 77 فیصد پنجاب کو قابل کاشت زمین کی بنیاد پر دیے گئے تھے۔ دیگر تین صوبے قرضوں کے لیے فراہم کردہ رقم استعمال نہیں کرسکے تھے۔

(ڈان، 14 فروری، صفحہ3)

کسان مزدور

ایک خبر کے مطابق سندھ حکومت نے پہلی لیبر پالیسی (سندھ لیبر پالیسی 2018) جاری کردی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی تمام شراکت داروں کی باہمی مشاورت سے تیار کی گئی ہے۔ پالیسی کے اجراہ کے موقع پر صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ یہ پہلی سہہ فریقی لیبر پالیسی ہے جسے حکومت، محنت کشوں اور آجروں کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ یہ پالیسی زرعی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں، گھروں میں کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر شعبہ جات کے مزدوروں کا احاطہ کرتی ہے اور مکمل طور صنفی مساوات کو یقینی بناتی ہے۔ پالیسی کے مطابق آجروں کے تعاون سے مزدوروں کو پیشہ ورانہ تربیت دینے کے لیے نظام تشکیل دیا جائے گا، دیہی اور شہری علاقوں میں نجی شعبے میں ملازمت کے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، دیہی معیشت کو سہارا دینے اور بیروزگار محنت کشوں کے لیے دیہی علاقوں میں صنعتوں کے قیام کے لیے انڈسٹریل سپورٹ سینٹرز قائم کیے جائیں گے، عورتوں کے لیے کام کی جگہ پر ہراسانی سے پاک موزوں سماجی ماحول اور برابری کی بنیاد پر اجرت کی ضمانت دی جائے گی۔ محنت کشوں کو تنظیم سازی اور اس میں شمولیت کا حق دیا جائے گا۔ صنعتوں میں ٹریڈ یونین قائم کرنے کے لیے موجودہ مزدور قوانین میں ترمیم ہوگی اور مزدور قوانین کو سندھ حکومت کی جانب سے توثیق کردہ عالمی قوانین و ضابطوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹھیکیداری نظام (کنٹریکٹ لیبر سسٹم) کو موجودہ مزدور قوانین اور اعلی عدالتوں کے احکامات کی روشنی میں ریگولیٹ کیا جائے گا۔ گھروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق و ذمہ داریوں کی جانچ (نگرانی) کرنے اور ان کے اعداوشمار اکھٹے کرنے کے لیے سندھ ہوم بیسڈ ورکرز بورڈ قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاہ زرعی مزدوروں کی تنظیم سازی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے جامع قانون سازی کی جائے گی اور ایسا ماحول تیار کیا جائے گا جس میں جاگیرداروں کی جانب سے زرعی مزدورں کے حقوق تسلیم کیے جاتے ہوں۔ ایسے مزدور قوانین اور ادارے بنائے جائیں گے جن سے زرعی مزدوروں کی ضروریات پوری ہونی چاہیے۔ پالیسی کے مطابق کم سے کم اجرت حقیقی اجرت سے تبدیل ہوگی جس کے لیے منیمم ویج کونسل قائم ہوگی جو پیشہ ورانہ اور غیرپیشہ وارانہ مزدوروں کی اجرت کا تعین کرے گی۔ پالیسی میں بچوں کی مشقت اور جبری مشقت کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کا دعوی بھی کیا گیا ہے۔

(ڈان، 11 فروری، صفحہ17)

غذائی کمی

وفاقی وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن نے آغا خان یونیورسٹی اور یونیسیف کے اشتراک سے نیشنل نیوٹریشن سروے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ 2011 کے نیشنل نیوٹریشن سروے کے بعد اس طرح کا یہ دوسرا سروے ہے۔ 2011 کا سروے پاکستان میں عورتوں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے واضح منظر کشی کرتا ہے۔ اس سروے میں 44 فیصد بچے اپنی عمر کے حساب سے نشونما میں کمی کے شکار پائے گئے تھے جبکہ تقریبا آدھے گھرانے یا تو بھوک یا بھوک کے خطرے سے دوچار پائے گئے۔ آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر اقتدار احمد خان کا کہنا ہے کہ 2011 کا سروے ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ان دس ممالک میں سے ایک ہے جہاں آدھی سے زیادہ آبادی وزن میں کمی یا وزن میں زیادتی دونوں صورتوں میں غذائی کمی سے متاثر ہے۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے نیوٹریشن ونگ کے ڈائریکٹر بشیر اچکزئی کے مطابق 2018 کا سروے ملک بھر میں سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان سمیت فاٹا، آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی کیا جائے گا۔ اس سروے میں ملک بھر سے 115,500 گھرانوں سے معلومات اکھٹی کی جائیں گی۔ ادارہ شماریات پاکستان اور پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسس اس سروے میں بطور تکنیکی شراکتدار کردار ادا کرینگے جو 13 ماہ میں مکمل ہوگا۔

(ڈان، 13 فروری، صفحہ17)

متبادل توانائی

وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر محکمہ زراعت پنجاب نے فصلوں سے حاصل ہونے والے نباتاتی فضلے کا تخمینہ لگانے اور متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کا جائزہ لینے کے لیے ایک ادارہ ’’کراپ بائیو ماس سیل‘‘ قائم کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس ادارے کے قیام کا مقصد فصلوں سے حاصل ہونے والے فضلے کی جانچ اور کم رقبے پر کاشت کی جانے والی دیگر فصلوں کے اعدادوشمار اکھٹے کرنا ہے۔ ادارہ نباتاتی فضلے سے توانائی پیدا کرنے میں مہارت رکھنے والے ملکی و غیرملکی اداروں کے ساتھ تحقیق و تعاون پر بھی توجہ مرکوز کرے گا۔ پنجاب سالانہ 50 ملین ٹن زرعی فضلہ پیدا کرتا ہے جس میں سے 6.44 ملین ٹن گنے سے حاصل ہوتا ہے جسے شوگر ملیں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کررہی ہیں۔

(بزنس ریکارڈر، 9 فروری، صفحہ18)

نکتہ نظر

اس ہفتے سرفہرست زرعی شعبے میں جاری پالیسیوں کے حوالے سے لکھا گیا مضمون زرعی شعبے کو درپیش مسائل، اس کے حل کے لیے کھوکھلی حکومتی پالیسوں اور چھوٹے و بے زمین کسان مزدوروں کے حالات واضح کررہا ہے۔ ملک بھر میں ترقی اور خوشحالی کے نام پر مقامی لوگوں کو دربدر کرنے کا سلسلہ ملیر اور گڈاپ کے قدیم دیہات میں رہنے والوں کو ایک بار پھر سڑک پر لے آیا ہے جو پہلے بھی اپنی آبائی زمینوں سے جبراً بیدخل کیے جانے کے خلاف آواز بلند کرچکے ہیں۔ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ان کمزور آوازوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی آواز شامل کریں کہ شاید یہ آواز ایوان اقتدار کی اس منزل تک پہنچ پائے جہاں ایک اجلاس میں ہی بڑے بڑے زمینی رقبوں پر قبضے اور تنازعات کا حل باہمی رضامندی سے نکل آتا ہے۔ ملک کی حقیقی خوشحالی اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملکی وسائل اور فیصلہ سازی پر اختیار عوام کا ہو۔ وسائل کا پائیدار استعمال ہی بھوک، غربت، غذائی کمی، آبی قلت، موسمی تبدیلی کے اثرات اور ماحولیاتی مسائل سے بچاؤ کا راستہ ہے۔

ہفتہ وار زرعی خبریں

 2018 فروری: 1 تا 7 فروری

زمین

ایک مضمون کے مطابق سندھ میں گزشتہ ہفتے بے زمین کسانوں کے لیے (ٹھیکے یا دیگر شرائط پر) زمین کے حصول کو بہتر بنانے کے لیے ایک منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔ صوبے میں بے زمین کسان (ہاری) عام طور پر زمین جاگیردار سے بغیر کسی کاغذی کارروائی کے کرائے پر (یا دیگر شرائط پر) حاصل کرتے ہیں۔ کاغذی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ہاری جبری مشقت کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ منصوبہ (امپروڈ لینڈ ٹیننسی ان سندھ) عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت (فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن/ ایف اے او) کی جانب سے یورپی یونین کی مالی معاونت سے شروع کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت اگلے چار سالوں میں آٹھ اضلاع دادو، جامشورو، لاڑکانہ، مٹیاری، میرپورخاص، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان اور سجاول میں 12,600 گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے پانچ ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ ایف اے او کے مطابق ہاریوں اور جاگیرداروں کے درمیان روزگار کو بہتر بنانے اور غربت میں کمی لانے کے لیے 4,800 غیررسمی معاہدے کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ان علاقوں میں قدرتی وسائل کا بہتر استعمال کیا جائے۔ پاکستان میں ایف اے او کی نمائندہ مینا ڈاؤلاچی نے منصوبے کے فوائد بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے پر زمین کے حصول (کرایہ داری)، ماہی گیری اور جنگلات کے ذمہ دارانہ انتظام کے لیے رضاکارانہ رہنما اصولوں (والینٹری گائیڈ لائنز آن دی ریسپونسبل گورنمنٹ آف ٹنیور آف لینڈ، فشریز اینڈ فوریسٹس) کی بنیاد پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

(امین احمد، ڈان، 5 فروری، صفحہ4، بزنس اینڈ فنانس)

گندم

یورپی تاجروں کے مطابق گندم کی برآمد کے لیے شروع کیے گئے زرتلافی منصوبے کے بعد پاکستان نے جنوری میں 300,000 ٹن گندم غیرملکی خریداروں کو فروخت کیا ہے جبکہ آئندہ چند دنوں میں مزید 250,000 ٹن گندم کی برآمد کنندگان کو فروخت متوقع ہے۔ کابینہ کمیٹی نے دسمبر میں دو ملین ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دی تھی جس میں سے 1.5 ملین ٹن پنجاب اور 0.5 ملین ٹن سندھ برآمد کرے گا۔

(بزنس ریکارڈر، 2 فروری، صفحہ3)

مکئی

مونسانٹو پاکستان نے پنجاب میں مکئی کی پیداوار کرنے والے اہم اضلاع میں ’’دیکالب نمبردار‘‘ نامی ایک سفارتکار کسان پروگرام (ایمبیسڈر فارمر پروگرام) کا آغاز کیا ہے۔ پروگرام مکئی کے ہر اہم پیداواری علاقے میں مثالی کسانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ یہ کسان اپنی کسان برادری میں اچھے کاشتکاری طریقوں کے فروغ کے لیے تبدیلی لانے والے کسان (چینج ایجنٹ) کا کردار ادا کریں۔ صوبہ پنجاب میں زیادہ تر چھوٹے کسان ہیں جن کے پاس ضروری زرعی معلومات تک رسائی محدود ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ہے کہ کسانوں کے اجتماعی تجربے اور سفارتکار کسان کے (اثر ورسوخ کے) زریعے مکئی کی کاشت کے ہر اہم علاقے میں کسان برادری کو فصل سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ یہ سفارتکار کسان صحت مند اور منافع بخش فصل کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور معلومات کی فراہمی کے لیے اپنا مثبت اثرورسوخ کسان ساتھیوں میں استعمال کرینگے اور ان میں آگاہی میں اضافہ کرینگے۔ یہ پروگرام اب تک سات اضلاع بشمول اوکاڑہ، پاکپتن، ساہیوال، چنیوٹ، ویہاڑی، قصور، خانیوال میں شروع کیا گیا ہے اور 500 سے زیادہ کسان سفارتکاروں کو دیکالب نمبردار منتخب کیا گیا ہے۔ مونسانٹو کا یہ پروگرام ملک بھر میں چھوٹے کسانوں تک کمپنی کی رسائی کو بہتر بنانے، انہیں جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور زرعی معلومات فراہم کرنے کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔

(بزنس ریکارڈر، 2 فروری، صفحہ13)

گنا

ضلع بدین میں فعال تمام شوگر ملوں کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے مل مالکان کو گنے کی قیمت 160 روپے فی من ادا کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن مل مالکان 130 روپے فی من قیمت ادا کررہے ہیں۔ کھوسکی سے تعلق رکھنے والے کاشتکار خلیل احمد بھرگڑی کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو مل مالکان گنا 130 روپے فی من خرید رہے ہیں دوسری طرف ملیں رقم کی ادئیگی کے لئے کوئی مخصوص وقت بھی مقرر نہیں کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ ملیں مختلف عذر پیش کرکے ایک گاڑی پر لدے گنے کے کل وزن سے 30 فیصد کٹوٹی کررہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی کسان تنظیموں کے رہنماء حکمران جماعت کی طرفداری کرتے ہوئے شوگر ملوں کے نمائندے کے طور پر کام کررہے ہیں۔

(ڈان، 5 فروری، صفحہ17)

مال مویشی

چیئرمین آل پاکستان میٹ ایکسپورٹرز اینڈ پروسسرز ایسوسی ایشن نصیب احمد سیفی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مویشیوں کی برآمد اور ان کی ایران اور افغانستان کو بڑھتی ہوئی غیرقانونی فروخت پر توجہ دے جو ملک میں گوشت کی قیمت میں اضافے کی وجہ ہے اور مقامی گوشت کی صنعت اور برآمد کنندگان کو متاثر کررہی ہے۔ چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ یومیہ بنیادوں پر تقریباً 300 ٹرالر چمن اور تافتان سرحد کے زریعے افغانستان اور ایران غیرقانونی طور پر برآمد کیے جارہے ہیں۔ ایرانی تاجر ملتان اور بھاولپور کی مویشی منڈیوں میں خریداری کے لیے آتے ہیں اور پیشگی ادائیگی پر مقامی تاجر مطلوبہ مقام تک مویشی پہنچادیتے ہیں۔

(بزنس ریکارڈر، 6 فروری، صفحہ5)

ماہی گیری

حیدرآباد میں ماہی گیروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے سندھ میں عالمی اداروں سے کیے گئے وعدوں کی روشنی میں تازہ پانی کی جھیلوں اور آبی وسائل پر قبضے کے خاتمے کے لیے ایک مزاکرے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ پانی کی یہ جھیلیں دریائے سندھ میں صدیوں سے متواتر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آئی ہیں۔ سندھ حکومت کے اعداوشمار کے مطابق اس وقت ایسی 1,200 جھیلیں موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر جھیلیں بااثر افراد کے قبضے میں ہیں۔ مقررین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ آبی وسائل اور دلدلی علاقوں کے تحفظ پر مبنی رامسر کنونشن کی پاسداری کی جائے جس پر پاکستان نے 20 نومبر 1976کو دستخط کیے تھے۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ ضیاء دور میں سندھ فشری آرڈننس 1980 نافذ کرکے ذولفقار علی بھٹو حکومت کے ماہی گیروں کے لیے لائسنس کے نظام کو ختم کردیا گیا تھا۔ ماہی گیروں کو اس ٹھیکیداری نظام کے خاتمے کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی اور 2007 میں ماہی گیر ٹھیکیداری نظام کے خاتمے میں کامیاب ہوئے، لیکن جھیلوں پر قبضہ اب بھی جاری ہے۔

(ڈان، 3 فروری، صفحہ19)

ماہی گیروں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک غیرسرکاری تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق صوبے میں جھیلوں اور آبی ذخائر پر قبضہ ختم کرانے میں ناکامی کے خلاف وزیراعلی ہاؤس کے سامنے دھرنا دیگی۔ تنظیم کے صدر محمد علی شاہ نے یہ اعلان عمرکوٹ میں دھورو نارو ٹاون کے قریب کلنکار جھیل کے کنارے جاری علامتی بھوک ہڑتال کے دوران کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تازہ پانی کی جھیلوں کو تباہ کیا جارہا ہے اور عدالتی حکم کے باجود اب تک 600 سے زائد جھیلوں اور آبی وسائل پر سے قبضہ ختم نہیں کروایا جاسکا ہے۔ صرف کلنکار جھیل، عمرکوٹ سے ہی تقریبا 200 سے زائد خاندان جھیل میں مچھلی کا شکار اور پانی کا بہاؤ کم ہونے کی وجہ سے دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں۔

(ڈان، 6 فروری، صفحہ17)

آبپاشی

بلوچستان میں بارانی علاقوں میں زرعی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے ایک نیا ڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ مجوزہ سری ٹوئی ڈیم اور اس کا آبپاشی نظام ژوب سے 62 کلومیٹر شمال جنوب میں میر علی خیل یونین کونسل کے مقام پر سری ٹوئی دریا پر قائم قائم ہوگا۔ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک کو جمع کروادیا گیا ہے جو اس پر سرمایہ کاری کے لیے جانچ کررہا ہے۔ ڈیم سے متوقع طور پر 4,027 ہیکٹر زمین کو سیراب کیا جاسکے گا جسے محکمہ آبپاشی و توانائی بلوچستان  تعمیر کرے گا۔

(ڈان، 5 فروری، صفحہ5)

موسمی تبدیلی

ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری کردہ اور بین الاقوامی موسمی ٹیکنالوجی کے ماہر قمرالزماں چوہدری کی مرتب کردہ رپورٹ ’’کلائمٹ چینج پروفائل آف پاکستان‘‘ میں ملک پر موسمی تبدیلی کے اثرارت کے حوالے سے یہ ہولناک انکشافات کیے گئے ہیں کہ اس صدی کے آخر تک پاکستان کا سالانہ اوسط درجہ حرارت تین سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے جس کے نتیجے میں پانی کا سنگین بحران، پن بجلی، گندم اور چاول کی پیداوار میں کمی کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی کی لہروں کی وجہ سے شرح اموات میں بھی اضافہ کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 30 سالوں میں فی سال گرم لہروں کے دورانیے میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمی تبدیلی کے تناظر میں یہ امکان ہے کہ برفانی پہاڑوں کے غیر معمولی پگھلاؤ کی وجہ سے دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلی پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ رواں صدی کے آخر تک سطح سمندر میں مزید 60 سینٹی میٹر اضافہ متوقع ہے جس سے زیادہ تر زیریں ساحلی علاقے(جنوبی کراچی تا کیٹی بندر اور دریائے سندھ کا ڈیلٹا) متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ درجہ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں پانی کے بخارات میں تبدیل ہوجانے کی شرح میں اضافے کی وجہ سے نہری پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 فروری، صفحہ2)

نکتہ نظر

خبروں کا آغاز سندھ میں شروع کیے گئے ایک منصوبے پر لکھے گئے مضمون سے ہوا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کے بے زمین کسانوں کے غم میں گھلی جارہی ہے اور سمجھتی ہے کہ غربت میں کمی وسائل کے پائیدار استعمال اور جاگیردار اور ہاریوں کے درمیان کاغذی کارروائی کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہے۔ سندھ حکومت کا یہ عمل صوبے کے بے زمین کسانوں کے ساتھ سنگین مزاق سے کم نہیں، لیکن اس حکومت سے اس کے سوا توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے جس کے زیادہ تر ارکان خود بڑے بڑے جاگیردار ہیں اور اعلی حکومتی عہدوں پر فائض ہوتے ہوئے بھی قبضہ مافیا کا کردار ادا کررہے ہیں۔ منصوبے کے لیے منتخب کیے گئے تمام آٹھ اضلاع کا شمار سندھ کے غریب پسماندہ اضلاع میں کیا جاتا ہے جہاں کسانوں کی اکثریت صرف اس لیے غربت، بھوک اور غذائی کمی کا شکار ہے کہ وہ بے زمین ہیں۔ صوبے میں کرایہ داری پر مبنی معاہدے میں یورپی یونین اور فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کی دلچسپی شاید یہی ہوسکتی ہے کہ جاگیرداروں کی زمین، ہاریوں کی محنت کو مقررہ مدت تک مستعار لے کر بین الاقوامی منڈیوں کے لیے مخصوص فصلوں یا نباتاتی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ مونسانٹو کی جانب سے پنجاب میں مکئی کی پیداوار میں اضافے کی کوششیں بیان کردہ خدشات کو تقویت دیتی ہیں۔ پیداوار میں اضافے کے زریعے غربت میں کمی کا یہ شیطانی چکر ہمیشہ مونسانٹو اور اس جیسی بیج اور دیگر مداخل بنانے والی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ کا سبب بنتا ہے نہ کہ کسانوں کی۔ ملک بھر میں غربت اور غذائی کمی کے لیے جاری سرکاری منصوبے خود اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ خبروں میں شامل موسمی تبدیلی کے اثرات پر مبنی رپورٹ لمحہ فکریہ ہے خصوصا ارباب اقتدار کے لیے جو سرمایہ دار ممالک کی ایماء پر غیر پائیدار طریقہ پیداوار کو فروغ دے کر آبادیوں کو موسمی اور غذائی بحران کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

ہفتہ وار زرعی خبریں

جنوری 25 تا جنوری 31

زمین

اجارہ گاوں، تحصیل تنگی، ضلع چارسدہ میں کسان عورت نے پولیس کی جانب سے گھر اور زمین سے بیدخل کیے جانے کے خلاف خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگالی۔ اس کے علاوہ ایک درجن سے زائد مزراعین اور پولیس اہلکار تصادم میں زخمی ہوگئے ہیں۔ ضلعی حکام اور مقامی رہائشیوں کے مطابق عورتیں اور بچے اس وقت گھروں سے باہر آگئے جب پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری نے مزارعین کو زمین سے بیدخل کرنے کے لیے طاقت استعمال کرنے کی کوشش کی۔ صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے انتظامیہ نے مزارعین کو زمین اور مکانات خالی کرنے کے لیے مزید 20 دن کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ خالی کرائی جانے والی زمین مقامی جاگیردار کی ملکیت ہے۔ اس کے علاوہ ہوندو گاؤں میں نو مزارعین، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، اس وقت زخمی ہوگئے جب جاگیردار کے مسلح کارندوں نے انہیں زمین سے بیدخل کرنے کے لیے ان کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔ ضلعی انتظامیہ نے دعوی کیا ہے کہ قندھارو، میر احمد گل اور ہوندو گاؤں کی 285 کنال زمین سے مزارعوں کو بیدخل کیا جاچکا ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر متازر خان اور ضلعی پولیس افسر ظہور آفریدی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پولیس نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مزارعوں سے زمین واپس لینے کے لیے کارروائی کی ہے۔

(ڈان، 26 جنوری، صفحہ7)
غذائی و نقد آور فصلیں
اخباری اداریہ کے مطابق درحقیقت پاکستان میں زرعی شعبہ کئی سالوں سے تنزلی کا شکار ہے اور اب ملک دنیا میں فی ہیکٹر کم ترین پیداواری سطح پر آگیا ہے۔ فرانس میں فی ہیکٹر 8.1 ٹن گندم کی پیداوار کے مقابلے پاکستان فی ہیکٹر 3.1 ٹن گندم پیدا کرتا ہے۔ چین میں کپاس کی فی ہیکٹر پیداوار 4.8 ٹن جبکہ پاکستان میں 2.5 ٹن فی ہیکٹر ہے۔ اسی طرح مصر میں گنے کی فی ہیکٹر پیداوار 125.1 ٹن ہے اور پاکستان میں 63.4 ٹن۔ امریکہ میں چاول کی فی ہیکٹر پیداوار 9.2 ٹن کے مقابلے پاکستان میں 2.7 ٹن ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی فصل دیگر ممالک کی پیداوار کے برابر یا اس کے قریب تر بھی نظر نہیں آتی۔ فی ہیکٹر کم پیداوار کے اثرات معیشت پر پڑتے ہیں اور صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ چاول، مکئی، چینی اور چینی سے بنی اشیاء کی موجودہ برآمدات پاکستان کی ممکنہ برآمدی صلاحیت سے کم ہیں۔ زرعی شعبہ اب بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ 42 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے اس کے باوجود تقریباً 50 فیصد پیداوار سرد خانے اور نقل و حمل کی سہولیات نہ ہونے، ناقص طریقوں (اور پروسسنگ نہ ہونے) کی وجہ سے ضائع ہوتی ہے۔
(اداریہ، دی ایکسپریس ٹریبیون، 25 جنوری، صفحہ16)
گندم
سندھ چیمبر آف ایگری کلچر نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سندھ میں گندم کی پیداوار میں کمی ہوسکتی ہے کیونکہ فصلوں کو ضرورت کے مطابق پانی نہیں مل رہا ہے۔ حیدرآباد میں ہونے والے ایوان کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نارا اور روہڑی کنال کے علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہے۔ یہ دونوں نہریں پانچ ملین ایکڑ زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ کاشتکاروں نے اجلاس کے دوران بتایا کہ گنے کی کرشنگ میں تاخیر کی وجہ سے گندم کی کاشت پہلے ہی متاثر ہوچکی ہے۔ سال 2016-17 میں برقت بوائی کے نتیجے میں سندھ میں چھ ملین ٹن گندم کی شاندار فصل ہوئی تھی لیکن اس سال پانی کی کمی اور بوائی میں تاخیر کی وجہ سے پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔ جنرل سیکریٹری سندھ چیمبر آف ایگری کلچر زاہد حسین بھرگڑی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت فصلوں کو تباہ کرنے والے ناقص بیجوں کی فروخت پر پابندی عائد کرے اور بیج کی پیداوار کے سرکاری محکمے کو فعال کیا جائے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 جنوری، صفحہ5)
گنا
سندھ ہائی کورٹ نے صوبہ سندھ کے شوگر مل مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ کاشتکاروں سے 160 روپے فی من قیمت پر گنا خریدیں۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں بینچ نے کاشتکاروں اور مل مالکان کے درمیان گنے کی قیمت کے تنازعے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ملوں کی جانب سے کہا گیا کہ وہ گنا 140 روپے فی من سے زیادہ قیمت پر نہیں خریدسکتے جس پر کاشکاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملیں اس سے پہلے کسانوں کو 162 روپے فی من گنے کی قیمت کی پیشکش کرچکی ہیں۔ کاشتکاروں کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ عدالت یہ یقینی بنائے کہ ملیں اسی قیمت پر گنا خریدیں جس کی وہ پہلے پیشکش کرچکی ہیں۔
(ڈان، 31 جنوری، صفحہ19)
کھجور، کینو
محکمہ زراعت پنجاب نے صوبے میں کھجور کے درختوں کی مفت تقسیم اور بغیر بیج کے کینو کی رعایتی قیمت پر فراہمی کے 780 ملین روپے کے پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کیا ہے۔ منصوبے کے تحت محکمہ زراعت جنوبی پنجاب کے نو اضلاع بھاولپور، ملتان، جھنگ، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، بھکر اور راجن پور میں کسانوں کو کچھور کے درخت مفت فراہم کرے گا جبکہ بغیر بیج کے کینو کے پودے چھ اضلاع سرگودھا، ٹوبہ ٹیگ سنگھ، منڈی بہاؤالدین، ساہیوال، ویہاڑی اور لیہ کے کسانوں کو رعایتی قیمت پر فراہم کیے جائیں گے۔ کسان اس سلسلے میں درخواست فارم ضلعی ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت کے دفتر سے حاصل کرسکتے ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 31 جنوری، صفحہ7)
ڈیری
دودھ کے خوردرہ، تھوک فروشوں اور ڈیری فارمرز نے مشترکہ طور پر کراچی پریس کلب کے باہر دودھ کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کے لیے دھرنا دیا۔ مظاہرین نے دعوی کیا ہے کہ انہیں دودھ کی موجودہ قیمت 85 روپے فی لیٹر کی وجہ سے نقصانات کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ نے گائے اور بھینسوں کو ہارمون کے ٹیکے لگانے سے روک دیا ہے جس کے نتیجے میں دودھ کی پیداوار کم ہوگئی ہے۔ آل کراچی فریش ملک ہولسیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی جمیل کا کہنا تھا کہ ہارمون کے ٹیکوں پر پابندی کے بعد دودھ کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے اور فارمر موجودہ قیمت پر دودھ فراہم نہیں کرسکتے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے حکام کے مطابق
کراچی میں یومیہ 7.5 ملین لیٹر دودھ کی کھپت ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 25 جنوری، صفحہ5)
ماحول
عالمی بینک کی ایک رپورٹ (کلیننگ پاکستانز ایئر : پالیسی آپشنز ٹو ایڈریس دی کاسٹ آف آوٹ ڈور ایئر پلوشن) کے مطابق پاکستان میں شہروں میں فضائی آلودگی دنیا کی بدترین آلودگی میں شامل ہے۔ فضائی آلودگی کے بھیانک اثرات ہر سال نوجوانوں میں 20,000 سے زائد قبل ازوقت اموات اور بچوں میں ہر سال تقریباً 5,000,000 بیماری کے واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں بڑی شہری آبادی والا ملک ہے جہاں توانائی، گاڑیوں کا استعمال اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے جو ناصرف آبادیوں کی صحت اور ان کے معیار زندگی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2007-2011 کے درمیان سلفر ڈائی آکسائیڈ اور سیسہ (لیڈ) کی مقدار عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کے مقررہ معیار سے کہیں زیادہ تھی۔ محکمہ تحفظ ماحولیات پاکستان (پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی) کے سابق ڈائریکٹر آصف شجاع خان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ 2014 میں شائع کی گئی تھی جس کے اعداوشمار میں ہوسکتا ہے کہ اب تک اضافہ ہوگیا ہو۔ فضائی آلودگی میں اضافے کے اہم کردار سیمنٹ، چینی، لوہا، کھاد اور بجلی کے پیداواری کارخانے زیادہ تر فرنس آئل استعمال
کرتے ہیں جس میں سلفر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو فضائی آلودگی کا اہم جز ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 جنوری، صفحہ2)

پالیسی

پنجاب حکومت صوبے میں زرعی پیداوار کی تجارت (مارکیٹنگ) کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک ایگری کلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کررہی ہے اور اس کے علاوہ ایک ورچوئل منڈی بھی متعارف کروارہی ہے۔ یہ اتھارٹی زرعی پیداوار کے تجارتی نظام کو فروغ دینے کے لیے قائم کی جارہی ہے جو مختلف زرائع سے تجارتی ترقی کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ اتھارٹی معاہدے پر مبنی زراعت (کنٹریکٹ فارمنگ) اور زرعی پیداوار کی خرید وفروخت کے دیگر زرائع (مارکیٹنگ چینل) کو فروغ دے گی۔ زرعی پیداوار کی شفاف نیلامی کے بہتر مقامی اور بین الاقوامی طریقوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ اتھارٹی مخصوص زرعی پیداوار کی درجہ بندی، کاشتکاری کے بہتر طریقوں کے استعمال اور نامیاتی طریقہ زراعت کے لئے مختلف معیارات بھی مقرر کریگی۔ اتھارٹی ڈیلرز کی جانب سے زرعی پیداوار کے خریداری مراکز قائم کرنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لائسنس جاری کرے گی۔

(ڈان، 29 جنوری، صفحہ2)

 

نکتہ نظر

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری کی جانب سے کسانوں کو زمین اور گھر سے بیدخل کیے جانے کے دوران ایک کسان عورت کی احتجاجاً خودسوزی اور جاگیردار کے مسلح کارندوں کی جانب سے زمین سے کسانوں کی جبراً بیدخلی ملک میں بڑھتے ہوئے ظلم، جبر، ناانصافی، عدم مساوات کی صورتحال کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی زرعی پیداوار سے جڑی ہے اور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں عوامی خوشحالی، اور ملک سے بھوک و غربت کا خاتمہ صرف اور صرف کسان مزدور مرد و عورتوں میں زمین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم سے ہی ممکن ہے ناکہ ان سے زمین چھین لینے میں۔ غیر پائیدار طریقہ زراعت و صنعت ملک میں آبی وسائل کو تو زہر آلود کرہی رہا ہے اب فضائی آلودگی بھی ملکی آبادیوں کو بری طرح متاثر کررہی ہے جس کی شدت میں سی پیک میں شامل توانائی منصوبوں اور دیگر صنعتوں کے قیام سے مزید اضافے کا امکان ہے۔ ملک کو درپیش جملہ مسائل کا حل زمین، پانی اور دیگر پیداواری وسائل پر عوامی اختیار کی صورت ہی نکالا جاسکتا ہے جس میں وسائل کے پائیدار استعمال سے صاف ستھرا ماحول، بھوک و غربت اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہے۔

Law aiding Monsanto is reason for Delhi’s annual smoke season

By Arvind Kumar | NEW DELHI | 30 December, 2017

Dense smog covers Delhi-Gurugram Expressway in Gurugram on 5 December. IANS
Delhi’s problem of being covered by smoke started right after the Punjab Preservation of Subsoil Water Act in 2009, which delayed the burning of crops till late October, was implemented for the first time.

Until a few years ago, when farmers in Punjab burnt the remnants of the rice crops in their fields in preparation for sowing wheat, the smoke from such fires was confined to Punjab. Back then, farmers burnt the straw in late September and early October. According to a publication of the Indian Council of Social Science Research published in 1991, “At the end of September and in early October, it becomes difficult to travel in the rural areas of Punjab because the air is thick with the smoke of burning paddy straw.” However, in recent years, farmers have delayed the burning until late October.

This delay is crucial and responsible for the smoke being carried all the way to Delhi. An analysis of the wind flow patterns reveals that wind blows into Delhi primarily from the west during the monsoon season, but changes direction in October when it starts blowing into Delhi from the north.

The decision to delay the clearing of the fields was not the choice of farmers, but was forced on them by the Punjab government, which passed the Punjab Preservation of Subsoil Water Act in 2009. According to this law, farmers can no longer sow rice in April, but have to wait until the middle of June to do so. Haryana too has copied Punjab and passed a similar law. Rice has a 120-day period between germination and harvest, and the restriction on sowing the grain means that the fields would be harvested and cleared only in October, by which time the direction of the wind would have changed. In what has turned out to be a real world example of the Butterfly Effect, Delhi’s problem of being covered by smoke started right after this law was implemented for the first time. Before this law was passed, the problem in Delhi was limited to vehicular and industrial pollution, apart from smoke from bonfires in winter, and there were no reports of the entire metropolitan area being enveloped by smoke.

This piece of legislation was passed ostensibly to preserve groundwater, the depletion of which was blamed on rice fields, which supposedly not only used too much water, but also lost a significant quantity of water to evaporation, but this argument is a very tenuous one. According to the International Water Management Institute (IWMI), water in rice fields contributes to recharging the groundwater and very little of it is lost to evaporation. The data from Uttar Pradesh in IWMI’s analysis shows that rice fields in the state contributed to increasing the level of the water table, thus supporting the claim that water in rice fields replenishes the aquifers.

The group that has been primarily responsible for exerting pressure to move away from growing rice in the name of “crop diversification” is the United States Agency for International Development (USAID), which operates out of the American embassy. Over a period of several years, it has used the excuse of preventing the decline of groundwater to push this agenda. USAID has a worldwide reputation of behaving like a front group for American multinational corporations such as Monsanto. Former American diplomat Jeanine Jackson recently justified her intervention in favour of Monsanto when she served as the American ambassador to Burkina Faso by claiming that the advocacy of American businesses and investments was the “number one task” for ambassadors.

It should, therefore, come as no surprise that Monsanto will be the primary beneficiary of USAID’s purported solution for Punjab’s problems. According to their solution, farmers need to stop growing rice and replace it with Monsanto’s genetically modified (GMO) maize.

India’s surplus food grain supply is an uncomfortable fact for Monsanto and other proponents of GMO food, who insist that the world would face a shortage of food grains if not for genetically engineered plants sold by Monsanto. It is in this light that one must view Monsanto’s collusion with the Punjab government and their joint efforts targeting the production of rice in India. In 2012, the then Punjab Chief Minister asked Monsanto to set up a research centre for creating maize seeds and announced plans to reduce the area under the cultivation of rice by around 45% in order to grow maize. Monsanto typically co-opts not only politicians, but also members of the academia and converts them into its shills. Little wonder then that the passage of the law in Punjab was preceded by fear mongering about the cultivation of rice, which reached a feverish pitch a few years back in the form of a campaign advertisement from a group of “eminent scientists” who appealed, “Chonne hetho rakba katao, Pani Bachao, Punjab Bachao (Reduce the area under rice, Save Water, Save Punjab)”.

Monsanto now offers the replacement of rice by its GMO crops as a solution that will increase the level of subsoil water, but the multinational corporation is the cause of the problem. Its fertilizers and pesticides have accumulated in the ground over the years, and this has led to poor retention of moisture in the soil, leading farmers to pump out excessive amounts of underground water. The new law, reducing the time period during which farmers are permitted to grow rice, has further accentuated this problem.

Monsanto now offers the replacement of rice by its GMO crops as a solution that will increase the level of subsoil water, but the multinational corporation is the cause of the problem. Its fertilizers and pesticides have accumulated in the ground over the years, and this has led to poor retention of moisture in the soil, leading farmers to pump out excessive amounts of underground water. The new law, reducing the time period during which farmers are permitted to grow rice, has further accentuated this problem. Farmers had developed their own method of crop diversification by growing multiple varieties of rice and staggering the time of sowing these varieties over a period of two months beginning in April. The loss of the ability of farmers to easily diversify their rice crop, combined with the fact that late sown rice is vulnerable to diseases and pests has created a fear in farmers of losing their crop, leading them to use greater amounts of pesticides and fertilizers, further degrading the soil and its ability to retain water.

Monsanto’s GMO products are known to cause several problems. Its maize is known for killing bees, leading to a shortage of seeds of plants such as onions which depend on bees for pollination. Several European countries have banned its maize as its pollen has been responsible for killing entire colonies of bees. Monsanto’s GMO maize is also not fit for human consumption and is primarily used as chicken feed. Likewise, most of Monsanto’s wheat is used to feed animals because it is unfit for human consumption. Thus the government’s plan to replace the cultivation of rice—which is the staple food for a large section of the population of India—by Monsanto’s chicken feed is a cynical move that will result in government created food shortages in the country.

The problems related to the low levels of groundwater and the inability of the soil to retain moisture must be solved, but the solution should not be a drastic one, such as creating famines by banning food items such as rice. Before the level of groundwater fell in Punjab, the state experienced a problem of water-logging, which was partially solved by pumping out the excess groundwater. Thus, it is clear that an acceptable level of the water table can be maintained by finding a proper balance between the two extreme situations, without replacing any crop.

In 2012, the then Punjab Chief Minister asked Monsanto to set up a research centre for creating maize seeds and announced plans to reduce the area under the cultivation of rice by around 45% in order to grow maize.

Today, farmers burn the residual straw from the cultivation of rice as it is an affordable method of clearing the fields. A ban on such burning will destroy the livelihood of poorer farmers and give way to industrial farming, with a few large corporations such as Monsanto taking over all the land and resources. The government has already helped large corporations through a slew of measures and it must not take any more steps that run the small farmers out of business. Instead, if it wants to prevent burning, it must help small farmers clear the fields between the rice and wheat seasons and help them implement proper water management solutions. This would mean going against the rules set forth by the World Trade Organization, which has mandated that no business other than American multinational corporations can receive aid or subsidies from the government, and any subsidy given to American businesses will be done under the cover of “research grants” funnelled through universities. India should completely ignore these rules and fix its problems, not the least of which is the yearly phenomenon of smoke cover over Delhi.

The Delhi metropolitan area has one of the highest agglomerations of population in the world, and suffocating the people of the area on an annual basis should be treated as a crime against humanity, especially when the cause for such suffocation can be easily controlled. Although smoke from fields remaining within Punjab is also a problem that needs to be addressed, it is not as severe a problem as in Delhi, as the smoke in Punjab would be spread over a larger area with a much lower population density. For now, a step that should be taken immediately in order to prevent Delhi from becoming a gas chamber for several days every November, is to revoke what should rightfully be called the Monsanto Profit Act of 2009 and permit farmers to sow their rice crop whenever they deem it fit to do so.

http://www.sundayguardianlive.com/news/12191-law-aiding-monsanto-reason-delhi-s-annual-smoke-season

Several injured in tenants-police clash in Charsadda

January 26, 2018

CHARSADDA: A tenant woman set herself on fire in protest against police action to evict them from houses and land in Ijara village on Thursday while over a dozen people, including police personnel, were injured in clashes with the peasants and their female family members. The woman, who is said to have received severe burns, was taken to the tehsil headquarters hospital.

According to the district administration officials and local residents, women and children of tenants came out of their houses when the police and FC personnel tried to use force to evict them from the land occupied by them in Ijara village of Tangi tehsil.

During the protest, a woman sprinkled kerosene oil on her body and set herself on fire. She got burn injuries and was rushed to the THQ hospital in critical condition.

Later, sensing gravity of the situation the administration decided to give 20 more days to the tenants to leave the land and houses, which belonged to landlords of the area. The decision was made after a meeting with representatives of tenants.

Moreover, nine tenants, including women and children, were injured when armed men of the landlords stormed their houses to evict them in Hando village.

The district administration claimed that tenants had been removed from 285 kanals in Qandaharo, Mir Ahmed Gul and Hando villages.

Deputy commissioner Mutazir Khan and district police officer Zahoor Afridi while addressing a joint press conference said that the police personnel had taken action to reclaim the land occupied by peasants in the light of Peshawar High Court verdict.

They said that the land had been handed over to the owners. They said that some tenants were also arrested during the action.

Published in Dawn, January 26th, 2018

ہفتہ وار زرعی خبریں

January 18-24, 2018

گندم

وزیر خوراک سندھ نثار کھوڑو نے سندھ اسمبلی کو بتایا ہے کہ 2008 سے 2014 کے درمیان 630 ملین روپے کی سرکاری گندم چوری یا غبن کرلی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے بھر کے مختلف گوداموں سے 130,000 سے زیادہ گندم کی بوریاں چوری یا غبن کی گئی ہیں۔ بدعنوانی کے مقدمات متعلقہ اداروں کو بھیج دیے گئے ہیں۔ نو سرکاری افسران کو برطرف کردیا گیا ہے، تین پر فردجرم عائد کی جاچکی ہے، چار افسران کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ 27 مقدمات زیر التواء ہیں۔
(ڈان، 23 جنوری، صفحہ18)

آبپاشی

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل جاوید علی شاہ اور سندھ کے ارکان قومی اسمبلی کے درمیان صوبہ سندھ میں پانی کے مسئلے پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ نواب یوسف تالپور کے توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر یہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ اجلاس میں ارسا حکام نے بتایا کہ کم بارشوں کی وجہ سے ربیع کے موسم میں 26 فیصد پانی کی کمی کا اندازہ لگایا گیا تھا لیکن پانی کی کمی بڑھ کر 36 فیصد ہوگئی۔ اجلاس میں سیکریٹری وزارت آبی وسائل کا کہنا تھا کہ اگر سندھ کو پانی کی تقسیم کے طریقۂ کار پر تحفظات ہیں تو وہ مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع کرسکتا ہے۔ اجلاس میں پنجاب کی نمائندگی کرنے والے ارسا کے سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ آج نہیں تو کل پاکستان کو کالا باغ ڈیم بنانا ہوگا، جس پر نواب یوسف تالپور کا کہنا تھا کہ ’’اس کے لیے پہلے پنجاب کو پاکستان سے الگ کرنا ہوگا اس کے بعد کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جا سکتا ہے‘‘۔
(بزنس ریکارڈر، 18 جنوری، صفحہ3)

سندھ حکومت نے 85 سال پرانے سکھر بیراج کی بحالی اور اس کی مدت استعمال کو بڑھانے کے لیے عالمی بینک سے مدد مانگی ہے۔ بیراج کی بحالی کے منصوبے پر 100 ملین ڈالر لاگت کا تحمینہ لگایا گیا ہے اور اسے چار سال میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بیراج پر کام محکمہ آبپاشی سندھ بیراجوں کو بہتر بنانے کے منصوبے (بیراجز امپرومنٹ پرجیکٹ) کے تحت کرے گا۔
(ڈان، 21 جنوری، صفحہ 19)

غربت

ادارہ شماریات پاکستان نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ سال 2014-15 میں کیے گئے سروے کے مطابق ملک میں 500,000 سے زیادہ گریجویٹ نوجوان بے روزگار ہیں۔ اسلام آباد کے مختلف کالجوں سے فارغ التحصیل 6,776 نوجوان بے روزگار ہیں جن میں 3,819 مرد اور 2,957 عورتیں ہیں۔ سب سے زیادہ بیروزگار گریجویٹ پنجاب میں رہتے ہیں جہاں 310,000 نوجوان بیروزگار ہیں جن میں 210,000 عورتیں اور 99,874 مرد ہیں۔ پنجاب کے بعد سندھ میں سب سے زیادہ 97,222 گریجویٹ نوجوان بے روزگار ہیں جن میں 53,673 مرد اور 43,549 عورتیں ہیں۔ اس طرح خیبر پختونخوا میں 83,367 سے زیادہ نوجوان بے روزگار ہیں جن میں سے 36,548 مرد اور 46,819 عورتیں ہیں جبکہ بلوچستان میں 11,000 سے زیادہ نوجوان بے روزگار ہیں۔ ملک میں بیروزگار نوجوانوں کے تازہ اعداوشمار 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج مرتب ہونے کے بعد دستیاب ہونگے۔
(ڈان، 18 جنوری، صفحہ4)

گنا

سندھ کی مختلف کسان تنظیموں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کسانوں کے مفادات کے تحفظ میں ناکامی پر شوگر کین کنٹرول بورڈ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رہنماؤں نے سندھ حکومت کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گنے کی قیمت دوبارہ مقرر کرنے کے منصوبے مسترد کردیا ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت چھوٹے کسانوں کی تنظیموں کے ساتھ ایک نیا بورڈ تشکیل دے تاکہ بورڈ کسانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرسکے۔ سندھ ایگری کلچر ریسرچ کونسل کے صدر پالھ ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں پر جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں اور ملوں کی جانب سے قیمت میں کٹوتی بند کی جائے۔
(ڈان، 19 جنوری، صفحہ19)

رحیم یار خان اور بہاولپور اضلاع کی شوگر ملوں کی جانب سے گنے کی خریداری میں ناکامی کے خلاف قومی شاہراہ پر کسانوں نے احتجاجی مظاہر کیا۔ مظاہرین نے حکومت مخالف نعرہ لگائے اور ملوں کی جانب سے گنا نہ خریدنے کی صورت میں فصل کو آگ لگانے کی دھمکی دی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مل مالکان بشمول تحریک انصاف کے جہانگیر ترین نے عدالت میں ضمانت دی تھی کہ وہ ملوں کے اطراف تمام گنے کی فصل خریدیں گے لیکن گنے کی خریداری کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
(ڈان، 19 جنوری، صفحہ2)

سندھ حکومت شوگر مل مالکان اور کاشتکاروں کے درمیان سال 2017-18 کے لیے گنے کی قیمت پر اتفاق پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ مل مالکان نے 172 روپے فی من گنے کی قیمت ادا کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ وہ ملوں کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کی مقرر کردہ قیمت 172 روپے فی من بھی قبول نہیں کرسکتے۔ سیکریٹری زراعت سندھ کا کہنا ہے کہ معاملے پر پیش رفت نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں فریق اپنے موقف پر قائم ہیں۔
(ڈان، 24 جنوری، صفحہ19)

کپاس

پیداوار میں اضافہ کے لئے حکومت کی جانب سے کپاس پر تحقیقی کے لیے 10 بلین روپے مختص کیے جانے کا اعلان متوقع ہے۔ اخبار سے بات کرتے ہوئے ایک اعلی حکومتی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایک اعلی سطح کے اجلاس میں گزشتہ کئی سالوں سے جمود کی شکار کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے ایک منصوبہ زیر غور ہے۔ اس حوالے سے منصوبہ بندی کمیشن میں ہونے والے اجلاس میں صوبہ سندھ اور پنجاب کے نمائندوں کے علاوہ دیگر شراکت داروں نے بھی شرکت کی ہے۔ رواں سال بھی مقررہ ہدف 12.6 ملین گانٹھوں کے مقابلے 11.1 ملین گانٹھیں کپاس کی پیداوار متوقع ہے۔ کپاس پر تحقیق کا یہ دس سالہ منصوبہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔ منصوبہ کے تحت حکومت کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے تحقیقی سرگرمیوں پر ہر سال ایک بلین روپے خرچ کرے گی۔ حکام کے مطابق منصوبے کا باضابطہ اعلان مئی میں اگلے بجٹ کے موقع پر متوقع ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 19 جنوری، صفحہ20)

ماہی گیری

پاکستانی حدودد میں شکار کرنے والے 17 بھارتی ماہی گیروں کو پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے گرفتار کرلیا ہے۔ ماہی گیروں کی تین کشتیاں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تمام ماہی گیروں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے بیشتر ماہی گیروں کا تعلق بھارتی ریاست گجرات سے ہے۔
(ڈان، 20 جنوری، صفحہ17)

ماہی گیروں کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم کے زیر انتظام کراچی پریس کلب پر ماہی گیروں نے سندھ میں 600 تازہ پانی کے ذخائر اور جھیلوں پر قبضے کے خلاف بھوک ہڑتال کی ہے۔ صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں بھی چار روزہ بھوک ہڑتال جاری ہے۔ بڑی تعداد میں ہڑتالی مظاہرین نے وزیر ماہی گیری و مال مویشی سندھ محمد علی ملکانی اور جاگیرداروں کے خلاف نعرے لگائے جنہوں نے مبینہ طور پر جھیلوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس موقع پر غیرسرکای تنظیم کے رہنما محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’’سندھ اسمبلی نے 2011 میں اس حوالے سے ایک قانون منظور کیا تھا جس میں صوبہ بھر میں جھیلوں اور تازہ پانی کے ذخائر پر قبضہ غیرقانونی قرار دیا گیا تھا اور ان ذخائر پر ٹھیکیداری نظام ختم کردیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے بجائے اس کے کہ وزیر ماہی گیری و مال مویشی سندھ اس قانون پر عملدرآمد کرائیں وہ خود ٹھٹھہ میں تاریخی جھیل پر قبضہ کرکے ماہی گیروں کا حق چھین رہے ہیں‘‘۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 23 جنوری، صفحہ5)

نکتہ نظر

اس ہفتے مرتب کردہ خبروں میں صوبہ سندھ خبروں میں نمایاں ہے۔ سندھ حکومت زرعی شعبے میں، معاملہ چاہے گنے کی قیمت کا ہو یا گندم کی چوری کا، ہر محاز پر ناکام نظر آتی ہے۔ صوبے میں سرکاری اداروں کی بدعنوانی کے چرچے عام تو تھے ہی اس پر خود وزیر خوراک نے اعتراف کرکے مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ صوبے میں بچے غذائی کمی اور بھوک کے نتیجے میں بیماریوں کا شکار ہوکر دم توڑ رہے ہیں اور دوسری طرف گندم کی چوری اور بدعنوانی کے زریعے کروڑوں روپے سرکاری حکام کی جیبوں میں جارہے ہیں۔ سندھ بھر کی جھیلوں اور دیگر آبی ذخائر سے روزگار حاصل کرنے والے ماہی گیر گزشتہ کئی ماہ سے مبینہ طور پر صوبائی وزیر کی سرپرستی میں جاری قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن ارباب اقتدار ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ماہی گیر، چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کا استحصال اسی جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے پر مشتمل حکومت اور ان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جسے صرف اور صرف عوامی جدوجہد کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔

SEVERAL INJURED IN TENANTS-POLICE CLASH IN CHARSADDA

Dawn, January 26, 2018

CHARSADDA: A tenant woman set herself on fire in protest against police action to evict them from houses and land in Ijara village on Thursday while over a dozen people, including police personnel, were injured in clashes with the peasants and their female family members. The woman, who is said to have received severe burns, was taken to the tehsil headquarters hospital.

According to the district administration officials and local residents, women and children of tenants came out of their houses when the police and FC personnel tried to use force to evict them from the land occupied by them in Ijara village of Tangi tehsil.

During the protest, a woman sprinkled kerosene oil on her body and set herself on fire. She got burn injuries and was rushed to the THQ hospital in critical condition.

Later, sensing gravity of the situation the administration decided to give 20 more days to the tenants to leave the land and houses, which belonged to landlords of the area. The decision was made after a meeting with representatives of tenants.

Moreover, nine tenants, including women and children, were injured when armed men of the landlords stormed their houses to evict them in Hando village.

The district administration claimed that tenants had been removed from 285 kanals in Qandaharo, Mir Ahmed Gul and Hando villages.

Deputy commissioner Mutazir Khan and district police officer Zahoor Afridi while addressing a joint press conference said that the police personnel had taken action to reclaim the land occupied by peasants in the light of Peshawar High Court verdict.

They said that the land had been handed over to the owners. They said that some tenants were also arrested during the action.

https://www.dawn.com/news/1385383

THREAT TO STOP SELLING BT COTTON SEEDS IRRESPONSIBLE: MAHYCO MONSANTO

17 January 2017

The war of words between Mahyco Monsanto Biotech (India) Private Limited (MMBL) and the National Seed Association of India (NSAI) continues with MMBL issuing a rebuttal to the allegation made by the latter on the failure of Bollgard II and its consequences.

MMBL has contended that it is not responsible for development of resistance in pink bollworm and its acceleration or the consequences (compensation claims). It blamed the NSAI for threatening to stop sales of Bt cotton seeds from this month.

“Your threat to advise your members to stop selling Bt cotton seeds from January 2018 is irresponsible and in complete disregard of the interests of farmers,” Satyender Singh, Director of MMBL, said in the letter.

The five-page letter gave a point-by-point rebuttal to NSAI’s allegations against Monsanto and MMBL on a host of issues that included payment of compensations and efficacy of Bollgard II.

MMBL alleged that the NSAI was trying to deflect responsibilities on development of resistance caused by the failure of its member companies in propagating prescribed practices.

Reiterating that resistance was a natural and evolutionary adaptation of insects and pests to stress factors, he said propagation and adoption of recommended practices was a combined responsibility of all stakeholders in cotton production and not just that of the technology provider.

Rejecting the claim that it kept mum on the growing resistance, he said both the regulator and the seed firms had been informed about the incidence.

The firm, which sub-licences it to Indian seed companies, also wrote to Radha Mohan Singh, Union Minister of Agriculture and Farmers’ Welfare, explaining to him about the fallacies in the NSAI allegations.

The NSAI reiterated its threat on stoppage of seed sales. “We make it clear that until and unless there is clarity on the role and responsibility, there is no question of selling Bt cotton seeds,” Kalyan B Goswami, Director-General of NSAI, said.

“You accept that resistance is natural and evolutionary but go on charging trait value for the technology despite its failure,” he argued.

He said that the resistance was not restricted to only a few areas as claimed by the firm. “The regulatory authorities have confirmed that BGII failure was observed in more than 90 per cent of the cotton growing area in the country,” he pointed out.

http://m.thehindubusinessline.com/economy/agri-business/threat-to-stop-selling-bt-cotton-seeds-irresponsible-mahyco-monsanto/article10038022.ece

ہفتہ وار زرعی خبریں

January 11-17, 2018

صنعتی طریقہ زراعت

ایک مضمون کے مطابق صوبہ پنجاب میں زراعت میں ڈرونز کا استعمال متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ یہ ڈرونز کھیتوں میں کیڑے مکوڑوں اور جراثیم کا خاتمہ زرعی زہر کے چھڑکاؤ کے ذریعے کرینگے۔ اس کے علاوہ حساس آلات (الیکٹرونک سینسرز) کے ذریعے نہروں سے پانی چوری کی نگرانی بھی زیر غور ہے۔ اس مقصد کے لیے حکام پہلے ہی بھاولپور میں نہری نظام کے کچھ حصے کو اس منصوبے کی آزمائش کے لیے منتخب کرچکے ہیں جہاں ان حساس آلات کی آزمائش جاری ہے۔ عالمی بینک نے حال ہی میں پنجاب میں 300 ملین ڈالر لاگت کے زرعی منڈی کے استحکام اور دیہات کو تبدیل (اسٹرینتھگ مارکیٹ فار ایگری کلچر اینڈ رورل ٹرانسفورمیشن) کرنے کے پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ زرعی ڈرون اور نہروں میں حساس آلات کی تنصیب عالمی بینک کے اس پانچ سالہ منصوبے کا حصہ ہے یا نہیں۔ سی پیک میں شامل ہونے سے قبل ہم کارپوریٹ زراعت کے بارے میں سنتے آرہے ہیں، جس کے تحت بڑے زمینی رقبے غیر ممالک کو لیز پر دیے گئے خصوصا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو۔ لیکن ہم اب تک نہیں جانتے کہ کس ملک کو کونسی زمین، کن شرائط پر دی گئی اور اس سے زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے کیا مدد ملی؟ اب سی پیک کا بنیادی منصوبہ ہمارے سامنے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ پاکستان چین کے ساتھ زرعی ترقی کے لیے بڑے پیمانے اشتراک کررہا ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہوا کہ ایک بار پھر زراعت کو جدید بنانے اور اسے ترقی دینے کے لیے ہماری زمین چینی کمپنیوں کو دی جائے گی۔ کیا عوام کبھی ان منصوبوں کے ثمرات جان پائیں گے؟ عوام کو کیوں آگاہ نہیں کیا جاتا کہ پاکستان نے غیر ملکی اشتراک سے زرعی شعبے میں کیا کامیابی حاصل کی ہے؟ وفاقی اور صوبائی حکام قوم کے سامنے مکمل لائحہ عمل رکھیں کہ کس طرح حکومت زراعت میں انقلاب برپا کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے اور اس میں ہمارے دوست ممالک بشمول چین کیا کردار ادا کرینگے تو یہ بڑی عوامی خدمت ہوگی اور اس سے عدم اعتماد کی فضاء کا خاتمہ ہوگا جو بدقسمتی سے ہمارے زرعے شعبے میں انقلابی تبدیلی کے ہر منصوبے پر عملدرآمد میں رکاوٹ کی وجہ ہے۔
(محی الدین عظیم، ڈان، 15 جنوری، صفحہ4، بزنس اینڈ فنانس)

زرتلافی

سندھ بینک نے محکمہ زراعت سندھ کی ہدایت پر مقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹر پر کسانوں کو دو سے تین لاکھ روپے زرتلافی دینے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ سندھ بینک زرتلافی کے لیے اہل کسانوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کریگا۔ ٹریکٹر پر زرتلافی مختص کردہ ضلعی کوٹہ کی بنیاد پر اس ضلع میں زیر کاشت رقبہ کی مناسبت سے جاری کی جائے گی۔ کسان کو ان ہی اضلاع میں درخواستیں جمع کرانی ہونگی جہاں انکی زمین ہے۔ خبر کے مطابق یہ زرتلافی ان کسانوں کو دی جائے گی جو سندھ کے رہائشی ہوں اور لازمی طور پر 25 ایکڑ سے زائد زمین کے مالک ہوں۔
(بزنس ریکارڈر، 16 جنوری، صفحہ2)

پھل سبزی

محکمہ زراعت پنجاب، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن نے تعاون پر مبنی سہہ فریقی مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ معہدہ کے تحت تینوں فریقین شعبہ باغبانی میں سپلائی چین کی بہتری، پھل و سبزیوں کی برآمدات میں اضافے اور تحقیق و ترقی کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کے منصوبوں کے لئے تعاون اور مدد فراہم کرینگے۔ باغبانی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لئے محکمہ پنجاب چار سالہ پروگرام ترتیب دیگا۔ اس کے علاوہ باغبانی شعبے میں تحقیق و ترقی کے لئے پنجاب میں ایک مرکز بھی قائم کیا جائیگا۔

(بزنس ریکارڈر، 17 جنوری، صفحہ7)

ڈیری
سپریم کورٹ نے منڈی میں دستیاب تمام کمپنیوں کے ڈبہ بند دودھ کے نمونے جمع کرنے اور ان کی پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ سے جانچ کرانے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صوبہ سندھ میں ڈبہ بند دودھ کی پیداوار، اس کی عمل کاری (پرسسنگ) میں کمی سے متعلق انسانی حقوق کے حوالے سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ’’یہ (ڈبہ بند) دودھ نہیں ہے یہاں تک کہ یہ دودھ کا متبادل بھی نہیں ہے‘‘۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 14 جنوری، صفحہ5)

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبے بھر میں جاری کارروائی کے تحت 144تحصیلوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر دوھ کی جانچ کے بعد 40,000 لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ ضائع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں نو ہزار لیٹر، گجرانوالہ میں 16 ہزار لیٹر، بہاولپور میں 18,20 لیٹر، ملتان 17,00 لیٹر، خانیوال میں 380 لیٹر، ڈیرہ غازی خان میں 1388 لیٹر، فیصل آباد میں 7,000 لیٹر جبکہ وہاڑی اور بہاولنگر کے اضلاع میں 560 لیٹر دودھ تلف کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نورلامین مینگل کے مطابق پانچ سالوں کے اندر اندر کھلے دودھ کی فروخت پر مکمل پابندی ہوگی اور دودھ صرف پیک شدہ ہی دستیاب ہوگا۔
(ڈان، 15 جنوری، صفحہ2)

خشک دود

تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ عنایت اللہ خان خٹک نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ایکٹ 2010 میں ترمیم کا مسودہ پیش کیا ہے۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ تجارتی طور پر تیار کردہ بچوں کا خشک دودھ (فارمولا ملک) کوڈیکس الیمنٹریس اسٹینڈرڈز کے مطابق تیار کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس دودھ سے کم سے کم مجموعی غذائیت ضرور حاصل ہوتی ہو۔ یہاں کئی کمپنیوں (برانڈز) کے خشک دودھ دستیاب ہیں جن میں چربی اور لحمیات ماں کے دودھ سے کم پائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اس حقیقیت سے انکار نہیں کرسکتا کہ دودھ کا ایک ڈبہ ایک بچے کو ماں کے دودھ جیسی انتہائی مناسب خوراک سے محروم کرتا ہے۔ پاکستان ہر سال 40 ملین ڈالر بچوں کا خشک درآمد کرنے پر خرچ کرتا ہے اور منڈی میں ایسے 160 مختلف اقسام کے خشک دودھ دستیاب ہیں۔ مجوزہ ترمیم میں شفارش کی گئی ہے کہ بچوں کے خشک دودھ کی فروخت کو محدود کرنا چاہیے اور اس کی دستیابی ڈاکٹری نسخے سے مشروط ہونی چاہیے جس سے بچوں کے خشک دودھ کے نقاصندہ اثرات کم ہوسکتے ہیں۔
(ڈان، 17 جنوری، صفحہ4)

گنا

سپریم کورٹ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر مل کو عدالت میں اپنی پیشکش جمع کروانے کی ہدایت کی ہے جس میں یہ وضاحت پیش کی جائے کہ مل کس طرح اپنے علاقے سے گنے کی پوری فصل سرکاری قیمت 180 روپے فی من پر خریدے گی۔ بصورت دیگر عدالت لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر بند ہونیوالی ملوں کو کرشنگ شروع کرنیکی اجازت دینے پر غور کریگی۔ عدالت نے اگلی سماعت پر جہانگیر ترین کو خود عدالت میں پیش ہونیکا حکم بھی دیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ وہ اس وقت تک یومیہ بنیادوں پر اپنے کمرے میں اس مقدمے کی سماعت کرینگے جب تک جے ڈی ڈبلیو شوگر مل کی جانب سے گنے کی تمام فصل نہیں خریدلی جاتی۔ گنے کی خریداری پر 500 ملین سے ایک بلین روپے تک لاگت آئے گی جو اعتزاز احسن کے موکل (جہانگیر ترین) کے لیے معمولی رقم ہے۔
(ڈان، 11 جنوری، صفحہ16)

سندھ ہائی کورٹ نے کاشتکاروں اور مل مالکان کے درمیان گنے کی قیمت پر پائے جانیوالے تنازعہ کے معاملے پر 15 جنوری سے یومیہ بنیادوں پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گنے کے کاشتکاروں نے حکومت سندھ کی مقرر کردہ قیمت 182 روپے فی من سے کم قیمت ادا کئے جانے پر گزشتہ ماہ عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے 23 دسمبر کو شوگر ملوں کو فی من گنے کی قیمت 172 روپے ادا کرنے اور بقیہ رقم 10 روپے فی من عدالت میں جمع کرانیکا حکم دیا تھا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 12 جنوری، صفحہ4)

سندھ ہائی کورٹ نے شوگر مل مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے حکم تک کاشتکاروں سے 172 روپے فی من قیمت پر گنا خریدیں۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو دن میں تمام شراکتداروں اور گنا کمشنر کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کرے اور ایک ہفتے کے اندر گنے کی قیمت کا اعلامیہ جاری کرے۔ کاشتکاروں کے مطابق ملوں نے 130 روپے فی من سے زیادہ قیمت دینے سے انکار کردیا ہے۔
(ڈان، 17 جنوری، صفحہ19)

نکتہ نظر
اس ہفتے مرتب کردہ خبروں میں بھی صوبہ پنجاب میں زرعی شعبے میں ترقی کے لیے مختلف شعبہ جات میں کوششوں کا عنصر نمایاں ہے۔ خبروں میں زراعت میں قرض لے کر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ملکی پیداواری وسائل کی بندر بانٹ کے حوالے سے شامل کیا گیا مضمون حکومتی ترجیحات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ پنجاب حکومت کی زرعی پیداوار خصوصاً پھل سبزی کی برآمد میں اضافے کے لیے منصوبہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں زرعی پیداوار بہت زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے، چاہے گنا ہو یا گندم، چاول ہو یا آلو ملکی ضروریات سے زیادہ ہی ہے۔ حکومتی سرمایہ دار دوست عالمگیریت پر مبنی زرعی پالیسیوں کے نتیجے میں پیداوار زیادہ ہونے کے باوجود کسان بدحال ہے اور آمدنی تو دور پیداواری لاگت بھی وصول نہیں کرپاتا۔ یہاں اس حوالے سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا صرف پیداوار میں اضافے سے ملک کے چھوٹے اور بے زمین کسان خوشحال ہوجائیں گے؟ اگر ایسا ہے تو گنے کی اضافی پیداورا کے باوجود کسان کیوں سراپا احتجاج ہیں؟ یقیناًحکومتی زرعی پالیسیاں طبقہ اشرافیہ اور بین الاقوامی زرعی کمپنیوں کے کاروبار اور منافع میں اضافے کی راہ ہموار کررہی ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے 25 ایکٹر سے زائد زمین رکھنے والوں کو ٹریکٹر کی خریداری پر زرتلافی دینے کا منصوبہ سندھ اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ صوبہ سندھ میں کسانوں کی اکثریت بے زمین کسانوں پر مشتمل ہے یا ایسے کسانوں پر جو بہت کم زمین کے مالک ہیں۔ ایسے میں بجائے اس کے کہ ان چھوٹے اور بے زمین کسانوں کو مراعات دی جائیں 25 ایکڑ سے زیادہ زمین رکھنے والوں کو مراعات دینے کی منصوبہ بندی سندھ حکومت کی جاگیردارنہ سوچ کی عکاس ہے۔ چھوٹے اور بے زمین کسانوں میں غربت، بھوک، بیروزگاری اور قرض جیسے عفریت ایسی ہی کسان دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

ڈؤنلڈ ٹرمپ،بس اب اور نہیں! پاکستان کسان مزدور تحریک مرکزی رابطہ کار الطاف حسین

میں الطاف حسین پاکستان کسان مزدور تحریک کا مرکزی رابطہ کار ہوں، خیبر پختون خوا میں ضلع لوئر دیر سے تعلق ہے۔ پی کے ایم ٹی بے زمین اور چھوٹے کاشتکاروں مزدوروں کی نمائندہ جماعت ہے جو کہ پاکستان کے تین صوبوں کے پی کے، سندھ اور پنجاب میں 16 اضلاع میں کام کررہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ صدر متحدہ امریکہ کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیں ڈبل کراس کیا۔ ہم نے آپ کو 33 ارب ڈالر دیا۔ آپ نے ہمارا کام نہیں کیا۔ ہماری حکومت کہتی ہے کہ ہمیں 15 ارب ڈالر ملے ہیں او رہمارا نقصان 110 ارب ڈالر کا ہوا ہے۔

جب سے پاکستان بنا ہے۔ امریکہ نے ہمیں نقصان دیا ہے۔ لیکن ایک کسان ہونے کے ناطے میں زراعت پر ہونے والے اثرات پر بات کروں گا۔ 10-9-2008 سے لے کر 2011 تک ہونے والے نقصان کی بات کروں گا۔

آپ لوگوں کے علم میں ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع ضلع لوئر دیر ، ضلع اپر دیر، ضلع شانگلہ، ضلع سوات اور ضلع بنیر اللہ تعالیٰ نے باغات اور سبزیوں کے لیے بنائے ہیں۔ باغات میں آڑو، خوبانی، آلوچہ، فصلوں میں گندم، مکئی اور چاول سبزیوں میں پیاز ٹماٹر جو کہ بڑے پیمانے پر اگائے جاتے ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر لگائے جانے والے میوے، سبزیاں اور فصلیں ہیں۔

لوگ وہاں سے نکل آئے آئی ڈی پیز بن کر گھر بار چھوڑ کر، تیار فصلیں، باغات اور سبزیاں رہ گئی۔ میرا اپنا باغ آلوچہ ؍ آلوبخارہ کا ہے۔ اٹھارہ لاکھ آمدن آتا ہے۔ مٹی کا خوراک بن گئے۔ عربوں روپوں کا نقصان ہوا اب ہمارے باغات پانی نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ گئے۔ کرفیو لگا رہتا تھا جس کی وجہ سے مارکیٹنگ نہیں ہوسکی۔ عربوں کا نقصان ہوا۔ آئی ڈی پیز بن کر پانچ سے چھ مہینے اسکولوں، حجروں میں رہ کر مصیبتیں اٹھائیں۔ نہ وقت پر کھانا، نہ وقت پر سونا، لوگ ذہنی مریض بن گئے۔ جب واپس آئے تو کسی کا باپ لاپتہ، کسی کا بھائی اور بیٹا لاپتہ، گھر برباد، فصلیں برباد، باغات برباد، مویشی مرگئے۔ آئی ڈی پیز بن کر بے سروسامانی اور اپنے گھر پہنچ کر بھی بے سروسامانی ٹرمپ ہم نے یہ مصبتیں اٹھائیں اور آپ کہتے ہو کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ ہم برباد ہوگئے۔ آپ نے ہمیں تباہ کیا۔ اللہ آپ کو برباد کرے۔

مال مویشی ہمارے کاشتکار بھی پالتے ہیں۔ دودھ کے لیے اور پال کر فروخت کرنے کے لیے۔ لوگ آئی ڈی پیز بن گئے۔ ایک آدھ بندہ مویشیوں کے لیے رہ گیا لیکن ڈر کے مارے کہ طالبان قتل نہ کریں۔ وہ بھی نکل گئے اور مویشیوں پانی نہ ملنے اور چارہ نہ ملنے کی وجہ سے مرگئے۔ میں صرف اپنے ایک دوست کی بات کروں گا۔ اس نے دو گائے پالے تھے۔ ان کے بچے بھی تھے جب وہ واپس آیا تو جانور مرگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک گائے کی قیمت ایک لاکھ دس ہزار تھی اور وہ جانور کیسے تڑپ تڑپ کر مرے ہوں گے کیا یہ ظلم نہیں ؟ کیا یہ انسانیت ہے۔

تعلیمی ادارے بند رہے۔ بچے تعلیم سے محروم رہے۔ اسکول بارود سے اڑا دیے گئے۔ سات سالوں میں واپس تعمیر ہوئے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مندوب خاتون کہتی ہیں کہ امریکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا پیسہ آپ نے جنگجوؤں کو کھلایا۔ بس کریں اور جنگجوؤں کو نہ کھلائیں۔

.ڈؤنلڈ ٹرمپ آپ کہتے ہو کہ آپ نے ہمیں ڈبل کراس کیا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ نے ہمیں تباہ کیا۔ بس اب اور نہیں