ہفتہ وار زرعی خبریں مارچ 2020

مارچ 26 تا 1 اپریل، 2020

زمین

چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت یہ یقینی بنائے کہ عوامی غذائی تحفظ کی قیمت پر لاک ڈاؤن اور قرنطینہ نافذ نہ کیا جائے۔ حکومت پسماندہ شعبہ جات بشمول بے زمین دیہی افراد کو فوری طور پر معاشی مدد فراہم کرے۔ 29 مارچ، بے زمینوں کے دن کی مناسبت سے روٹس فار ایکوٹی اور پاکستان کسان مزدور تحریک نے مطالبہ کیا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ کووڈ۔19 کے دوران مزید دیہی عوام کو ان کی زمینوں اور روزگار سے بیدخل نہ کیا جائے۔ بے زمین کسانوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسان جاگیرداری نظام میں کئی طرح کے ظالمانہ حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں، خصوصاً کسان عورتیں جاگیرداروں اور پدر شاہی کے ہاتھوں دہرے استحصال کا شکار ہیں۔ بڑی کمپنیوں کے زریعے سرمایہ دارانہ زراعت نے زرعی پیداوار اور منڈیوں پر قبضہ کرلیا ہے جس کے نتیجے میں بے زمینوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔
(ڈان، 30 مارچ، صفحہ9)

زراعت

ایک خبر کے مطابق زرعی شعبہ میں اطلاعاتی (انفارمیشن) ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت (فاؤ) کے درمیان تعاون پر مبنی ایک معاہدے طے پاگیا ہے۔ یہ معاہدہ مواصلاتی رابطے کے زریعے ہونے والی ایک تقریب میں کیا گیا۔ اس موقع پر فاؤ کی نمائندہ مینا ڈولاچی کا کہنا تھا کہ زراعت میں جدت ضروری ہے کیونکہ چھوٹے کسان ناصرف خوراک پیدا کرنے والے ہیں بلکہ صارف بھی ہیں اور پاکستان کے قدرتی وسائل زمین، پانی، حیاتیاتی تنوع اور بیجوں کے نگہبان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 80 فیصد قابل کاشت زمین چھوٹے کھیتوں پر مشتمل ہے اور ان کی اکثریت اب تک فرسودہ زرعی طریقوں کے تحت کاشت کی جاتی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 26 مارچ، صفحہ3)

ایک خبر کے مطابق پنجاب میں موجود ٹڈی دل کے انڈوں (ہیچری) سے زراعت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان انڈوں کا بر وقت خاتمہ نہ کیا گیا تواگلے دو سے تین ماہ کے دوران کچھ اضلاع میں ٹڈی دل کے حملے سے فصلوں کو کافی نقصان ہوسکتا ہے۔ ٹڈی دل کے حملے کا خطرہ ساہیوال، خوشاب، بہاولنگر اور راجن پور میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور میں 7,203 ایکڑ رقبے پر محیط قدرتی جنگل ٹڈی دل کی افزائش کے مقام کے طور پر شناخت کیا گیا ہے جہاں گزشتہ دو سے تین ہفتوں میں ٹڈی دلوں نے اربوں انڈے دیے ہیں۔ محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کے اڑنے کی صلاحیت حاصل کرنے سے پہلے ہی ان کے خاتمے کا انتظام کرنا انتہائی ضروری ہے۔ راجستھان، بھارت سے ان کے جھنڈ کے جھنڈ آنے کاخدشہ ہے جس سے بہاولپور، بہاولنگر، خانیوال، ملتان، بھکر اور لیہ کے اضلاع زیادہ متاثر ہوں گے۔
(ڈان، 27 مارچ، صفحہ2)

Continue reading

Landless Farmers Day marked: ‘Lockdown and quarantines should not increase people’s sufferings’

Our Correspondent
March 31, 2020

SUKKUR: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) and Roots for Equity, a local NGO, joined hands with the Asian Peasant Coalition (APC), and Pesticide Action Network Asia & the Pacific (PANAP) to mark the Landless Farmers Day.

PKMT celebrated the Landless Farmers Day with utmost concern as landless farmers were among the most vulnerable to be affected with the COVID-19 pandemic. More and more, the farmers are forced to work in an informal sector on daily wages in a vulnerable condition bearing the heat of health crisis, especially of COVID-19. The experts said COVID-19 has paralysed almost all economic activities and pushed the world to further food insecurity and poverty.

They said many countries had implemented lockdowns and set up quarantine centres for coronavirus suspects to minimise the impact of COVID-19, adding that the agriculture and food supply chain had been facing great disruption causing escalation in food prices.They suggested the lockdown and quarantines should not be carried out to increase people’s sufferings like food scarcity and provision of other basic essentials. They said it should be ensured that there was no further displacement of rural people from their lands on the pretext of COVID-19 or lockdown, demanded to provide sufficient resources to the people living in the rural areas.

https://www.thenews.com.pk/print/637279-landless-farmers-day-marked-lockdown-and-quarantines-should-not-increase-people-s-sufferings

Govt urged to protect rights of small farmers

March 30, 2020

They asked the government to provide immediate economic relief to the marginalised sectors including the landless rural people.

To mark the “Day of the Landless” on Sunday, two organisations Roots for Equity and Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT), asked the government to ensure that no further displacements of the rural people from their lands and livelihood were carried out in the pretext of Covid-19 lockdowns.

The organisatons state that they commemorate the Day of the Landless with utmost concern as the landless rural people are among the most vulnerable to the impacts of the Covid-19 pandemic.

Organisations say landless rural people vulnerable to impacts of Covid-19 pandemic

In a media release, they state that with many countries implementing sweeping lockdowns and quarantines often with vague operational guidelines, to contain the spread of Covid-19, the agriculture and food supply chain faces great disruption with an escalating price-hike already sending food prices to very high levels.

They say that landless peasants along with small farmers are forced to work in a variety of oppressive conditions on lands under feudal ownership.

“Women growers particularly work under double tier of exploitation at the hands of landlord as well as patriarchy. Along with this, capitalist agriculture through its mega corporations has captured agricultural production and markets resulting in a huge increase in the percentages of the landless,” they say.

They claim that the landless workers are forced to work in the informal sector on daily wages in a variety of situations. “Together with the rest of ordinary toiling people, they bear the brunt of the raging public health crisis of Covid-19 that has paralysed almost all economic activities and pushed them to further food insecurity and poverty,” they maintain.

They say that livelihoods in jeopardy the small producers and poor consumers are suffering the major brunt of the lockdown. They add that in addition, with total ban on inter and intra-provincial travel, agriculture workers and other daily wagers have no means of finding work.

They fear that the Covid-19 may be used as cover up to further harass and dislocate farming communities as part of evictions under land grabbing for corporate interests.

Published in Dawn, March 30th, 2020

https://www.dawn.com/news/1544871/govt-urged-to-protect-rights-of-small-farmers

March 2020 ہفتہ وار زرعی خبریں

مارچ 5 تا 11 مارچ، 2020

زمین

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران غیر ملکیوں کے ذریعے خریدی گئی تمام زمین کا ریکارڈ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے پیش کیے گئے آئین کے آرٹیکل 253 اے کے ترمیمی بل 2018 پر تبادلہ خیال کے بعد کیا گیا۔ ترمیمی بل کے حوالے سے سینیٹر کا کہنا تھا کہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس بل کے تحت کوئی غیرملکی ملک میں غیرمنقولہ جائیدار رکھنے اور خریدنے کا اہل نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہنا چاہیے لیکن قومی مفاد پر سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی غیرملکی کو 20 سال سے زیادہ عرصے کے لیے زمین لیز پر نہیں دینی چاہیے کیونکہ پاکستان میں دو دہائیوں بعد ریکارڈ کا حصول تقریباً ناممکن بن گیا ہے۔ 20 سال بعد یہ دیکھا جائے کہ آیا زمین کی لیز بڑھنی چاہیے یا نہیں۔
(ڈان، 10 مارچ، صفحہ4)

پانی

محکمہ آبپاشی سندھ اور سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی کے اہلکاروں نے سیو بدین ایکشن کمیٹی کے سربراہ میر نور احمد تالپور کی زمین کو سیراب کرنے والے واٹرکورس بند کردیے ہیں۔ میرنور احمد تالپور نے پھلیلی نہر میں تین مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور بااثر افراد کو پانی فراہم کرنے پر آواز اٹھائی تھی۔ ان کا کہا ہے کہ اگر انتقامی کارروائیاں بند نہ کی گئیں اور نہروں میں پانی جاری نہیں کیا گیا تو وہ ضلع کے تمام چھوٹے بڑے قصبوں میں 20 مارچ سے ہڑتال کریں گے۔ چیئرمین ایریا واٹر بورڈ قبول محمد کاتھیان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرقانونی واٹرکورسوں کے خلاف کارروائی کا آغاز عدالتی احکامات پر کیا گیا ہے۔
(ڈان، 7 مارچ، صفحہ17)

زراعت

چین نے ٹڈی دل کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے مختلف صوبوں میں اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ چین پاکستان کو پانچ ملین ڈالر کی تکنیکی معاونت کے ساتھ ساتھ 50 عدد ڈرونز اور 300,000 لیٹر کیڑے مار مواد بھی فراہم کرے گا جو صوبہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے متاثر علاقوں میں استعمال کیا جائے گا۔ سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ہاشم پوپلزئی کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے فوری طور پر ڈرونز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی پہلی کھیپ نو مارچ کو پاکستان پہنچے گی۔ چین سے تکنیکی ماہرین کی ٹیم بھی بھیجی جائیگی جو محکمہ تحفظ نباتات اور متعلقہ صوبائی محکموں کو تربیت بھی دے گی۔
(ڈان، 5 مارچ، صفحہ5)

گندم

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے گندم کی امدادی قیمت 1,365 روپے سے بڑھا کر 1,400 روپے فی من کرنے کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے دوبارہ رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت کو خدشہ ہے کہ اعلان کردہ قیمت (1,365 روپے فی من) پر 8.25 ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف حاصل نہیں ہوگا۔ سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ اس سلسلے میں بین الصوبائی اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجی جانے والی سمری کو حتمی شکل دی جائے گی جس میں گندم کی امدادی قیمت 1,400 روپے فی من کرنے کی سفارش کی جائے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 5 مارچ، صفحہ3)

قومی احتساب بیورو، بلوچستان نے لاکھوں روپے مالیت کی گندم کی چوری کے الزام میں محکمہ خوراک کے اعلیٰ افسر کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر بشیر ابڑو کے خلاف اختیارت کے غلط استعمال اور مبینہ طور پر بدعنوانی میں ملوث ہونے پر قائم کیا گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے مطابق بشیر ابڑو تحقیقات کے دوران یہ وضاحت دینے میں ناکام رہے کہ محکمہ کی 7,000 گندم کی بوریاں کہاں غائب ہوئی ہیں اور 3,000 بوریاں کس طرح ضائع ہوئی ہیں۔
(ڈان، 6 مارچ، صفحہ5)

آٹا مل مالکان نے ان اطلاعات پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ موسم میں انہیں گندم کی خریداری سے روک دیا جائے گا۔ مل مالکان کا کہنا ہے کہ اس حکومتی اقدام سے ناصرف کسانوں کو نقصان ہوگا بلکہ اس سے صوبے پر مالی بوجھ بھی پڑے گا۔ آٹا مل مالکان کی جانب سے وزیر اعلیٰ، وزیر خوراک پنجاب و دیگر ذمہ داران کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو 4.5 ملین ٹن گندم کی خریداری کے لیے 154 بلین روپے مختص کرنے پڑیں گے اور خریدی گئی گندم کو ذخیرہ کرنے کے لیے چھ ماہ تک یومیہ اوسطاً 100 ملین روپے اخراجات ہونگے۔ آٹا مل مالکان حکومت کے اس مالی بوجھ کو بانٹ سکتے ہیں اگر حکومت انہیں منڈی میں متحرک کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔
(ڈان، 7 مارچ، صفحہ2)

اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ خوراک و زراعت (فاؤ) کے مطابق اس سال مناسب موسمی صورتحال اور زرعی مداخل کی مناسب دستیابی کی وجہ سے پاکستان میں 25.2 ملین ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے۔ تاہم پنجاب اور سندھ میں حالیہ ٹڈی دل حملے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حکومت نے اس سال گندم کا پیداواری ہدف 27.03 ملین ٹن مقرر کیا ہے۔ جبکہ گزشتہ سال شدید موسمی صورتحال کی وجہ سے 1.5 ملین ٹن گندم ضائع ہوگئی تھی۔
(ڈان، 7 مارچ، صفحہ10)

ٰوفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملک میں گندم کے بحران پر وزیراعظم عمران خان رپورٹ پیش کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں گندم کی کوئی کمی نہیں تھی۔ یہ بحران مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا۔ رپورٹ میں بد انتظامی آٹے کے بحران کی وجہ بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اب بھی ملک میں 2.1 ملین ٹن گندم موجود ہے۔
(دی نیوز، 8 مارچ، صفحہ1)

وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے تعاون سے خریداری مہم میں 8.25 ملین ٹن گندم خریدنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے ترجمان کے مطابق گندم کی خریداری مہم سندھ میں 15 مارچ سے جبکہ پنجاب میں اگلے مہینے شروع ہوگی۔ سندھ 1.4 ملین ٹن گندم خریدے گا۔ گندم کی سرکاری خریداری کے لیے صوبے میں 57 مراکز قائم کیے گئے ہیں اور باردانے کی تقسیم کا آغاز 15 مارچ سے ہوگا۔ اس کے علاوہ پاسکو تمام صوبوں سے 1.8 ملین ٹن گندم خریدے گا۔ اس سال صوبہ پنجاب 4.5 ملین ٹن، خیبرپختونخوا 0.45 ملین ٹن اور بلوچستان 0.1 ملین ٹن گندم خریدے گا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 9 مارچ، صفحہ3)

ویٹ ریویو کمیٹی نے گندم کی امدادی قیمت 1,400 روپے فی من مقرر کرنے کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گندم کی امدادی قیمت 1,365 روپے فی من مقرر کی گئی تھی۔ تاہم حالیہ گندم کے بحران میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کسان کیوں اپنی پیداوار کم قیمت پر صوبائی حکومتوں اور سرکاری اداروں کو فروخت کریں گے جبکہ منڈی میں اس کی قیمت زیادہ ہے۔
(ڈان، 10 مارچ، صفحہ3) Continue reading

March 2020 ہفتہ وار زرعی خبریں

فروری 27 تا 4 مارچ، 2020

زراعت

حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے نو جنوبی اضلاع میں ٹڈی دل حملے پر ہنگامی حالت کے نفاذ کے دو ہفتے بعد ہی ضلع لکی مروت میں کھڑی فصلوں کو ٹڈی دلوں کے ایک اور حملے کا سامنا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس نئے حملے سے فصلوں کو شدید نقصان ہوسکتا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ ہنگامی حالت پر توجہ دینے میں ناکام ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 27 فروری، صفحہ6)

محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے منعقد کی گئی پنجاب پیسٹی سائیڈ کانفرنس 2020 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کسان سالانہ 67 بلین روپے لاگت کا زرعی زہر (پیسٹی سائیڈ) استعمال کررہے ہیں جس میں سے 88.3 فیصد پنجاب میں، 8.2 فیصد سندھ جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان 2.8 فیصداستعمال ہوتا ہے۔ کانفرنس میں وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگریال کا کہنا تھا کہ پنجاب میں استعمال ہونے والے زرعی زہر کے میعار کی جانچ کے لیے 176 معائنہ کار (انسپکٹر) کام کررہے ہیں لیکن کسانوں کی جانب سے جعلی اور غیر معیاری زرعی زہر کی شکایات اب بھی موجود ہیں۔ متعلقہ عملے نے اب تک 150 ملین روپے مالیت کی ملاوٹ شدہ کھاد اور زرعی زہر ضبط کیا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 28 فروری، صفحہ16)

زراعت

چینی ماہرین پرمشتمل ٹیم نے چینی قونصل جنرل کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ پاکستان میں 30 ملین ہیکٹر زمین ٹڈی دل سے متاثر ہوئی ہے جس میں سے 900,000 ہیکٹر زمین کا سروے مکمل کرلیا گیا ہے۔ زرائع ابلاغ کو چینی ماہرین کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ چینی حکومت پاکستان کو 50 گاڑیاں فراہم کرے گی جن کی مدد سے یومیہ 16,000 ہیکٹر زمین پر چھڑکاؤ کیا جائے گا۔ 50 ڈرونز بھی فراہم کیے جائیں گے جس سے فی گھنٹہ 1,333 ہیکٹر زمین پر چھڑکاؤ اور جانچ کی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ ہوائی جہاز بھی فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت پاکستان کی درخواست پر چینی حکومت نے ٹڈی دل کا مقابلہ کرنے کے لیے ماہرین پر مشتمل عملے کو پاکستان بھیجا تھا۔
(ڈان، 28 فروری، صفحہ16)

گندم

سندھ آباد گار اتحاد نے حکومت سندھ پر گندم کے خریداری مراکز قائم کرنے، گندم کی سرکاری خریداری کا ہدف 1.4 ملین ٹن سے بڑھا کر دو ملین ٹن کرنے اور گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے پر زور دیا ہے۔ حیدر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور کاکہنا تھاکہ گندم کی امدادی قیمت حکومت سندھ کی اعلان کردہ 1,365 روپے فی من کے بجائے 1,600 روپے فی من مقرر ہونی چاہیے۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میرپورخاص کے علاقے جھڈو اور نوکوٹ میں گندم کی کٹائی جاری ہے لیکن حکومت نے اب تک وہاں گندم کے خریداری مراکز قائم نہیں کیے۔
(ڈان، 3 مارچ، صفحہ17)

کپاس

سندھ آباد گار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر کپاس کی امدادی قیمت اور بیج کے مسائل حل نہ کیے تو سال 2020 میں کپاس کی پیداوار میں مزید کمی ہوگی۔ ملک میں کپاس کی 15 ملین گانٹھوں کی ضرورت ہے جبکہ سال 2019 میں صرف آٹھ ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی۔ حکومت کو ناصرف کپاس کی درآمد پر 1.5 بلین ڈالر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے بلکہ درآمدی محصولات ختم کیے جانے کی وجہ سے بھی اربوں روپے کی ٹیکس آمدنی کا نقصان ہوتا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 3 مارچ، صفحہ5)

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق یکم مارچ تک کپاس کی پیداوار 20.3 فیصدکم ہوکر 8.6 ملین گانٹھیں ہوگئی ہے جو گزشتہ سال 10.7 ملین گانٹھیں تھی۔ اس سال پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں کمی 22.8 فیصد جبکہ سندھ 16.3 فیصد ہے۔ رواں موسم میں کپاس کی پیداوار میں 2.2 ملین گانٹھوں کی کمی ہوئی ہے۔
(ڈان، 4 مارچ، صفحہ10)

پیاز

حکومت نے پیاز کی برآمد پر پابندی کا باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق برآمد پر یہ پابندی 31 مئی تک عائد رہے گی۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹز ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) نے حکومت پر زور دیا ہے کہ جو پیاز پہلے ہی بندرگاہ تک پہنچ چکی ہے اسے برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ پیاز کے تقریباً 170 کنٹینر بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں جنہیں برآمد کیا جانا تھا۔ پی ایف وی اے کے سربراہ وحید احمد کا کہنا ہے کہ برآمد کنندگان کو پیاز برآمد نہ ہونے کی صورت میں دو ملین ڈالر کے نقصان کا خدشہ ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 2 مارچ، صفحہ2)

پاکستان کسٹم نے 29 فروری سے پہلے تک برآمد کی منظوری (گڈز ڈکلریشن) کی حامل پیاز برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر 29 فروری سے پیاز اور سرخ مرچ کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے علاوہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی فوری طور پر پابندی کی منظوری دے دی تھی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پیاز کے کئی کنٹینر بندرگاہ میں پھنس گئے تھے لہذا محکمہ کسٹم نے 29 فروری سے پہلے گڈز ڈکلریشن حاصل کرنے والوں کو پیاز برآمد کرنے کی منظوری دی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 3 مارچ، صفحہ5)

پھل سبزیاں

سیکریٹری جنرل بزنس میں پینل احمد جواد نے کہا ہے کہ غیر روایتی برآمدات میں اضافے کے لیے باغبانی سے متعلق برآمدات کی پالیسی نہایت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے پچھلے کچھ سالوں سے کوئی قابل عمل پالیسی نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر طرح کے ذائقہ دار پھل اور سبزیاں موجود ہیں جن کا دنیا میں دوسرے ممالک سے کوئی مقابلہ نہیں ہے لیکن اس شعبہ کی برآمدات صرف 600 ملین ڈالر ہیں۔ ہماری ترجیح لازمی طور پر سالانہ دو بلین ڈالر کی برآمدات ہونی چاہیے۔ دنیا میں پھل و سبزی کی تجارت 180 بلین ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے اور پاکستان کے علاقائی حریف چین اور بھارت کا قدر میں اضافے (ویلیو ایڈیشن) کے زریعے اس تجارت میں بڑا کردار ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 28 فروری، صفحہ5) Continue reading

WOMEN CONSTITUENCY STATEMENT ON CIVIL SOCIETY MECHANISM (CSM)

Public Panel

Public Debate: 10 Years After the Committee on Food Security (CFS) Reform

Civil Society Forum 2019, Rome, Italy 12-13 October, 2019

Azra Talat Sayeed

Women Constituency, Civil Society Mechanism (CSM)

The main thrust of the intervention was:

The Committee on World Food Security is facing many problems. These problems include the struggle between powerful countries such as the United States and China. The main economic paradigm used by various political actors is based on neoliberalism and hence policies of deregulation, privatization and trade liberalization are pushed. Huge corporations are being helped through the implementation of these policies to control our resources, labor and markets.

Women are half of the world’s population and immensely impacted though this fight for resources. So the demands that are resonating from the women of the world include control over resources. Land rights remain at the heart of our demands as women are by far the largest segment that is landless in the world. The corporate capture of land is resulting in immense land grab across countries, especially in the continents of the third world. As part of the control over resources land grab is top most; even rich countries, land scarce and food scarce countries are grabbing land. And hence instead of women being given priority in land titles, it is the corporate sector, which is controlling thousands of acres of land across our continents. Result is massive evictions of our people, especially the indigenous people who are being hunted and forced to leave their ancestral lands.

At the same time its not only land that women demand, they also demand access and control over all reproductive resources. It is clear that fisher women, pastoralists and others don’t necessarily need land rights but must have control over production, and the resources needed for production. Its also clear that women demand access and control over markets. Continue reading

PCFS Statement – To AIIB: Stopbankrolling landgrabs

The Peoples Coalition on Food Sovereignty (PCFS) demands the members of the Asian Infrastructure and Investment Bank (AIIB) to stop funding projects especially of China’s Belt and Road Initiative (BRI) that result to landgrabbing and rural peoples’ displacement. On the occasion of the AIIB’s annual meeting this July 12-13 in Luxembourg, we stand with the rural peoples on their call for greater accountability and transparency, as well as justice for the violations of the people’s rights.

While AIIB asserted that it is a multilateral bank for the longest time, recent pronouncements show that it is ultimately a financing institution of the BRI with over 7,000 China-funded projects that focus on transportation, maritime navigation, energy, and trade spanning more than 60 countries in the Global South.

As a multilateral lender, AIIB has been consistently behind most of the BRI projects – as a co-funder or as a key lender. This will surely accelerate as AIIB President Jin Liqun declared to focus more on the bank’s own portfolio and sees the bank as a “twin engine” with BRI.[i] More than 60 out of the 87 member countries of the AIIB are part of the BRI. As it is, AIIB is currently bankrolling China’s expansionist lending strategy that ultimately impacts the most vulnerable in the Global South – the rural peoples.

Last month in Hong Kong, PCFS together with the Asia Pacific Research Network (APRN) conducted a forum on China’s BRI and its impact on the rural peoples.  Discussions and accounts of the participants from Asia, Africa, and Latin America regions paint a dismal picture of the BRI projects’ impacts to rural peoples and the right to food sovereignty. Numerous cases of rights violations such as displacement, landgrabbing, harassment, corrosion of traditions, and aggravation of fragility in regions have been reported.

A threat to the right to land. Without adequate environmental and social assessment in the regions and countries, AIIB has been co-funding multiple BRI projects that are opaque and inaccessible to the public. As mentioned above, these include megadams, large roads, ports, and energy plants that often result in landgrabbing and displacement. Continue reading

WHY WE MUST OPPOSE GENETICALLY MODIFIED SEEDS?

A Brief prepared by Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek and Roots for Equity

Seed was born free. It has multiple functions: it is the reservoir of genetic resources, it is the basic unit for our food, it holds life in its core, essential for maintain human and all life on this planet.  Commodification of seed is commodification of life!

Following are some points elaborated to highlight why Sojhla for Social Change, Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT), Roots for Equity and other people’s and civil society organizations have been opposing in general the Trade-related Aspects of Intellectual Property Rights Act (TRIPs) and specifically the Pakistan Seed (Amended) Act 2015, and the Plant Breeders Rights Act 2016.

Farmers Collective Rights over Seed and Patenting of Life Forms

Seed, a genetic resource is a gift of nature and belongs to no one person or corporation but is owned collectively. But there is no doubt, that it was farmers who over many millennia experimented, re-generated, sorted, propagated and saved seeds. It was the collective knowledge of farmers and rural communities that allowed hundred of varieties of grains, vegetables, fruits, and flowers to be domesticated for human civilization. Farmers saved seed from one generation to the next, a process that went on for millions of years. There were thousands of varieties that were developed by farmers, but even though we farmers came out with new varieties we respected and followed the rules of nature, and shared the genetic resources openly with all. We, who have our history based in the Indus Valley Civilization, were the first to domesticate seed and through our knowledge and experience pass the best of genetic resources to our generations. Therefore, we farmers believe that first seed is free; it is a carrier of life and being a living thing it cannot be shackled, it cannot be owned by individuals or companies. If at all, it is the collective property of farmers; we have been its custodians, its guardians. We have respected our position of custodians and hence shared it fully and openly with all those who wish to use it as food, as a source of health, as a source medicine and of life.

Risks to Biodiversity:

It needs to be pointed out that with the advent of Green Revolution in the 1960s, seed has been forced out of our care and custody and turned into a commodity. With corporate control over seeds, with promotion of hybrid varieties and now genetically modified seeds we have lost much of the indigenous varieties in just 50 years; genetic diversity which was saved through hundreds of millennia were lost in less than half a century!

If we allow genetically modified seeds to take over our food and agriculture this will further the process of destroying biodiversity. Hybrid varieties and genetically modified seeds are based on monoculture and uniformity; they belie the intricate interwoven complexity of all forms of biodiversity with each other. Seed has been turned into a machine whose worth is weighed by productivity. But seed’s function is not only productivity: its function is in promoting various forms of life, of which human intelligence has as yet not grasped enough to turn it into a only an addition, subtraction formula. Plant life is very complex, it’s a food chain as well as shelter for millions of other life forms from birds to reptiles, to insects and millions and millions of microorganisms.  Uniformity in plant life negates diversity of life, and is fast leading to various forms of ecological disasters.

It needs to be added, that high yielding varieties are at least not an irreversible biological change in the plant, and over time genetic material can be retrieved from these seeds. But GM seeds are formed through a biological process that is irreversible. The GM seed can carry out reproduction with natural seeds; this means vast, irreversible contamination of our genetic resources. Once GM seeds have spread in nature, it’s like having a child with genetic abnormalities – one cannot take away the defect and it will keep on producing itself, contaminating and polluting natural varieties in the environment.

Corporate Control over Food and Agriculture

Agro-chemical corporations and seed corporations have worked hard to create a legal policy framework based on which seed can be called their property. This is because seed has an amazing characteristic – even only a single seed can generate hundreds of replicas and hence it is impossible to create control over seed – this is only possible through a legal system that allows these mega-corporations to control and own life. With control over seed by profit-driven corporations, a nation loses the ability to control its food production. The corporations can choose the price at which a seed would be sold. They can easily refrain from marketing seeds in any particular country; in these times of conflict and war – seed control is only one more added dependency. Today farmers cannot decide what they would like to grow; they have to depend on what seed the corporations provide in the market and have little choice but to grow that. Please note that today, nearly all vegetables in Pakistan are grown from corporate controlled seeds and each one of them is heavily doused with toxic pesticides. This is the food that all citizens are forced to consume –rich or poor.

It is important to note that a majority of seed is now in the hands of only four big corporations: Bayer, BASF, ChemChina and Corteva; in a handful of years, these four corporations have monopolized the seed sector. These four seed corporations control 60% percent of seed sales, globally. Just ten years ago, in 2009 there were at least 100 seed companies. Only in the last 2-3 years, there have been huge mergers such as Bayer purchasing Monsanto to be the largest seed company today. In 2017, DuPont had merged with Dow to form the US Corporation DowDupont; this year the company has separated its agricultural wing and named it Corteva agriscience. Continue reading

Feeding our “Swarming Millions”

Azra Talat Sayeed

The question of “feeding the stomach of our swarming millions’ keeps getting raised over and over again. It seems that there is no other way to reach this objective without accepting genetically modified seeds. But such a myopic viewpoint can only be termed nonsensical. Hunger can easily be assuqged without GMO crops, if only our government would not allow wheat to rot in godams, and instead give it to the people facing acute hunger and malnutrition. With surplus wheat production in the country, the constant harping on the hunger of the people seems a bit silly. GM seeds have been used in cotton which is not a food crop, but has ultimately resulted in further impoverishment of our masses, especially rural women. The cotton harvest has been destroyed systematically. From cotton to maize seems the next corporate driven agenda. We know very well, that GM maize is not meant as food but for ethanol.

In Pakistan, we have shifted to sugarcane from cotton: driven by the profit driven market for ethanol. Now, maize follows the same ‘logic’. Do we know that hybrid and GM variety of maize seeds, apart from producing ethanol are also being developed purely to produce fodder that would increase the quantity of animal manure which would then be used for producing bio-diesel? We are turning agriculture into an ‘assembly line production system’ to meet the unquenchable thirst of capitalism on oil? Can we forget the ‘weapons of mass destruction’ in Iraq? Was it WMD or oil? So, it goes on – oil of course remains top priority – but so is ethanol. Do we recall the food crisis of 2008? It was driven by corn production in the US to produce ethanol. Fuel is life blood of capitalism – its industrialised economy cannot run without energy. And capitalism is blood thirsty: history has shown this over and over again. We would be fools to forget what the search for profits has resulted in the short history of capitalism.

Talking about alienating hunger through modern agriculture is really nothing new. I would like to quote a US senator. In 1957, Senator Hubert Humphrey said:

“I have heard . . . that people may become dependent on us for food. I know that was not supposed to be good news. To me, that was good news, because before people can do anything they have got to eat. And if you are looking for a way to get people to lean on you and to be dependent on you, in terms of their cooperation with you, it seems to me that food dependence would be terrific.” (Global Rift, Third World Comes of Age, L. S. Stavrianos, p 443)

And in wake of such an imperialist vision came the Green Revolution. Today Pakistan is totally dependent for its seed on mega agro-chemical corporations, with nearly all of them based in North America and Europe with China recently jumping in. So let us be clear: GM technology is furthering the imperialist agenda of controlling our agriculture sector, ensuring a trade deficit, keeping us drowned in debt. It is not about ‘feeding our swarming populations.”

It is unfortunate that these debates are no longer only about getting our people out of debt and hunger, this is now about saving our world; saving ourselves from global warming. I would remind us that the ‘swarming millions’ right now are suffering from unbearable heat across the nation. Our biodiversity across the globe is on the verge of collapse. Science is no more independent and corporations are coming up with short-term profit seeking destructive technologies.

Humans and all living things on this planet are suffering, which seems such a mild statement for the unbearable misery and impoverishment of the masses across the globe. We really need to read history, and learn and go forward. Colonization may be dead but it seems to have given birth to an unnatural monster: Neo-colonization which is now a grotesque reality. We need to stop saying, believing and fighting for what are colonial and Neo-colonial masters and mistresses dictate. If we really want a peaceful, prosperous world, free from hunger and poverty, there is no other way but to fight for our liberation.

Stop Killing Farmers! Global Day of Action Negros Killings!

Philippines: On March 30, 14 farmers were victims of extrajudicial killings following police and military operations in Negros Oriental. The farmers, who are already suffering through years of neglect, are repeatedly being subjected to these atrocities. We stand alongside the families of the victims, and express our intention to arduously exhaust all platforms for justice and accountability.

To mark the Global Day of Action April 10, members of Roots for Equity, hold up sign calling for an end to peasant killings in the Philippines.