ہفتہ وار زرعی خبریں

ستمبر 13 تا 19 ستمبر ، 2018

غربت

گلگت بلتستان کے تین اضلاع میں عالمی غذائی پروگرام (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی تکنیکی معاونت سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے آزمائشی غذائی منصوبہ شروع کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ یہ آزمائشی غذائی منصوبہ وفاقی حکومت اور عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کے اہداف کے مطابق ملک میں بچوں میں نشونما میں کمی کے اہم ترین مسئلہ کے لیے معاون ہو گا۔ بی آئی ایس پی کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل نوید اکبر کے مطابق منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کے تین اضلاع کی 12,000 حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں، چھ سے 23 ماہ کی عمر کے 15,000 بچوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور انہیں غذائی کمی سے تحفظ کے لیے لازمی غذائی اجزاء پر مشتمل تیار خوراک (سپلیمنٹ) فراہم کی جائے گی۔ اگر اس آزمائشی منصوبے کے نتائج توقع کے مطابق ہوئے تو اس غذائی منصوبے کو پورے ملک تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال سے عالمی غذائی پروگرام کی تکنیکی مدد سے ہی غذائی کمی خاتمے کے لیے سندھ کے کچھ اضلاع میں کام جاری ہے جس کے نتائج کا انتظار ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 14 ستمبر، صفحہ8)

ایک خبر کے مطابق یونائیٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس 2018 میں دنیا کے 189 ممالک میں پاکستان 150 نمبر پر ہے۔ انڈیکس کی درجہ بندی اوسط عم، تعلیم اور اور آمدنی کے اعدوشمار کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس دورانیہ میں پاکستان میں ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کی قدر 0.562، اوسط عمر 66.6 سال، سالانہ فی کس اوسط آمدنی 5,311 ڈالر اور اوسط اسکول کا دورانیہ 5.2 سال ہے۔ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بھارت 130، بنگلہ دیش 136، سری لنکا 76، مالدیپ 101، نیپال 149 اور بھوٹان 130 نمبر پر ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 16 ستمبر، صفحہ2)

غذائی کمی

اسکیلنگ اپ سول سوسائٹی الائنس پاکستان اور نیوٹریشنل انٹرنیشنل کے تحت ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ڈیولپمنٹ سوسائٹی (ہینڈز) کے تعاون سے منعقد کیے گئے اجلاس میں صحت اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے سندھ بھر میں خوراک کی شدید کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً آدھے بچے نشونما میں کمی کا شکار ہیں۔ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ تین سال پہلے حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تیار کرد حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے اور بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے سندھ پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف بریسٹ فیڈنگ ایکٹ کو صوبے میں غذائی کمی کی شدید صورتحال پر قابو پانے کے لیے نافذ کیا جائے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 13 ستمبر، صفحہ5)

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینشن کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیق (نیشنل کومپلیمنٹری فیڈنگ اسسمنٹ کے مطابق پاکستان میں 6 سے 23 ماہ کی عمر کے صرف 15 فیصد بچے کو ہی مؤثر نشونما کے لئے لازمی خوراک کی کم سے کم (مقرر کردہ) مقدار میسر ہے۔ غربت اور طبی و غذائی سہولیات تک محدود رسائی کی وجہ سے دو سال سے کم عمر بچوں میں غذائیت سے بھر پور خوراک کا استعمال انتہائی کم ہے جہاں انڈا، گوشت، وٹامن اے اور فولاد سے بھرپور خوراک عام طور پر ان بچوں کی غذا میں شامل نہیں ہوتی۔ مقامی طور پر دستیاب خوراک میں وٹامن بی 12، وٹامن اے، کیلشیم اور فولاد کم پایا جاتا ہے۔ یہ تحقیق برطانیہ کا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ) کی مالی اور یونیسیف کی تیکنیکی معاونت سے کی گئی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 13 ستمبر، صفحہ2)

پانی

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بوتل بند پانی فروخت کرنے والی مختلف کمپنیوں کی جانب سے حد سے زیادہ پانی استعمال کرنے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ان کمپنیوں کی جانب سے پانی کے استعمال کے اعداوشمار طلب کیے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا بوتل بند پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں زیر زمین پانی مفت استعمال کرکے اپنی مصنوعات مہنگے داموں فروخت کررہی ہیں۔ سپریم کورٹ ملک میں پانی کے تحفظ کے لیے ہرممکن قدم اٹھائے گی۔
(ڈان، 15 ستمبر، صفحہ1)

چیف جسٹس میاں نثار نے ملک میں ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف آئین کی دفعہ چھ (غداری) استعمال کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں جائزہ لے رہا ہوں ہیں کہ آیا یہ (دفعہ) اس قومی مفاد (ڈیموں کی تعمیر) کے مخالفین پر عائد ہوسکتی ہے یا نہیں۔‘‘ چیف جسٹس بوتل بند پانی فروخت کرنے ولی کمپنیوں کی جانب سے زیر زمین پانی استعمال کرنے کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کررہے تھے۔ ایڈشنل اٹارنی جنرل نے دوران سماعت بتایا کہ کراچی میں بوتل بند پانی کے تقریبا 82، اسلام آباد میں 12، حیدرآباد میں 15، سکھر میں 16 اور لاہور میں 8 کارخانے قائم ہیں۔ ان کارخانوں میں 30 فٹ سے 410 فٹ گہرے کنویں موجود ہیں جن سے پانی نکالا جارہا ہے۔ عدالت نے تمام بوتل بند پانی کی کمپنیوں کے سربراہان (چیف ایگزیکٹوز) کو اگلی سماعت پر عدالت میں طلب کیا ہے۔
(ڈان، 16 ستمبر، صفحہ1)

سپریم کورٹ نے بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت بوتل بند پانی تیار کرنے والی کمپنیوں کے وکلاء کو ایک ساتھ بیٹھنے اور زیر زمین پانی کی معقول قیمت کے تعین کے حوالے سے قابل عمل منصوبہ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ پانی فروخت کرنے والی مختلف کمپنیوں کے سربراہان بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا ہے کہ پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں سالوں سے زیر زمین پانی تقریباً مفت استعمال کررہی ہیں۔ چیف جسٹس نے بوتل بند پانی فروخت کرنے والی کمپنی نیسلے کے وکیل اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “اب اس ملک کو واپس لوٹانے کا وقت آگیا ہے۔‘‘
(ڈان، 17 ستمبر، صفحہ1)

محکمہ موسمیات پاکستان نے کہا ہے کہ آئندہ تین مہینوں کے دوران بارشیں کم ہونے کی وجہ سے موسم سرما میں پانی کی قلت کا امکان ہے۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول کے مطابق موسم سرما میں زیادہ بارشوں کی توقع نہیں ہے۔ اگر برف باری بھی ہو تو بھی پانی گرمیوں میں برف پگھلنے تک دستیاب نہیں ہوگا۔ اس صورتحال میں پانی کے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ محکمہ موسمیات پہلے ہی ملک میں خشک سالی کا انتباہ جاری کرچکا ہے۔
(ڈان، 17 ستمبر، صفحہ4)

دادو اور میرپور خاص اضلاع میں نہر کے آخری سرے کے کسانوں نے احتجاج کرتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے افسران پر جاگیرداروں کی ملی بھگت سے پانی چوری کا الزام عائد کیا ہے۔ ضلع دادو کی پیر گنیو شاخ کے آخری سرے کے چھوٹے کسانوں نے احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب سمیت خشک نہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرین کی قیادت کرنے والے کسان محمد سلیمان کا کہنا تھا کہ انہیں فصلوں اور پینے کے لئے پانی کی سنگین کی قلت کا سامنا ہے۔ جاگیرداروں نے نہروں کے ساتھ اپنے مسلح کارندے تعینات کئے ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پوری نہر پر اس طرح کا قبضہ محکمہ آبپاشی کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مسلح افراد نہری پانی کو آخری سرے تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔ کئی ہفتوں سے جاری اس پانی کی چوری کی وجہ سے چھوٹے کسان کپاس، گنا اور سبزیاں کاشت نہیں کر پائے ہیں۔ اسی طرح میرپورخاص میں بھی کھیراؤ شاخ کے آخری سرے کے کسانوں نے پانی کی قلت کے خلاف مقامی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
(ڈان، 18 ستمبر، صفحہ17)

  کپاس

کاٹن کروپ اسسمنٹ کمیٹی نے پانی کی کمی کی وجہ سے بوائی ہدف سے آٹھ فیصد کم ہونے کے بعد سال 2018-19 کے لیے کپاس کا پیداواری ہدف 25 فیصد کم کرکے 14.37 ملین گانٹھوں سے 10.84 ملین گانٹھیں کردیا ہے۔ اس سال کپاس 2.95 ملین ہیکٹر ہدف کے مقابلے 2.68 ملین ہیکٹر رقبے پر کاشت کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کپاس کے زیر کاشت علاقے میں گنے کی کاشت میں اضافہ، گندم کی کٹائی میں تاخیر اور پانی کی قلت کی وجہ سے کپاس کی کاشت میں کمی آئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 13 ستمبر، صفحہ1)

ماہی گیری

پاکستان کی سمندری حدود میں شکار کرنے پر 18 بھارتی ماہی گیروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ترجمان پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق ان ماہی گیروں کو دو کشتیوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا جنہیں بعد میں مزید قانونی کارروائی کے لیے ڈاکس تھانے کے حوالے کردیا گیا ہے۔
(ڈان، 13 ستمبر، صفحہ16)

گنا

سندھ میں گنے کے کاشتکار اس سال بھی گنے کی کرشنگ تاخیر سے شروع ہونے کے خدشہ سے دوچار ہیں۔ حکومت سندھ کی جانب کرشنگ کا موسم شروع کرنے اور گنے کی قیمت مقرر کرنے کے لیے شوگر مل مالکان اور کاشتکاروں کے درمیان مذاکرات کا عمل اب تک شروع نہیں کیا گیا ہے۔ نائب صدر ایوان زراعت سندھ (سندھ چیمبر آف ایگری کلچر) نبی بخش سہتونے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اس سال بھی گنے کی قیمت کو چینی کی برآمد پر سرکاری زرتلافی سے مشروط کرے گی۔
(ڈان، 16 ستمبر، صفحہ17)

چینی

سپریم کورٹ نے حسیب وقاص شوگر مل، چوہدری شوگر مل اور اتفاق شوگر مل کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل خارج کرتے ہوئے کپاس کے زیرکاشت جنوبی پنجاب کے اضلاع سے شوگر ملیں واپس اپنے پرانے مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم اپنے مختصر حکم نامے میں تین رکنی بینچ نے ملوں کو اجازت دی ہے کہ وہ شوگر مل کی مشینری منتقل کرنے کے بعد اس جگہ کو کسی بھی قانونی کاروبار کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ 2006 میں پنجاب حکومت نے ایک پالیسی جاری کی تھی جس کے تحت صوبے میں نہ کوئی نئی شوگر مل قائم کی جاسکتی ہے اور نہ ہی پہلے سے قائم شوگر مل کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کپاس کے زیر کاشت علاقے میں گنے کی کاشت کی حوصلہ شکنی تھا کیونکہ گنے کی فصل میں دیگر فصلوں کے مقابلے 18 فیصد زیادہ پانی استعمال ہوتا ہے۔
(ڈان، 14 ستمبر، صفحہ1)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبریں پاکستان میں مجموعی طور پر پیداواری اور موسمی حالات کے تناظر میں تشویشناک صورتحال کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ دنیا میں خوراک پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد غذائی کمی کا شکار ہے۔ ایسے ملک میں جہاں مال مویشی، گندم، چاول کی بہتات ہو اور قوم کے بچے بھوک اور غربت کی وجہ سے نشونما میں کمی کا شکار ہوکر معاشرے میں اپنا وہ کردار ادا کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں جس کا تقاضہ ملک و قوم ان سے کرتی ہے۔ ملک میں اس درجہ غربت اور غذائی کمی کی بنیادی وجہ پیداواری وسائل پر اشرافیہ کا قبضہ اور نیولبرل پالیسیوں کا فروغ ہے۔ ان سرمایہ دارانہ پالیسیوں کی ہی بدولت ایک چھوٹا اور بے زمین کسان پیداواری لاگت بڑھ جانے کے نتیجے میں نقصان سے دوچار ہے۔ غیر پائیدار صنعتی طریقہ پیداوار کی ہی بدولت پاکستان اور اس جیسے تیسری دنیا کے ممالک موسمی تبدیلی کے بدترین اثرارت کے مقابلہ کررہے ہیں۔ خشک سالی اور خصوصاً پانی کی کمی نے ملک کے کسانوں کو شدید نقصان سے دوچار کررکھا ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی کسانوں کے لیے پہلے ہی نقصان کا باعث تھی کہ اب ربیع کے موسم میں بھی پانی کی شدید قلت کی پیشنگوئی کی جارہی ہے۔ افسوس کے اس صورتحال میں بھی پانی فروخت کرنے والی سرمایہ دار کمپنیاں زیر زمین آبی وسائل کا بے رحمی سے استعمال کرکے اپنے منافع میں بے تحاشہ اضافہ کرتی جارہی ہیں اور ملکی ایوانوں میں بیٹھنے والے نام نہاد سیاستدان ان ہی کمپنیوں کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ملک میں زمین پانی اور بیج جیسے اہم پیداواری مداخل اور وسائل ان سرمایہ دار کمپنیوں سے چھین کر عوامی اختیار میں لائے جائیں کہ ان کا پائیدار استعمال ملک کے عوام خصوصا چھوٹے اور بے زمین کسان مزوروں کی خوراک کی ضرورت پوری کرکے ملک میں بھوک غربت اور غذائی کمی کے خاتمے کا سبب ہو۔ اس تبدیلی کے لیے تمام مظلوم عوام کو ایک ہوکر جدوجہد کی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔

U.S. threats stun world health agency

Opposition to Breast-Feeding Resolution by U.S. Stuns World Health Officials

By Andrew Jacobs

July 8, 2018

A resolution to encourage breast-feeding was expected to be approved quickly and easily by the hundreds of government delegates who gathered this spring in Geneva for the United Nations-affiliated World Health Assembly.

Based on decades of research, the resolution says that mother’s milk is healthiest for children and countries should strive to limit the inaccurate or misleading marketing of breast milk substitutes.

Then the United States delegation, embracing the interests of infant formula manufacturers, upended the deliberations.

American officials sought to water down the resolution by removing language that called on governments to “protect, promote and support breast-feeding” and another passage that called on policymakers to restrict the promotion of food products that many experts say can have deleterious effects on young children.

When that failed, they turned to threats, according to diplomats and government officials who took part in the discussions. Ecuador, which had planned to introduce the measure, was the first to find itself in the cross hairs.

The Americans were blunt: If Ecuador refused to drop the resolution, Washington would unleash punishing trade measures and withdraw crucial military aid. The Ecuadorean government quickly acquiesced.

The showdown over the issue was recounted by more than a dozen participants from several countries, many of whom requested anonymity because they feared retaliation from the United States.

Health advocates scrambled to find another sponsor for the resolution, but at least a dozen countries, most of them poor nations in Africa and Latin America, backed off, citing fears of retaliation, according to officials from Uruguay, Mexico and the United States.

“We were astonished, appalled and also saddened,” said Patti Rundall, the policy director of the British advocacy group Baby Milk Action, who has attended meetings of the assembly, the decision-making body of the World Health Organization, since the late 1980s.

“What happened was tantamount to blackmail, with the U.S. holding the world hostage and trying to overturn nearly 40 years of consensus on the best way to protect infant and young child health,” she said.

In the end, the Americans’ efforts were mostly unsuccessful. It was the Russians who ultimately stepped in to introduce the measure — and the Americans did not threaten them.

The State Department declined to respond to questions, saying it could not discuss private diplomatic conversations. The Department of Health and Human Services, the lead agency in the effort to modify the resolution, explained the decision to contest the resolution’s wording but said H.H.S. was not involved in threatening Ecuador.

“The resolution as originally drafted placed unnecessary hurdles for mothers seeking to provide nutrition to their children,” an H.H.S. spokesman said in an email. “We recognize not all women are able to breast-feed for a variety of reasons. These women should have the choice and access to alternatives for the health of their babies, and not be stigmatized for the ways in which they are able to do so.” The spokesman asked to remain anonymous in order to speak more freely.

Although lobbyists from the baby food industry attended the meetings in Geneva, health advocates said they saw no direct evidence that they played a role in Washington’s strong-arm tactics. The $70 billion industry, which is dominated by a handful of American and European companies, has seen sales flatten in wealthy countries in recent years, as more women embrace breast-feeding. Over all, global sales are expected to rise by 4 percent in 2018, according to Euromonitor, with most of that growth occurring in developing nations.

The intensity of the administration’s opposition to the breast-feeding resolution stunned public health officials and foreign diplomats, who described it as a marked contrast to the Obama administration, which largely supported W.H.O.’s longstanding policy of encouraging breast-feeding.

During the deliberations, some American delegates even suggested the United States might cut its contribution to the W.H.O., several negotiators said. Washington is the single largest contributor to the health organization, providing $845 million, or roughly 15 percent of its budget, last year.

The confrontation was the latest example of the Trump administration siding with corporate interests on numerous public health and environmental issues.

In talks to renegotiate the North American Free Trade Agreement, the Americans have been pushing for language that would limit the ability of Canada, Mexico and the United States to put warning labels on junk food and sugary beverages, according to a draft of the proposal reviewed by The New York Times.

During the same Geneva meeting where the breast-feeding resolution was debated, the United States succeeded in removing statements supporting soda taxes from a document that advises countries grappling with soaring rates of obesity.

The Americans also sought, unsuccessfully, to thwart a W.H.O. effort aimed at helping poor countries obtain access to lifesaving medicines. Washington, supporting the pharmaceutical industry, has long resisted calls to modify patent laws as a way of increasing drug availability in the developing world, but health advocates say the Trump administration has ratcheted up its opposition to such efforts.

The delegation’s actions in Geneva are in keeping with the tactics of an administration that has been upending alliances and long-established practices across a range of multilateral organizations, from the Paris climate accord to the Iran nuclear deal to Nafta.

Ilona Kickbusch, director of the Global Health Centre at the Graduate Institute of International and Development Studies in Geneva, said there was a growing fear that the Trump administration could cause lasting damage to international health institutions like the W.H.O. that have been vital in containing epidemics like Ebola and the rising death toll from diabetes and cardiovascular disease in the developing world.

“It’s making everyone very nervous, because if you can’t agree on health multilateralism, what kind of multilateralism can you agree on?” Ms. Kickbusch asked.

A Russian delegate said the decision to introduce the breast-feeding resolution was a matter of principle.

“We’re not trying to be a hero here, but we feel that it is wrong when a big country tries to push around some very small countries, especially on an issue that is really important for the rest of the world,” said the delegate, who asked not to be identified because he was not authorized to speak to the media.

He said the United States did not directly pressure Moscow to back away from the measure. Nevertheless, the American delegation sought to wear down the other participants through procedural maneuvers in a series of meetings that stretched on for two days, an unexpectedly long period.

In the end, the United States was largely unsuccessful. The final resolution preserved most of the original wording, though American negotiators did get language removed that called on the W.H.O. to provide technical support to member states seeking to halt “inappropriate promotion of foods for infants and young children.”

The United States also insisted that the words “evidence-based” accompany references to long-established initiatives that promote breast-feeding, which critics described as a ploy that could be used to undermine programs that provide parents with feeding advice and support.

Elisabeth Sterken, director of the Infant Feeding Action Coalition in Canada, said four decades of research have established the importance of breast milk, which provides essential nutrients as well as hormones and antibodies that protect newborns against infectious disease.

2016 study in The Lancet found that universal breast-feeding would prevent 800,000 child deaths a year across the globe and yield $300 billion in savings from reduced health care costs and improved economic outcomes for those reared on breast milk.

Scientists are loath to carry out double-blind studies that would provide one group with breast milk and another with breast milk substitutes. “This kind of ‘evidence-based’ research would be ethically and morally unacceptable,” Ms. Sterken said.

Abbott Laboratories, the Chicago-based company that is one of the biggest players in the $70 billion baby food market, declined to comment.

Nestlé, the Switzerland-based food giant with significant operations in the United States, sought to distance itself from the threats against Ecuador and said the company would continue to support the international code on the marketing of breast milk substitutes, which calls on governments to regulate the inappropriate promotion of such products and to encourage breast-feeding.

In addition to the trade threats, Todd C. Chapman, the United States ambassador to Ecuador, suggested in meetings with officials in Quito, the Ecuadorean capital, that the Trump administration might also retaliate by withdrawing the military assistance it has been providing in northern Ecuador, a region wracked by violence spilling across the border from Colombia, according to an Ecuadorean government official who took part in the meeting.

The United States Embassy in Quito declined to make Mr. Chapman available for an interview.

“We were shocked because we didn’t understand how such a small matter like breast-feeding could provoke such a dramatic response,” said the Ecuadorean official, who asked not to be identified because she was afraid of losing her job.

https://www.nytimes.com/2018/07/08/health/world-health-breastfeeding-ecuador-trump.html

Know your rights: ‘Government not showing efficiency in solving public issues’

Published: November 28, 2016

KARACHI: The government is not inefficient but they do not show their efficiency in matters related to public interest, said Azra Talat Sayeed, who is an activist and the executive director of Roots for Equity.

She was addressing the audience at a  discussion on ‘Food Justice and Farmers’ Rights’ held at The Second Floor on Sunday. Sayeed works for an organisation that fights for the rights of small and landless farmers, especially female farmers. The discussion focused on the increasing issue of agricultural change ever since the passing of the Seed (Amendment) Act, 2015 and Plant Breeders’ Rights Bill, 2016.

The majority of parliamentarians are landlords and the poor farmers are their slaves, Sayeed claimed, while accusing them of not standing up for the rights of these farmers. Recalling her first trip to a village when she got to hear stories of farmers and their families living there, Sayeed said it was difficult for her to believe that even though the farmers worked for 12 to 18 hours a day they still owed millions of rupees in loans.

“We have started looking for organic seeds, not scientifically grown ones,” said Sayeed, while referring to genetically modified (GM) seeds being replaced with organic seeds. It is hard to find even five varieties of wheat seeds in Pakistan, she added. Speaking about the issues that the farmers are facing since the bills have been passed, Sayeed said promoting GM seeds is the capitalist and corporate interest of the landlords.

Yasir Husain, who is an urban farmer and co-founder of Organic City, said he feels that Karachi is isolated from the rest of the country, with its people being indifferent to nature. He added that Karachiites have a concrete life and they live in that same bubble.

Talking about how people can be closer to nature, Husain said that every child should know how to grow plants. “Students should be taught in schools about kitchen gardening,” he said, adding that it is not necessary for one to have a garden to grow plants. Rooftops and galleries can also be used for planting purposes, he said.

“Seeds have changed and so has the variety,” said sociologist and Karti Dharti founder Nosheen Ali, while launching a report titled ‘Seed Inc: Food Sovereignty, Farmers’ Rights and New Legal Regimes in Pakistan’. While speaking about her time living abroad, Ali said she found the taste and colours of various fruits to be different compared to fruits here. With the ongoing hunger crisis that the world is facing and increasing use of GM seeds, we will face drastic changes, Ali said, adding that the government will never stand up for farmers’ rights.

“It is a common misunderstanding in the country that farmers are an impediment to the growth of the country because they are illiterate and the country can only grow economically with GM seeds,” she said, adding that such modified seeds will bring more misery in the farmers’ lives.

Ali was accompanied by Amna Tanweer Yazdani as the moderator of the session, who is an anthropologist and senior social scientist at Aga Khan University.

Published in The Express Tribune, November 29th, 2016.

https://tribune.com.pk/story/1247177/know-rights-government-not-showing-efficiency-solving-public-issues/

In the Belly of the River: Flooding the Landless

Nov 2014

The village of Kanwan Wali, a government sponsored tent community on an embankment vulnerable to flooding.

The village of Kanwan Wali, a government sponsored tent community on an embankment vulnerable to flooding. | Photography: Kasim Tirmizey

Kachchhi – sone di pachchhi.
Riverine land is a basket of gold.
– Punjabi proverb in the Shahpur District of Punjab1

Under a burning sun, the Khana Padosh tribe of the Moza Vehlan village in Multan tehsil make do with tattered and colorful patches of cloth and wooden sticks to construct their tents. After massive flooding inundated their village, constructed on katchi (riverine) lands, they have been forced to temporarily reside on a nearby band (embankment).

While the katchi lands are prone to flooding, the Khana Padosh say they have little choice but to live there. They would hardly describe the land they live on as a “basket of gold” as the old Punjabi proverb goes. The katchi was considered bountiful in the 19th century, when farming in western Punjab was done through inundated agriculture. It was a system that thrived on regular floodwaters making riverine lands fertile for agriculture. At that time, farmers would organize agrarian life according to the rhythms of floods. Other communities, such as the Khana Padosh, in this part of Punjab were nomadic pastoralists.

Western Punjab underwent massive transformation under British rule through the introduction of canal irrigation. This signalled the demise of inundated agriculture and nomadic pastoralism. The British were interested in increasing the agrarian frontier in order to provide cheap food2 in England and to gain greater land revenue through rent. In the new political economy, katchi lands were marginal and vulnerable territory.

The Khana Padosh tribe living on the embankment.

The Khana Padosh living on the embankment.

The Khana Padosh were historically a nomadic tribe that tended to livestock. The introduction of canal colonies interrupted that mode of life, however. The British considered many nomadic communities to be ‘criminal tribes’. That term, ‘criminal’, had less to do with the law, and more with the British government’s attempt to criminalize the entire nomadic pastoral way of life, seeing as it stood in opposition to their canal systems. The British demand to assimilate to a settler-farmer mode of life was, however, unconceivable for many nomadic tribes.

Today’s Khana Padosh tribe, like their forefathers, are technically landless. A local landowner has allowed the tribe to squat on a portion of the katchi land that he owns near the Chenab River for the sole purposes of temporary settlement.

Bashir Ahmed, of the Kanwan Wali village, is living temporarily on an embankment in a government sponsored tent community in Multan tehsil. Unlike the Khana Padosh, he and his fellow villagers work as sharecroppers on katchi land for a landowner. He explains why he and others live on the katchi: “Us, the poor, we don’t have any money or assets that [allow us to] live in the pakka [settled] areas. That is why we live in the center of the river. That is why we live in the katchi. We have to produce what we can so we can eat.”

Others from Bashir’s village commented that they live on the katchi because land there is cheaper to lease.

Azra Talat Sayeed, the director of the NGO Roots for Equity, which focuses on the political mobilization of peasant and labour communities, argues that the fundamental issue behind the impact of the floods is landlessness:

“Many thousands of these people live on the banks of various [rivers] which run the length and breadth of the country, only because Pakistan has failed to implement even the most rudimentary of land reforms, let alone a policy that would allow for a just equitable distribution of land. Feudal lords, who are fast changing into ‘corporate land lords,’ rule the country and millions of farmers are forced to eke out a very meagre earning by working as sharecroppers, agricultural workers or contract farmers. Others are forced to endanger their lives and livelihood by living in what could be called a ‘seasonal red zone’; no doubt global warming and ensuing climate change have exacerbated the situation.”3

Landless people and smallholders represent 92 percent of the population in present day Pakistan. For the rural poor, katchilands are the last resort for survival. While some nomadic tribes opted to settle in one area, have received small portions of land to practice agriculture on, the Khana Padosh tribe opted not to do so. The Khana Padosh do not have a history of agrarian life, nor do they engage in farming today. Farming has been a mode of life that requires an intense amount of apprenticeship and practice, and, most of all, access to land that is not vulnerable to severe inundation. The Khana Padosh say that they mostly continue to act as pastoralists, tending to livestock under contract with wealthy farmers. Others seek daily wages as labourers in the nearby city of Multan.

Communities across the katchi had a few days warning of the oncoming floods. These communities packed whatever houseware they could take with them, a few days worth of food, and headed towards the embankment.

Muhammad Ghulam with a basket that he made from wooden sticks to be sold in the market. This production continues in the embankment as means of livelihood.

Muhammad Ghulam with a basket that he made from wooden sticks to be sold in the market. This production continues in the embankment as means of livelihood.

“Our villages in the katchi have been totally inundated. Our homes have been destroyed,” Ghulam Muhammad of the Khana Padosh tribe told Tanqeed. “When we return to our village we will have to start from scratch. We don’t even have any food or tents. Things will worsen when the cold weather arrives and we are without proper shelter.”

While the government has been distributing basic rations and providing tents to some communities from the katchi, they have not given anything to the Khana Padosh.

“The government has not given us any rations. Nor do they allow us to sit in government sponsored tent communities,” says Muhammad.

Across Punjab, it is those villages that have connections with feudal lords or politicians that have generally been able to gain access to government rations. As the Khana Padosh are among the most marginalized of communities, they do not fit into the network of patronage. Bashir Ahmed says that they received government relief only after they repeatedly pressured officials into giving them their rights.

What are other possibilities for communities that live on the katchi in the face recurring floods? Roots for Equity has called for equitable redistribution of land as the only just way to address the issue. Without access to safe and fertile lands, millions will continue to reside on the vulnerable lands of the katchi. The Pakistan Kisan Mazdoor Tehreek (Pakistan Peasant Workers Party or PKMT) also advocates sustainable agriculture in the riverine lands. This is a medium-term measure to avoid the indebtedness that has resulted in the increasing entrenchment of corporate influence into agriculture in Pakistan.

In a field south of Multan tehsil, villagers who are members of the PKMT are experimenting with sustainable forms of agriculture. They are using a diversity of traditional, rather than corporate, seeds. They do not use pesticides and chemical fertilizers. PKMT realizes that the corporatization of agriculture is leading to the impoverishment of peasants. Opposing corporations and pro-corporate laws, such as the recent Punjab Seed Act of 2013, is necessary, but not enough. They also believe in creating their own alternative economies that are based on food sovereignty. Efforts are being made by some villages on the katchi in the Kanwan Wali village to transition to more self-reliant forms of agriculture.

But what do historical pastoralists like the Khana Padosh do when agriculture is not their calling? Equitable redistribution of land and ending a land-water ownership regime based on private property are important aspects within any long-term solution to the massive floods that have impacted the most marginalized of Pakistan in recent years. And no genuine land reforms will be possible without the mobilization of peasants, pastoralists, and labour.

Children of the village of Kanwan Wali on the embankment.

Children of the village of Kanwan Wali on the embankment.

The socio-ecology of Punjab is shaped by the legacies of colonialism as well as ongoing feudalism, imperialism, and corporate agriculture. Colonialism introduced commercialized agriculture, whereby the landscape of western Punjab was transformed, moving away from inundated agriculture and nomadic pastoralism and towards irrigated agriculture. In this transforming landscape, nomadic pastoralists were increasingly marginalized and rendered criminal. In addition, those tribes and sub-castes that were loyal to the British, especially during the 1857 war of independence were given large landholdings. Marginal communities such as the Khana Padosh were made landless in a territory that was increasingly ruled by private property, where their nomadic way of life was being made extinct.

Millions of other landless people opt to lease cheap land or squat on the katchi. This is despite the fact that this is a zone of recurring flooding. Global warming has been attributed to the expansion of capitalism,4 most evident in the greenhouse gas emissions from industrialization. The wretched of the world, it seems, only experience the exploitation and oppression of capitalism, and now they are further forced to squat on the most vulnerable of lands. Ironically, in the case of the Punjab, it was these very lands that used to be considered “a basket of gold”, not so long ago.

Kasim Tirmizey is a doctoral candidate at the Faculty of Environmental Studies at York University. He is currently based in Lahore, Pakistan.

  1. Wilson, James. Grammar and dictionary of western Panjabi: as spoken in the Shahpur District : with proverbs, sayings & verses. (Sang-e-Meel Publications, 2005).
  2. Patnaik, Utsa. in The agrarian question in the neoliberal era: primitive accumulation and the peasantry 7–60 (Pambazuka Press, 2011).
  3. Sayeed, Azra Talat. Communities Impacted by Floods in Pakistan. Roots for Equity (2014). at <http://rootsforequity.noblogs.org/post/2014/09/20/communities-impacted-by-floods-in-pakistan-2014/>
  4. The connection between capitalism and climate change has been made in several places. More recently, Klein, Naomi. This Changes Everything: Capitalism vs. The Climate. Alfred A Knopf, 2014.

http://www.tanqeed.org/2014/11/in-the-belly-of-the-river/

Authorities get another chance to respond to plea against amended seed act

Justice Sayyed Mazhar Ali Akbar Naqvi of Lahore High Court on Friday expressed serious concerns over the failure of the authorities concerned to submit a reply on a petition challenging the Pakistan (Amended) Seed Act 2015.

The judge remarked, “It is shocking that local farmers’ future has been put in jeopardy,” adding that the amended law could endanger national food security by making the country dependant on multinationals for genetically-modified seeds.

The judge warned that the plant breeder’s rights registry would be restrained from operating if a response was not submitted in the matter by June 22.

At an earlier hearing, the court had directed the Punjab government to produce the resolution passed by the provincial assembly calling upon the Centre to pass a plant breeders’ rights bill. Notices were issued to the federal government in which it was asked to file para-wise comments to the petition filed by Human Voice, an non-government organisation, challenging the Pakistan Amended Seed Act, 2015 for being in violation of farmers’ fundamental rights and passed at the behest of US-based multinational seed manufacturing companies.

The orders were not complied with as neither the copy of the resolution nor parawise comments were submitted till Friday.

Petitioner’s counsel Sheraz Zaka had submitted that the impugned seed act was passed without the approval of the cabinet, and under article 144 of the Constitution the amendment made in seed act could not have been passed by the federal legislature as it is a provincial subject. He argued that the impugned act would deprive farmers of their traditional farming practices and was meant to accommodate the demands of multinational corporations which were harmful for the environment, anti-competitive, and a threat for the national economy.

Advocate Zaka contended that the Parliament could not pass a bill of such a nature in the absence of resolutions passed by provincial legislatures. He submitted that the scope of his petition was wide and required the attention of the court, keeping into consideration the fact that the federal government had ratified the convention on biological diversity but still not taken any measures to protect traditional breeding practices.

During earlier hearings, Zaka had said that under the impugned law, farmers would be fined and imprisoned for preserving, selling and exchanging seeds, a centuries-old tradition. He said that it would adversely affect the agriculture sector of the country.

Zaka emphasised that the impugned law had made it mandatory for farmers to buy seeds from a licensed company or its agent and they had to do so every time they cultivate a new crop. He stated that this restriction would make farmers dependent on companies.

He said that it would be a huge injustice towards the millions of small and landless farmers whose food insecurity would be aggravated. He submitted that conditions required under the impugned Act would lead to increase in prices of agricultural products and a food security threat in future was likely to happen.

The counsel said that the experience of growing genetically modified (GM) crops, like Bt cotton, had been disastrous in the country but the government still intended to promote GM crops through the law. He added that many European countries had already banned genetically modified crops because of their adverse impact on environment and Pakistan should follow suit.

Zaka requested the court to set aside the amended Seed Act for being unconstitutional.

Link: https://dailytimes.com.pk/251095/authorities-get-another-chance-to-respond-to-plea-against-amended-seed-act/

سامراجی تجارتی نظام کے خلاف، کسان مزدور اتحاد

پریس ریلیز

تاریخ: 6  مئی 2018

پاکستان کسان مزدور تحریک کا چھٹا سالانہ صوبائی اجلاس ماتلی، ضلع بدین میں منعقد کیا گیا جس میں صوبے بھر سے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صوبائی اجلاس کے اختتام کے بعد پی کے ایم ٹی اور روٹس فار ایکوٹی کی جانب سے ماتلی پریس کلب کے سامنے ملک میں جاری سامراجی پالیسیوں کے نتیجے میں جاری کارپوریٹ زراعت، زمینی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
پی کے ایم ٹی کے رہنماؤں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے عالمی سامراجی اداروں اور ممالک کی ایماء پر ملک میں مسلط کردہ زرعی و تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور بھوک، غربت، غذائی کمی، بیروزگاری کا شکار ہوکر زراعت چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ڈبلیو ٹی او کے ٹرپس جیسے معاہدوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے بیج کا ترمیمی قانون اور پلانٹ بریڈرز رائٹس جیسے قوانین کے نفاذ کے ذریعے کسانوں کو ان کے روایتی بیج سے محروم کرکے بین الاقوامی زرعی کمپنیوں کو ان کے استحصال کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ ملک میں غربت کے خاتمے اور پیداوار میں اضافے کے نام پر غیر پائیدار کیمیائی زراعت کا فروغ کسانوں کو مزید غربت میں دھکیل رہا ہے۔ غیر پائیدار طریقہ زراعت کے تحت زیادہ پیداوار حاصل ہونے کے باوجود کسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے جبکہ سارا منافع بیج اور دیگر مداخل بنانے والی دیوہیکل زرعی کمپنیوں کی جیب میں چلاجاتا ہے۔ ان ہی پالیسوں کے نتیجے میں کسان مقامی منڈی میں اپنی پیداوار فروخت کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ دوسری طرف غیر پائیدار کیمیائی طریقہ زراعت ناصرف ماحولیاتی اور غذائی نظام کو زہر آلود کررہا ہے بلکہ عوام میں بڑے پیمانے پر مختلف بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

پاکستان بھر میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور جو پہلے ہی جاگیرداری نظام کے ہاتھوں بدترین استحصال کا شکار ہیں اب ملک بھر میں نیولبرل پالیسیوں کے تحت کارپوریٹ فارمنگ، خصوصی اقتصادی زون، شاہراؤں کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بیدخل کیے جارہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور حطار، پنجاب میں ضلع راجن پور کے علاقے رکھ عظمت والا میں کئی دہائیوں سے آباد کسانوں کی زمین سے بیدخلی اس زمینی قبضے کی چند واضح مثالیں ہیں۔ ملک سے بھوک غربت اور غذائی کمی کا خاتمہ صرف اور صرف جاگیرداری نظام کا خاتمہ کرکے زمین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم سے ہی کیا جاسکتا ہے جو کسانوں کو خوراک کی خودمختاری اور غذائی تحفظ کا ضامن ہوسکتا ہے۔

پی کے ایم ٹی مطالبہ کرتی ہے کہ عالمی سامراجی نیولبرل پالیسیوں کا خاتمہ کرکے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور مرد و عورتوں میں زمین منصفانہ اور مساویانہ طور پر تقسیم کی جائے، زرعی شعبے سے بین الاقوامی زرعی کمپنیوں اور ڈبلیو ٹی او کاکردار ختم کیا جائے کیونکہ کسان کی خوراک کی خودمختاری ہی قومی غذائی تحفظ، پائیدار ترقی اور ملک سے بھوک و غربت کے خاتمے کی ضمانت ہوسکتی ہے۔ ملک بھر کے چھوٹے اور بے زمین کسانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ پیداواری وسائل خصوصاً زمین پر اپنے حق کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کو اپنا لائحہ عمل بنائیں۔
جاری کردہ : پاکستان کسان مزدور تحریک

یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن: مزدوروں جاگو اپنی تقدیر خود لکھو

پریس ریلیز

یکم مئی، 2018

مزدوروں کے عالمی دن یکم مئی کے موقع پر پاکستان کسان مزدور تحریک اور لیبر ویلفیئر سوسائٹی نے حطار، ہری پور، کے پی کے میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا۔ جس میں بڑی تعداد میں مزدوروں نے شرکت کی۔ یہ دن 1886 شکاگو کے مزدوروں کی جدوجہد کے تناظر میں منایا جاتا ہے کہ جب مزدوروں نے اپنے حقوق خصوصاًآٹھ گھنٹے کام کے اوقات مقرر کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

پی کے ایم ٹی کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی سرمایہ دار اداروں کی ایماء پر ملک کے قیمتی اثاثے کوڑیوں کے مول ملکی اور غیر ملکی سرمایہ داروں کو فروخت کررہی ہے جو مزدوروں میں بیروزگاری اور غربت و بھوک کی بنیادی وجہ ہے۔ حطار میں قائم مستحکم سیمنٹ فیکٹری ایک ایسی ہی مثال ہے جسے غیرملکی کمپنی کو فروخت کردیا گیا جس سے نا صرف فیکٹری کے مزدوروں کو ملنے والی مراعات ختم یا محدود کردی گئیں بلکہ نجی کمپنی کی جانب سے زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کے لیے پیداوار میں غیر پائیدار اضافے سے علاقے کا ماحولیاتی نظام بھی تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔

لیبر ویلفیئر سوسائٹی کے عہدیداروں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد مزدورں کی بہبود کا محکمہ صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گیا لیکن اب تک صوبائی حکومتوں کی جانب سے مزدور قوانین اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی ترتیب نہیں دی جاسکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے زیر انتظام مزدوروں کے بچوں کے لیے چلنے والے اسکولوں میں معیار تعلیم انتہائی ناقص ہے جہاں بچوں کی کامیابی کا تناسب انتہائی معمولی ہے۔ بورڈ فی بچہ 17,000 روپے خرچ کرتا ہے اس کے باوجود مزدوروں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ لیبر کالونیوں میں مزدوروں کو رہائشی کواٹر کے مالکانہ حقوق نہیں دیتا جبکہ ملک میں بقیہ تین صوبوں میں مزدورں کو رہائشی کواٹر کے مالکانہ حقوق دیے جاتے ہیں۔

مقریرین کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت ملک میں بڑے پیمانے پر خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر اور مختلف صنعتوں اور شاہراؤں کی تعمیر جاری ہے لیکن اب تک اس حوالے سے مزدوروں سے متعلق کوئی پالیسی واضح نہیں کی گئی کہ چینی سرمایہ کار کمپنیاں مقامی مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے کی پابند ہونگی، ان مزدوروں کے کام کے اوقات کار، اجرت اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی کیسے بنایا جائے گا۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے مزدوروں سے انتہائی کم اجرت پر آٹھ گھنٹے کے بجائے 12 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں صنعت ہو یازراعت یا ماہی گیری شعبہ تقریباً ہر شعبے میں مزدور نجکاری، ٹھیکیداری نظام، کم اجرت اور دیگر بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے غربت و بدحالی کا شکار ہیں۔

سرمایہ داروں کی ہر حکومت صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کے کالا دھن سفید کرنے، ٹیکس میں چھوٹ دینے، سرمایہ کاروں کو مفت زمین فراہم کرنے، انہیں زرتلافی اور دیگر مراعات دینے کے لیے قانون سازی کرتی ہے اور ان قوانین پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے لیکن بات جب مزدوروں اور دیگر پسے ہوئے طبقات کی ہو تو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید قانون سازی تو دور پہلے سے موجود قوانین پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ ملک بھر کے محنت کشوں کو اس استحصال سے نجات اور اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ظالم سرمایہ دار طبقہ کبھی بھی مزدوروں کے حقوق دیگا۔

پی کے ایم ٹی اور لیبر ویلفیئر سوسائٹی مطالبہ کرتی ہے کہ نجکاری، ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے، عارضی مزدوروں مستقل کیا جائے، مزدوروں کی کم سے کم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر مقرر کی جائے، مزدور عورتوں کو مردوں کے برابر اجرت دی جائے، مزدور آبادیوں میں معیاری تعلیم، آلودگی سے پاک ماحول اور باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔ مزدوروں کے لیے پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کا کام کی جگہ پر معقول بندوبست کیا جائے۔ تمام مزدوروں کی سوشل سیکورٹی اور ای او بی آئی کے ساتھ رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے۔ مزدوروں کو لیبر کانوینز میں رہائشی کوارٹرز کے مانکانہ حقوق دئیے جائیں۔مزدوروں کی بچیوں کے لیے جہیزگرانٹ سالوں سے بندہے فوری بحال کی جائے۔
جاری کردہ : پاکستان کسان مزدور تحریک اور لیبر ویلفیئر سوسائٹی

29 March, Day of the Landless

Press Release

29 March 2018

The Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) and Roots for Equity in collaboration with the Asian Peasant Coalition (APC) and the other Asian organizations have marked the Day of Landless under the theme “Peasants of the world: intensify our struggle for Land and Life!”

The Day of the Landless is observed globally to highlight the struggle of farmers for land and other natural resources as they have been forcefully evicted from their land, despite the fact that they have inhabited these lands for generations’. The numbers of countries including Pakistan, India, Bangladesh, Sri Lanka, Nepal, Mongolia, Cambodia, Malaysia, Philippine, Thailand, and Indonesia have held various events to mark this day.

PKMT has lodged a protest against the pervasive land grabbing and landlessness in Pakistan on the day of landless at the Hyderabad Press Club, Hyderabad, in which the small and landless farmers from different districts of the province have participated. The PKMT Sindh Coordinator, Ali Nawaz Jalbani spoke on this event emphasizing the invaluable contribution of farmers to our communities. He pointed out that small and landless farmers not only provide food to the people through their hard work but are also responsible for export of agricultural products that yields valuable foreign exchange. But even in spite of them feeding the country, they suffer from severe malnutrition, hunger and poverty; no doubt this condition is a result of massive landlessness among farmers. In Pakistan, feudal lords, the elite and rich farmers own 45 percent of agriculture land. This is the critical reason that a country that which has high food product, tragically still comes on top when it comes to infant death statistics.

Allahdino, a PKMT member pointed out that “We the landless farmers are forced off land, evicted from our villages, losing our livelihood, and community forced to work as wage labor in towns and cities under inhuman conditions. With no food grains, every-day hunger is the mode of the day. Contract farming is on the rise, where farmers are being forced to work as part of an assembly line, producing at the behest of agro-chemical corporations who produce not food but profitable items such as sugar cane, livestock fodder, and agro fuels.

According to Sony Bheel, patriarchy is a hard cruel reality. Women, have very few rights, and as agricultural women workers these women face intense structural poverty. They country’s food security in the forms of grains or vegetables, dairy or livestock production is absolutely not possible without rural women’s hard physical labor. However, women a major part of the landless are not even recognized as farmers and face exploitation at the hand of both capitalists and feudal lords. The increasing chemical intensive agriculture is responsible for not only destroying biodiversity but also intoxicating the food chain system which impacts women and girl children immensely. It is because women and girls work the most in cash crop harvesting be it cotton or maize or vegetable picking. Hence the landless, especially women landless suffer the most from multiple forms of exploitations, discriminations and oppressions.

The members of PKMT from Ghotki and Badin, Mohammad Sharif and Mohammad Ramzan said that in Pakistan, farmers are facing oppression and deprivation due to neoliberal policies of capitalist countries, unfair land policies and corporate agriculture. In the name of development and innovation; motorways, Special Economic Zones, energy and other projects are being established, all which are forcing land evictions, depriving farmers of their land and livelihood.

There are many such examples: In Hattar, Haripur, KPK, more than a 1000 acre of land has been allotted for the extension of Special Economic Zone, and in Peshawar the construction of Northern bypass project. In Punjab, 6,500 acres of land is being provided to foreign seed companies. In Rajanpur district, the Government of Punjab is promoting forest cultivation for trade through public private partnership; inevitably farmers are being evicted, others forced into contract farming with corporations. In Khairpur, Sindh, 140 acres of land has been used for Special Economic Zone. These are the clear examples of the oppression present due to land grabs and exploitations faced by the small and landless farmers in the country.

Saleem Kumar, the Tando Mohammad Khan, Coordinator, PKMT stressed the point that instead of distributing land to farmers, the government is promoting foreign investors, allocating land to the corporate sector, steps that further erode the sovereignty, well-being and prosperity of the people of Pakistan.

Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek has made food sovereignty its critical most demand with right to land resonating as the loudest call for gaining social and economic justice.

PKMT’s struggle against imperialist globalization and feudalism challenges land grabbing, corporate agriculture and the whole realm of neoliberal policies that are strangulating farmers lives and livelihood; In essence PKMT demands equitable distribution of land among women and men farmers, the most critical base for ending hunger, poverty and malnutrition in the country.

There is no doubt without Land there is NO Life!

Released by: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) & Roots for Equity

Urdu Press Release

land less day PR 29,march 2018 urdu

First International Rural Youth Assembly

In every generation, the scope and depth of the youth’s participation has always been
decisive in the building of a better future. It is among the youth wherein the best bits of
today’s society are kept alongside the seeds of fundamental social change blooming
within them too.

Azra Talat Sayeed, International Women’s Alliance (IWA) giving a Solidarity message at the First International Youth Rural Assembly, Jakarta Indonesia

Mujtaba giving a Solidarity note at the First International Rural Youth Assembly, Jakarta Indonesia

Women Rise and Resist Imperialist War and Aggression! Unite to Fight for Genuine Liberation!

International Women’s Alliance
8 March 2018

This March 8, the International Women’s Alliance (IWA) and its member organizations invite women worldwide to resist imperialist plunder and war. In honor of the first women strikers in 1908, we commemorate International Working Women’s Day to recognize and continue women’ role in the struggle for peace, justice and self-determination. On this 110th anniversary we uphold the power and legacy of women’s resistance and affirm our commitment to build a strong women’s movement towards women’s genuine emancipation. We have witnessed the impact on women of wars of aggression continuously launched and supported by Imperialist countries.

In the Middle-East, the occupation of Palestine by United States-backed Israel has resulted in the destruction of countless lives in the West Bank and Gaza, including women and children.

Imperialist-led military attacks have increased in Syria, Libya, Iraq, Pakistan and Afghanistan as they continue to be targets in the United States’ so-called fight against terrorism. With these attacks, women and children are seen as “collateral damage”. Meanwhile, the United States is increasingly exposed as the world’s Number One Terrorist.

In Asia-Pacific, the imperialist powers are strengthening their hegemonic control of the region thru the impending implementation of the Trans Pacific Partnership (TPP) agreement. This agreement, which will be signed on the very 8th of March 2018 in Santiago, Chile, only furthers their neoliberal policies and unfair trading laws in the region.

In Asia, the Philippines has continued to suffer from intensified militarization. With the increasing presence of U.S. troops in the country and with President Duterte’s Martial Law, women and children have become victims of human rights violations, and of sexual violence, which is systematically used as a tool of war and as a tool to curtail the fundamental rights of the people.

In the Americas, particularly in the United States, with white supremacist and misogynist President Donald Trump in power, his administration continues to perpetuate political and economic oppression targeting people of color; women including queer women; immigrants from Latin America, Africa, Asia and the Caribbean; LGBTQ communities, and people with disabilities.

In Canada, systemic racism against First Nations people, particularly women, has resulted to thousands of indigenous women murdered or disappeared with impunity.

In Europe, the rise of right-wing movements, and religious and ethnic fundamentalism in India and elsewhere has fanned the flames of anti-immigrant and narrow nationalist violence.

A second cold war is heating up as imperialist powers led by the U.S. prepare for the eventuality of a world war. Regional wars have intensified in the Middle East, Asia, Africa, and Latin America to maintain political and economic hegemony. Puppet and client regimes are created. Regime changes are imposed when governments will not bow to the dictates of imperialist powers. As the imperialists rev up their engines of war, they likewise ignite the resistance of women of the world.

The past years have seen women at the forefront of the struggles against violence, exploitation and oppression. Whether they stand against phalanxes of police and military during strikes, pickets and demonstrations, against the threat of nuclear attack against North Korea, or against the invasion and destabilization of Venezuela, more and more women are joining the struggle against militarism, imperialist wars of aggression, and the rising neo-fascism in many parts of the world.

The resistance of women in Palestine, as emboldened by Ahed Tamimi and many others, who continue to resist and protect themselves and their families, has spread across the world. Women stand in solidarity and struggle against the Israeli occupation. Another model of resistance is that of the women in Kurdistan. They have formed armed self-protection units to protect their homeland and culture from annihilation.

We believe in the power of linking with women so we can collectively resist against imperialism and all forms of violence against our bodies and lives. We aspire for a global society that promotes and protects the rights and interests of women and is void of all forms of discrimination and violence against us. We strive to intensify local struggles and campaigns against imperialism and capitalism, to strengthen international solidarity, and to contribute to the people’s struggle for national liberation, sovereignty and self-determination. This is our militant tradition and we are upholding it this March 8 International Working Women’s Day!

No War on Women at Home and Abroad!
Women Say No to Imperialist Wars of Aggression!