ہفتہ وار زرعی خبریں

اپریل 12 تا 18 اپریل

زراعت

محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق کسانوں کو آمدنی کی غیر یقینی صورتحال سے نجات دلانے کے لئے حکومت پنجاب نے فصلوں کی بیمہ اسکیم (تکافل) کا آغاز کردیا ہے۔ اس حوالے سے خریف کے موسم میں منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز شیخوپورہ، ساہیوال، لودھراں اور رحیم یار خان سے کیا جائیگا۔ اس منصوبے کے تحت پانچ ایکڑ زمین رکھنے والے کسانوں کی بیمہ کی تمام رقم (پریمیم) بطور زرتلافی حکومت ادا کرے گی جبکہ چھ ایکڑ سے 25 ایکڑ تک کے زمین مالکان کی بیمہ کی رقم کا 50 فیصد حصہ بھی حکومت بطور زرتلافی ادا کرے گی۔ پہلے مرحلے میں یہ بیمہ اسکیم صرف چاول اور کپاس کی فصلوں تک محدود ہوگی جبکہ دوسرے مرحلہ میں گنا، مکئی، گندم، پھلوں، سبزیوں سمیت دیگر فصلوں پر بھی اس منصوبے کا اطلاق کیا جائیگا۔ منصوبے کے تحت قدرتی آفات اور کم پیداوار کی صورت میں کسانوں کو معاوضہ کی رقم ادا کی جائے گی۔
(بزنس ریکارڈر، 12 اپریل، صفحہ20)

کسانوں کو بلاسود قرض کی فراہمی کے منصوبے (ای کریڈت اسکیم) کے تحت تقریباً 314,000 کسانوں کو قرضے دیئے جا چکے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب اس سال خریف کے موسم میں 40 ہزار روپے فی ایکڑ قرضہ فراہم کررہا ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق حکومت نے 50 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کے تحت کسان اخوت، نیشنل رورل سپورٹ پروگرام، ٹیلی نار بینک، نیشنل بینک آف پاکستان اور زرعی ترقیاتی بینک سے قرض حاصل کرسکتے ہیں۔ سود سے پاک قرضوں کا اجراء زرعی شعبہ میں 5.73 فیصد شرح نمو کے حصول میں اہم کردار کرے گا۔
(بزنس ریکارڈر، 12 اپریل، صفحہ20)

ایک مضمون کے مطابق کابینہ نے قومی غذائی پالیسی (نیشنل فوڈ سیکیورٹی پالیسی) منظور کرلی ہے اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے پالیسی پر عملدرآمد کے لیے منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وزارت کے اعلی حکام نے اس کی خصوصیات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ایسا جدید اور موثر خوراک کی پیداوار اور اس کی تقسیم کا نظام یقینی بنانا ہے جو غذائی تحفظ، خوراک میں غذائیت، خوراک تک رسائی اور اس کے استعمال میں معاون ہو۔اس کے علاوہ اس پالیسی میں کسانوں کی بیج، کھاد، زرعی مشینری جیسے معیاری مداخل تک رسائی میں اضافے پر توجہ مرکوز ہوگی۔ اس پالیسی کے دیگر اہم مقاصد میں غربت کا خاتمہ، بھوک اور غذائی کمی کا خاتمہ، خوراک کی پائیدار پیداوار کے نظام کا فروغ اور زراعت کو مزید فائدہ مند، منافع بخش اور موسمی تبدیلی سے مطابقت کے قابل بنانا ہے۔
(امین احمد، ڈان، 16اپریل، صفحہ4، بزنس اینڈ فنانس)

محکمہ زراعت پنجاب نے زرعی شعبے میں جامع اصلاحات کا منصوبہ اسٹرینتھنگ مارکیٹ فار ایگری کلچر اینڈ رورل ٹرانسفورمیشن پرجیکٹ (اسمارٹ) کا آغاز کردیا ہے جس سے پانچ سالوں میں زرعی شعبے کی اقتصادی قدر میں 2.2 بلین ڈالر اضافہ اور 350,000 ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ امکان ہے کہ منصوبے سے 1.7 ملین افراد غربت سے باہر آجائیں گے۔ سیکریٹری زراعت پنجاب محمد محمود نے صحافیوں کو منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کے اہم مقاصد میں نجی شعبے کو زرعی منڈی قائم کرنے کی اجازت، دودھ اور گوشت کے میعار کی بہتری اور اس کی پیداوار کی حوصلہ افزائی، مویشیوں کی افزائش اور ان کی بہتر دیکھ بھال اور آبپاشی کے پانی کا بہتر استعمال شامل ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 17 اپریل، صفحہ13)

سندھ حکومت نے حال ہی میں اعلان کردہ زرعی پالیسی پر عمل درآمد کے لئے ’ایگری کلچر پالیسی امپلی مینٹیشن کمیشن‘ کے نام سے ایک کمیشن قائم کیا ہے جس کا مقصد اعلان کردہ زرعی پالیسی پر عملدرآمد کے لئے حکمت عملی تیار کرنا ور پالیسی کے حوالے سے سامنے آنے والے مسائل کو حل کرنا ہے۔ وزیر زراعت سندھ سہیل انور سیال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ کمیشن کے سربراہ وزیر زراعت سندھ ہونگے جبکہ اس کے دیگر ارکان میں محکمہ منصوبہ بندی، زراعت، جنگلات، آبپاشی، خزانہ اور سندھ ایگریکلچرل گروتھ پراجیکٹ کے سیکریٹری، ایوان زراعت سندھ اور سندھ آبادگار بورڈ کے چیئرمین بھی شامل ہونگے۔ اس کمیشن میں مال مویشی، ماہی گیری شعبے کے نمائندے اور نجی شعبے کے ماہرین بھی شامل ہونگے۔
(ڈان، 18 اپریل، صفحہ 19)

ڈیری

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین االصوبائی رابطہ میں سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ نسیم صادق نے انکشاف کیا ہے کہ دودھ کے کارخانوں میں اوسطاً ایک ٹرک تازہ دودھ سے پروسیسنگ کے بعد 14 ٹرک دودھ تیار کیا جاتاہے۔ تازہ دودھ میں چربی کی مقدار چھ فیصد جبکہ ڈبہ بند دودھ میں یہ مقدار تین فیصد ہوتی ہے۔ کمپنیوں کو خشک دودھ تیار کرنے کے لئے اجازت نامے (لائسنس) فراہم کیے گئے تھے لیکن 20 سے زائد کمپنیاں خشک دودھ کے بجائے چائے کو سفید کرنے والا محلول (ٹی وائٹنر) بنا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر خشک دودھ بھارت سے درآمد کرکے یہاں فروخت کیا جارہا ہے۔ مقامی دودھ پر زرتلافی اور درآمدی دودھ پر محصولات میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کے اقدمات سے مویشیوں کی آبادی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں مال مویشی شعبے کی ترقی کے لیے امریکی اور آسٹریلوی طرز پیداوار اپنائے گئے لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ یہاں صرف مقامی طریقے ہی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں بھیڑوں کی تقریبا 200 نسلیں پائی جاتی ہے اور ہر 150 کلومیٹر کے بعد بھینس اور گائے کی نئی نسل دیکھی جاسکتی ہے۔ ملک کی 46 فیصد آبادی کے پاس مال مویشی موجود ہیں جن کی دیکھ بھال کرنے والوں میں 95 فیصد عورتیں ہیں۔اگر ان عورتوں کوتربیت دی جائے تو مال مویشی شعبے میں بہتری آسکتی ہے۔
(ڈان، 14 اپریل، صفحہ 4)

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کسانوں اور ملک کی ڈیری صنعت کے تحفظ کے لیے خشک دودھ کی درآمد پر محصولات میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کررہی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت نے کسانوں اور ڈیری کی صنعتوں سے بھی تجاویز طلب کی ہیں۔ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن نے تجویز دی ہے کہ کسانوں سے تازہ دودھ کی خریداری کی بنیاد پر درآمد کیے جانے والے خشک دودھ کے لیے کوٹہ سسٹم نافذ کیا جائے۔ کوٹے کے تحت درآمد کیے گئے خشک دودھ پر درآمدی محصول (ریگولیٹری ڈیوٹی) پانچ فیصد کردیا جائے اور بغیر کوٹہ کے درآمدی خشک دودھ پر 60 فیصد محصول عائد کیا جائے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعداوشمار کے مطابق ڈیری کی صنعت خشک دودھ (بشمول وے پاؤڈر) کی کل درآمد کا 55 فیصد استعمال کرتی ہے جبکہ 45 فیصد دیگر صنعتیں استعمال کرتی ہیں۔ڈیری ایسوسی ایشن نے وزارت پر زور دیا کہ وہ مقامی کسانوں سے دودھ خریدنے والوں کو فائدہ فراہم کریں۔ مجوزہ طریقہ کار انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور ترکی میں بھی نافذ ہے۔

(بزنس ریکارڈر، 14 اپریل، صفحہ7)

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر شاکر عمر گجر نے پشاور پریس کلب پر ایک نیوز کانفرنس میں مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور ملک میں خشک دودھ کی درآمد اور فروخت پر پابندی عائد کرے اور دودھ و گوشت کی پیداوار میں بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیری شعبہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے جس کی وجہ سے فارمر اپنے مویشی قربان کرنے پر مجبور ہیں۔ اس شعبے کو درپیش مسائل کی وجہ سے ڈیری فارمر یہ پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ کراچی میں تقریباً 200 ڈیری فارمر دیوالیہ ہوگئے ہیں اور قریب 100 ٖڈیری فارمر نے اپنا کاروبار سندھ سے پنجاب منتقل کردیا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ہزاروں ٹن خشک دودھ (وے پاؤڈر اور اسکمڈ ملک پاؤڈر) درآمد کیا گیا ہے جس سے مقامی ڈیر فارمرز کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں مصنوعی (سنتھیٹک) دودھ کی فروخت بھی بڑھ رہی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 17 اپریل، صفحہ8)

گندم

اعلی سرکاری حکام کے مطابق پنجاب میں اس سال گندم کی 19.96 ملین ٹن پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ سال 20 ملین ٹن تھی۔ گندم کی کٹائی کے موسم میں اہم مسئلہ منڈی میں گندم کی گرتی ہوئی قیمت ہے جو باعث تشویش ہے۔ جنوبی پنجاب کے کچھ علاقوں میں گندم کی قیمت 1,100 روپے فی من ہوگئی ہے جبکہ سرکاری قیمت 1,300 روپے فی من ہے۔ گذشتہ چند دنوں میں میاں چنوں، بھاولنگر، پاکپتن، عارف والاکی تھوک منڈیوں میں گندم کی قیمت 1,040سے 1,120 روپے فی من تھی۔ چیئرمین پاکستان کسان اتحاد خالد کھوکھر کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے آئندہ ہفتے سے گندم کی خریداری کا عمل شروع نہیں کیا تو گندم کی قیمت مزید کم ہونے کا امکان ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 14 اپریل، صفحہ20)

حکومت پنجاب نے گندم کی خریداری پالیسی2018-19 جاری کردی ہے جس کے تحت چار ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ گندم کی فی من قیمت 1,300 روپے مقرر کی گئی ہے۔ پالیسی کے تحت 10 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسان باردانے کے حصول کے اہل ہونگے۔ پہلے مرحلے میں382 گندم خریداری مراکز سے اہل کسانوں سے درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں درخواستوں کی جانچ کی جائے گی اور 24 اپریل کو باردانے کی فراہمی کا عمل شروع ہوگا جو 30 دنوں تک جاری رہے گا۔ گندم کی خریداری کے تمام عمل کی نگرانی ڈویژنل کمشنر، محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر اور سیکریٹری کرینگے۔
(ڈان، 15 اپریل، صفحہ2)

آٹا مل مالکان اور پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیرمین حاجی محمد بشیر اور حاجی محمد خلیق ارشاد نے پنجاب حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آنے والے رمضان پیکیچ میں آٹے کو شامل نہ کرے کیونکہ آٹے پر زرتلافی سے عام صارفین کے بجائے دوسروں کو فائدہ ہوتا ہے۔ حکومت کی گندم خریداری مہم رمضان کے دوران بھی جاری رہے گی۔ اس مہم کے دوران حکومت 1,300 روپے فی من گندم کسانوں سے خریدے گی جبکہ رمضان پیکج کے تحت سرکاری گوداموں سے آٹا ملوں کو فراہم کیے جانے والے گندم کی قیمت 800 روپے فی من ہوگی۔ دونوں قیمتوں میں 500 روپے کا فرق ہے جس سے بدعنوانی کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ خود کو گندم کی خریداری کے عمل سے الگ کرے اور (بجائے اس کہ کے کسانوں کو گندم پر زرتلافی دے) اس کی قیمت کی فہرست جاری کرے تاکہ نجی شعبہ بھی اس خریداری میں حصہ لے سکے۔ زرتلافی کی یہی رقم بیج، کھاد، ڈیزل، بجلی اور پانی کی قیمت کم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس طرح گندم کی قیمت کم ہوجائے گی جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمت بھی کم ہوگی۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 15 اپریل، صفحہ11)

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں گندم کی خریداری اور باردانے کی تقسیم پر بحث کے دوران مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی صورٹھ تھیبو نے کہا ہے کہ صوبے میں گندم کی خریداری مہم شروع کی گئی ہے لیکن کسانوں کو باردانہ فراہم نہیں کیا جارہا۔ سندھ کے کئی علاقوں میں گندم کے خریداری مراکز قائم نہیں کیے گئے اور متعلقہ حکام کسانوں سے ملنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ ان کے ٹیلی فون بندپڑے ہیں اور کوئی بھی کسان بااثر سیاسی شخصیات کی پرچی کے بغیر باردانہ حاصل نہیں کرسکتا۔ کسان احتجاج کررہے ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ وزیر خوراک سندھ نثار احمد کھوڑو نے ان الزامات کے جواب میں اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نے 1.4 ملین ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سندھ میں 5.5 ملین ٹن گندم کی پیداوارہوئی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ تمام گندم 1,300 روپے فی من امدادی قیمت پر خریدی جاسکے۔ حکومت نے گندم کی خریداری اور کسانوں کو زرتلافی دینے کے لیے ایک بلین روپے بینکوں سے قرض لیا ہے۔ سندھ کے کئی اضلاع میں فوڈ انسپکٹر کی غیر موجودگی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تقرریوں پر پابندی ہے جس کے باعث پاس فوڈ انسپکٹرز کی کمی ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اپریل، صفحہ5)

غربت

سندھ کے ضلع تھرپارکر میں شدید گرمی میں غذائی کمی اور طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف سول ہسپتال مٹھی میں اس ماہ کے ابتدائی 16 دنوں میں 27 بچے جانبحق ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ دور دراز علاقوں میں درجنوں دیگر طبی مراکز میں بھی بچوں کی اموات کی اطلاعات ہیں۔ یونیسیف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ان دس ممالک میں پہلے درجے پر ہے جہاں بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں ہر 1,000 میں سے 46 نومولود بچے پیدائش کے پہلے مہینے میں ہی مرجاتے ہیں۔
( دی ایکسپریس ٹریبیون، 18 اپریل، صفحہ12)

آبپاشی

نیسلے پاکستان نے ناقص زرعی طریقوں کی وجہ سے پانی کے زیاں کے مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لئے پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل (پارک) سے اشتراک کیا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 70 فیصد پانی زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح 90 فیصد ہے جس میں سے 50 فیصد پانی ناقص زرعی طریقوں کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے۔ اس اشتراک کے ذریعے نیسلے پاکستان قطرہ قطرہ آبپاشی نظام کی تنصیب کے ذریعے پارک کی تکنیکی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔ اس اشتراک کے تحت چھ ایکڑ رقبے پر آزمائشی بنیادوں پر قطرہ قطرہ آبپاشی نظام نصب کیا جائیگا جو جدت، ماحول دوست ٹیکنالوجی، کم سے کم پانی کے استعمال کے ذریعے پیداوار میں اضافے کا عملی نمونہ ہوگا۔ یہ منصوبہ کسانوں کے لیے پارک کے تحقیقی مرکز میں معلومات کے حصول کا مرکز ہوگا۔
(بزنس ریکارڈر، 12 اپریل، صفحہ20)

پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے پنجاب میں آبپاشی نظام کو بہتر بنانے اور نجی و سرکاری شراکتداری (پبلک پرائیوٹ پاٹنر شپ) کو فروغ دینے کے لیے 375 ملین ڈالر قرض کے دو معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ 275 ملین ڈالر لاگت کے جلال پور آبپاشی منصوبہ کے تحت جہلم اور خوشاب اضلاع میں نہری نظام تشکیل دیا جائے گا جس کے لیے دریائے جہلم کا پانی رسول بیراج کے مقام سے حاصل ہوگا۔ منصوبہ سے 68,000 ہیکٹر کم پیداوار دینے والی بارانی زمین کو آبپاشی نظام کی سہولت حاصل ہوگی جس سے 384,000 افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ 100 ملین ڈالر کے نجی و سرکاری شراکت داری کو فروغ دینے کے منصوبے سے مختلف شعبہ جات میں ترقیاتی منصوبوں کو استحکام حاصل ہوگا۔
(دی ایکسپریس ٹربیون، 14 اپریل، صفحہ20)

چاول

یورپی تاجروں کے مطابق انڈونیشیا نے پاکستان سے 150,000 ٹن چاول خرید لیا ہے جسے مئی سے جولائی کے درمیان برآمد کیا جائے گا۔ وائس چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) رفیق سلیمان نے کہا ہے کہ چاول کی فروخت کے اس معاہدے سے پاکستان کو 70 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
(ڈان، 14 اپریل، صفحہ10)

کھاد

حکومت کی جانب سے بجٹ 2018-19 میں یوریا کی فروخت پر دی جانے والی نقد زرتلافی ختم کرکے دو فیصد سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے جو اس وقت پانچ فیصد ہے۔ فلحال حکومت کھاد کی ہر بوری پر کسانوں کو 100 روپے زرتلافی فراہم کررہی ہے۔ تاہم کھاد تیار کرنے والے کارخانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے 2016-17 میں دی گئی زرتلافی کی 13 بلین روپے کی رقم اب تک انہیں ادا نہیں کی ہے۔ رواں مالی سال بھی کھاد کے کارخانوں نے رعایتی قیمت پر کھاد فروخت کی جس کی مد میں حکومت پر 12 بلین روپے واجب الادا ہیں لیکن حکومت نے اب تک ایک پیسہ ادا نہیں کیا جس کی وجہ سے انہوں مسائل کا سامنا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 17 اپریل، صفحہ20)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبروں کی ترتیب پر غور کریں تو ملک میں پیداوار خصوصاً گندم کی پیداوار، فصلوں کے بیمے کے منصوبے، پانی کے موثر استعمال کے منصوبے، عوام کو ان منصوبوں کے ذریعے غربت سے نکالنے اور ملازمتیں فراہم کرنے کے منصوبے ہیں تو کہیں ملک میں مال مویشی شعبے میں ترقی کے امکانات اور اس کی فادیت کے چرچے ہیں، اور ان تمام خبروں کے عین نیچے تھرپارکر میں 16 دنوں میں 27 بچوں کی موت کی خبر حکمرانوں اور ان پالیسی سازوں کی منصوبہ بندی کا مزاق اڑا رہی ہے۔ ملک میں گندم کی بھرپور فصل، مویشیوں کی کثیر آبادی اور دودھ و گوشت کی فراوانی مل کر بھی اب تک ملک کے پسماندہ علاقوں میں قوم کے معصوم بچوں کو جینے کا حق دینے اور عوام کو غربت، بھوک، غذائی کمی، بیروزگاری سے نجات دلانے میں ناکام نظر آتی ہے جس کی بنیادی وجہ پیداواری وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ وہ زمین جو خوراک اگلتی ہے اس پر جاگیردار اور طبقہ اشرافیہ قابض ہے، وہ صنعت جو دودھ اور گوشت کا کاروبار کرتی ہے اور خود سرمایہ داروں کی حکومت غیرملکی کمپنیوں کو نوازنے کے لیے کسانوں کا استحصال کررہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹے کسانوں کو باردانے سے بھی محروم کرکے بے شرمی کے ساتھ اسمبلی میں کہا جارہا ہے کہ حکومت گندم کی تمام پیداوار پر زرتلافی نہیں دے سکتی، لیکن یہی حکومت چینی کے صنعتکاروں کو اربوں روپے زرتلافی دے سکتی ہے تاکہ وہ کھل کر کسانوں کا مزید استحصال کرسکیں۔ ان حالات کا مقابلہ صرف اور صرف عوامی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے جس کے لیے عوام کو تمام تفریقات سے بالاتر ہوکر متحد ہونا ہوگا۔

ہفتہ وار زرعی خبریں

اپریل 5 تا 11 اپریل

مال مویشی

ایک مضمون کے مطابق یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینمل سائنسز لاہور کے ماتحت کام کرنے والے ادارے دی سینٹر فار اپلائیڈ پالیسی ریسرچ ان لائیو اسٹاک نے حال ہی میں ایک پالیسی مسودہ (ریواؤل آف ڈیری سیکٹر فار اکنامک ڈیولپمنٹ) تیار کیا ہے جس میں مال مویشی شعبے کی بحالی کے لیے آٹھ تجاویز دی گئی ہیں۔ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ تمام اقسام کے خشک دودھ کی درآمد پر محصولات 45 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کرنا چاہیے اور مویشیوں کی صحت اور خوراک کے معیارات پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ خام دودھ اور اس کی مصنوعات پر صفر درجہ محصول بحال کرنے کے لیے ان اشیاء کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے پانچویں درجے میں منتقل کیا جائے۔ اس کے علاوہ زرعی شعبے کو دستیاب مراعات کا ڈیری شعبے پر بھی اطلاق ہونا چاہیے جیسے کہ بجلی کے نرخوں میں کمی، آمدنی پر محصول سے استثنیٰ اور مشینری و خام مال کی درآمد پر محصولات میں کمی یا مکمل چھوٹ۔ دودھ اور گوشت کی قیمت  بے اختیار ہو (یعنی منڈی کی بنیاد پر ہو) اور ان کی قیمت کا تعین طلب و رسد کی بنیاد پر ہو۔ مقامی طور پر تیار کردہ خشک دودھ (فل کریم) اور بچوں کے خشک دودھ (فارمولا ملک) پر عائد 10 فیصد سیلز ٹیکس کو ختم کردیا جائے۔ اس کے علاوہ ڈیری شعبے کی ترقی کے لیے طویل المدت قومی پالیسی بنانے اور اس کے نفاذ کی ضرورت ہے جس پر تمام شراکت دار بشمول حکومت، ماہرین و محقق، نجی شعبہ اور کسان عمل کریں۔
(احمد فراز خان، ڈان، 9 اپریل، صفحہ4، بزنس اینڈ فنانس)

ماہی گیری

کراچی کے ساحلی علاقے سے وابستہ ماہی گیر آبادیوں کے مرد، عورتوں اور بچوں نے کراچی پریس کلب کے سامنے جاگیرداروں اور جرائم پیشہ افراد کی جانب سے کیے گئے زمینی قبضے کے خلاف احتجاج کیا۔ ڈلبا محلہ، ابراہیم حیدری اور ریڑھی گوٹھ کے ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ ان کے دیہات کے سامنے کی تقریبا تمام ساحلی زمین پر قبضہ کیا جاچکا ہے۔ قبضے کا یہ سلسلہ 1980 سے جاری ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں مقامی افراد کی جانب سے قبضے کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں 10 مقامی افراد قتل کیے جاچکے ہیں جن میں دو عورتیں بھی شامل ہیں۔ مظاہرے کی قیادت کرنے والی خاتون خدیجہ کا کہنا تھا کہ حال ہی میں جرائم پیشہ افرد نے داؤد جٹ کی ایما پر ڈالہ محلہ میں سینکڑوں ایکڑ زمین پر قبضہ کرلیا ہے جو ان کے گاؤں کی ملکیت ہے۔ مارچ کے وسط میں جب مکینوں نے مزاحمت کی تو جرائم پیشہ افراد نے ان کے بیٹے عثمان قسمانی کو قتل کردیا۔ مظاہرین نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے اس معاملے پر ازخود نوٹس لینے اور متعلقہ اداروں سے کارروائی کرنے اور انہیں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 اپریل، صفحہ5)

شاہد جاوید برکی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کی سی پیک اور ملکی معیشت کے حوالے سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں سی پیک سے متعلق ترقیاتی ڈھانچے کی تعمیر سے پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات کو سالانہ ایک بلین ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے جو اس وقت تقریباً 400 ملین ڈالر ہے۔ پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمد اس وقت کل عالمی برآمدات کا 0.25 فیصد ہے۔ پاکستانی سمندری خوراک کی 30 فیصد پیداوار دنیا کے 30 ممالک کو برآمد کی جاتی ہے۔

(دی ایکسپرس ٹریبیون، 11 اپریل، صفحہ 20)

زراعت 

ایگری کلچر جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی طرف سے بجٹ کے حوالے سے منعقد کیے گئے سیمینار میں کسان تنظیموں نے وفاقی بجٹ کے اعلان کے موقع پر پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا عندیہ دیا ہے اور ساتھ ساتھ گنا، چاول، آلو اور کپاس کی کم قیمتوں کی وجہ سے کسانوں کو ہونیوالے نقصانات کے ازالے کامطالبہ کیا ہے۔ کسانوں نے تمام اہم فصلوں کی کم سے کم امدادی قیمت مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے جس طرح پڑوسی ملک میں کی جاتی ہے۔ کسان نمائندوں کا کہنا تھا کہ کپاس اور خشک دودھ کی درآمد کو بھاری محصولات عائد کرکے محدود کیا جائے اور پانی کی کمی دور کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 اپریل، صفحہ20)

سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے قومی غذائی پالیسی (نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی) کی منظوری دیدی ہے۔ جس کے لیے وزارت نے پالیسی پر عملدرآمد کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ غربت، بھوک اور غذائی کمی کا خاتمہ، خوراک کے پیداواری وتقسیم کے نظام کو جدید و مؤثر بنانا اس پالیسی کے اہم مقاصد میں شامل ہے جس سے خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔پالیسی میں پائیدار طریقہ پیداوار، زرعی شعبہ کو مزید منافع بخش بنانے، موسمی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور کسانوں کی بیج، کھاد اور زرعی مشینری جیسے معیاری مداخل تک رسائی پر توجہ مرکوز کی جائیگی۔پالیسی میں ہنگامی صورتحال و آفات سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 6 اپریل ، صفحہ3)

فیڈرل کمیٹی آن ایگری کلچر نے کپاس و گنا سمیت خریف کی اہم فصلوں کا پیداواری ہدف مقرر کردیا ہے۔ کپاس کی 14.37 ملین گھانٹوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔گنے کا پیداواری ہدف 68.157 ملین ٹن، چاول کا 6.931 ملین ٹن اور مکئی کا پیداواری ہدف 5.3 ملین ٹن مقرر کیا گیا ہے۔کپاس 2.955 ملین ہیکٹراور چاول 2.805 ملین ہیکٹررقبے پر کاشت کیا جائے گا۔ خریف کی دیگر فصلوں میں سے دال مونگ کا ہدف 120,600 ٹن، دال ماش 11,300 ٹن، مرچ 117,900 ٹن اور ٹماٹر کا 166,700 ملین ٹن پیداواری ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ خریف کی فصلوں کو جون سے ستمبر کے دوران پانی کی کمی کا خطرہ ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفط و تحقیق نے بتایا کہ 69.4 ملین ایکڑ فٹ پانی کی طلب کے مقابلہ میں 62.03 ملین ایکڑ پانی دستیاب ہوگا۔
(ڈان، 11 اپریل، صفحہ11)

کیمیائی کھاد

کیمیائی کھاد بنانے والی صنعت کے زرائع کا کہنا ہے کہ گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے تین یوریا کارخانے بند ہونے کے نتیجے میں خریف کے موسم میں یوریا کی قلت اور اس کی قیمت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مئی کے مہینے سے یوریا کی ترسیل میں کمی متوقع ہے جس کے زرعی شعبے پر منفی اثرارت مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس وقت تین یوریا کے کارخانے گیس نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ چھ ماہ سے بند ہیں جس کے نتیجے میں ہر ماہ 85,000 ٹن پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 4 اپریل، صفحہ5)

پانی

اس تصدیق کے بعد کہ بھارت نے متنازعہ کشن گنگا پن بجلی منصوبہ مکمل کرلیا ہے، پاکستان نے عالمی بینک کو کہا ہے کہ وہ 1960 کے سندھ طاس معاہدہ کے تحت دو متنازعہ ڈیموں پر پاکستان کے تحفظات دور کرنے کے لئے اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔ سرکاری افسر کے مطابق وزارت توانائی نے گذشتہ ہفتہ عالمی بینک کے نائب صدر کو لکھے گئے ایک خط میں عالمی بینک کو اپنی ذمہ داری کا ادراک کرنے اور بھارت کو سندھ طاس معاہدہ کا پابند بنانے کے لئے کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ اگست 2017 میں پاکستان کو قابل اعتراض نقشہ کے مطابق کشن گنگا ڈیم مکمل ہونے کی رپورٹ مل گئی تھی۔
(ڈان، 5 اپریل، صفحہ1)

عالمی بینک نے تصدیق کی ہے کہ اسے بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر مکمل کرنے کی پاکستانی شکایات موصول ہوگئی ہے اور بینک دونوں ممالک کے ساتھ اس مسئلے کے تصفیے کے لیے کام کررہا ہے۔ پاکستان نے اعتراض اٹھایا ہے کہ بھارت نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر عالمی بینک کی جانب سے (2016 میں) تعمیری کام سے روکے جانے کے دوران جاری رکھی ہے۔
(ڈان، 6 اپریل، صفحہ16)

ملک میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونیکا امکان ہے اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ بارشیں دو بڑے آبی ذخائر منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی سطح میں بہتری کے لیے معاون ہونگی۔ دونوں آبی ذخائر 22 فروری سے انتہائی نچلی سطح یعنی خطرے کے نشان پر ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی علاقے سے درمیانے درجے کا بارشوں کا سلسلہ داخل ہوگا جس کے اثرارت ممکنہ طور پر وسطی اور بالائی علاقوں پر پڑیں گے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخواہ، فاٹا، شمالی پنجاب، اسلام آباد، کشمیر، گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 8 اپریل، صفحہ2)

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے مطابق ملک میں جاری بارشوں کی وجہ سے پاکستان کے اہم آبی ذخائر منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح میں واضح بہتری آئی ہے۔ پانی کے ذخائر میں اضافے کے بعد ارسا نے سندھ اور پنجاب کو پانی کی ترسیل میں 3,000 کیوسک اضافہ کردیا ہے۔ اس وقت پنجاب کو 34,700 کیوسک جبکہ سندھ کو 31,000 کیوسک پانی فراہم کیا جارہا ہے اس کے باوجود پنجاب کو 52 فیصد جبکہ سندھ کو 31 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 11 اپریل، صفحہ2)

چاول

مالی سال 2018 کے ابتدائی نو ماہ میں چاول کی برآمد میں 29 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان نے جولائی تا مارچ 2.95 ملین ٹن چاول برآمد کیا ہے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 2.53 ملین ٹن چاول برآمد کیا گیا تھا۔ رائس ایکسپورٹر ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے سینئر وائس چیئرمین رفیق سلیمان کا کہنا ہے کہ ریپ اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے تعاون سے چاول کی برآمد کو بہتر بنایا گیا ہے۔ ریپ مسلسل اپنے وفود پاکستانی چاول کی تشہیر کے لیے مختلف ممالک روانہ کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے بھارت کے چاول پر جراثیم کش ادویات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے پابندی عائد کی جارہی ہے اور پاکستانی برآمد کنندگان اس صورتحال کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 11 اپریل، صفحہ7)

زیتون

ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت امریکی امدادی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے اشتراک سے پوٹھوہار کے علاقے کو زیتون کی وادی میں تبدیل کرنے کے لئے 279.88 ملین روپے لاگت سے ایک مہم کا آغاز کررہی ہے۔ اس حوالے سے بارانی ایگری کلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، چکوال میں ہونے والے ایک اجلاس میں سیکریٹری محکمہ زراعت پنجاب محمد محمود کا کہنا تھا کہ وادی پوٹھوہار کی زمین اور آب و ہوا زیتون کی کاشت کے لئے مناسب ہے جہاں پانچ سالوں میں 15,000 ایکڑ زمین زیتون کے زیر کاشت لائی جاچکی ہے۔ بارانی ایگری کلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، چکوال میں زیتون سے تیل کشید کرنے والا کارخانہ بھی نصب کیا گیا ہے جس نے کسانوں کو 19,134 کلوگرام زیتون کا تیل بلا معاوضہ کشید کرکے دیا۔
(بزنس ریکارڈر، 11 اپریل، صفحہ13)

غربت

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ ایم بیسلے کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ ٹھٹھہ اور سجاول میں غذائی کمی کی وجہ سے جسمانی نشونما میں ہونے والی کمی سے تحفظ کا منصوبہ ’’دی اسٹنٹنگ پریونشن پروگرام‘‘ جاری ہے جس سے دونوں اضلاع میں غذائی کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں 19.6 فیصد اور غذائی کمی کی وجہ سے قد میں کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں آٹھ فیصد کمی کرنے میں مدد ملی ہے۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ جنوری سے ستمبر 2016 میں غذائی کمی کے شکار بچوں کی صحت کی بحالی کا تناسب 98.94 فیصد جبکہ حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں میں صحت کی بحالی کا تناسب 95.19 فیصد تھا۔ سندھ حکومت عالمی غذائی پروگرام اور دیگر امدادی اداروں کی مدد سے غذائی کمی کے مسائل حل کرنے کے لیے سخت کوششیں کررہی ہے۔
(ڈان، 6 اپریل، صفحہ19)

ماحول

ماحول اور انسانی زندگی دونوں کے لئے نقصاندہ ہونے کی بناپر حکومت سندھ نے ناقابل تلف (نان بائیو ڈی گریڈیبل) پلاسٹک کی مصنوعات کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے تحت کوئی بھی شخص پلاسٹک کی ایسی مصنوعات کی درآمد، پیداوار، ذخیرہ، تجارت، ترسیل، تقسیم و فروخت نہیں کرسکتا جو ناقبل تلف ہوں۔
(بزنس ریکارڈر، 7 اپریل، صفحہ3)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبروں میں مال مویشی شعبے کی ترقی کے حوالے سے تجاویز پر مبنی خبر پنجاب حکومت کی سرمایہ داروں کو نوازنے اور غریب کسانوں کو مزید افلاس میں مبتلا کرنے کی پالیسیوں کو واضح کررہی ہے۔ ماضی میں ہفتہ وار خبروں میں عالمی بینک کے زرعی منڈی میں اصلاحات کے حوالے 300 ملین ڈالر کے منصوبے کی خبر بھی شامل کی گئی تھی جس کی شرائط میں گندم کی سرکاری خریداری بند کرنے اور دودھ و گوشت کی قیمت پر سے سرکاری اختیار کا خاتمہ شامل تھا۔ اب ملکی یونیورسٹیوں سے بھی ایسی ہی پالیسی دستاویزات کا اجراء کیا جارہا ہے جن پر عملدرآمد کے لیے پنجاب حکومت بیتاب رہتی ہے۔ دودھ اور گوشت کی قیمت کو منڈی پر چھوڑنے کا مقصد مال مویشی شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ دینا ہے جو اس وقت ڈبہ بند دودھ کمپنی کی صورت چھوٹے کسانوں سے انتہائی کم قیمت دودھ خرید کر انہتائی مہنگے داموں صارفین کو فروخت کررہے ہیں اور تاحال نقصان کا رونا رو کر حکومتی مراعات اور پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کررہے۔ مال مویشی شعبے کی ترقی کے لیے عوامی خزانے سے مراعات یا ٹیکسوں میں چھوٹ طلب کی جارہی ہیں جن سے صرف بڑی بڑی ڈیری کمپنیاں اور گوشت برآمد کرنے والے ہی فائدہ اٹھاسکیں گے، چند مویشی پالنے والا چھوٹا کسان نہ خام مال اور نہ ہی فارم میں استعمال ہونے والی مشینری درآمد کرسکتا ہے۔ گوشت اور دودھ کی قیمت طلب و رسد کی بنیاد پر مقرر کرنا ملکی منڈی میں ان اشیاء کی قیمت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومت جس طرح ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر برآمدات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے یہ ممکن ہے کہ بڑے پیمانے پر دودھ اور گوشت کی برآمدات سے ملکی منڈی میں ان اشیاء کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہو خاص کر ایسے حالات میں کہ جب درآمدی دودھ پر بھی بھاری محصولات عائد ہوں۔ پالیسی سازی اور حقائق کا تضاد ماہی گیری شعبے کی دو خبروں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ایک خبر میں سی پیک کی بدولت برآمدات دگنی ہوجانے کی امید ظاہر کی جارہی ہے جبکہ دوسری خبر میں یہی ماہی گیر جن کی محنت کے بل پر سمندری خوراک کی برآمدات کے زریعے زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اس گلے سڑے نظام میں زمینی قبضے کا شکار ہوکر اپنا آبائی پیشہ چھوڑنے پر مجبور کیے جارہے ہیں۔ ایوان اقتدار و عدالت میں ان بااثر سرمایہ داروں کے منافع میں رکاوٹ پر ’’نوٹس‘‘ لیے جاتے ہیں لیکن اس ملک کے اکثریتی کسان مزدور طبقے کو سفاک سرمایہ داروں، بے رحم جاگیرداروں اور بدعنوان افسرشاہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ استحصال کے شکار اس اکثریتی طبقے کو اپنے زندہ رہنے، زمین اور روزگار جیسے بنیادی حقوق کے لیے ایک جٹھ ہوکر ظالم طبقے کے خلاف صف آرا ہونا ہوگا۔

29 March, Day of the Landless

Press Release

29 March 2018

The Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) and Roots for Equity in collaboration with the Asian Peasant Coalition (APC) and the other Asian organizations have marked the Day of Landless under the theme “Peasants of the world: intensify our struggle for Land and Life!”

The Day of the Landless is observed globally to highlight the struggle of farmers for land and other natural resources as they have been forcefully evicted from their land, despite the fact that they have inhabited these lands for generations’. The numbers of countries including Pakistan, India, Bangladesh, Sri Lanka, Nepal, Mongolia, Cambodia, Malaysia, Philippine, Thailand, and Indonesia have held various events to mark this day.

PKMT has lodged a protest against the pervasive land grabbing and landlessness in Pakistan on the day of landless at the Hyderabad Press Club, Hyderabad, in which the small and landless farmers from different districts of the province have participated. The PKMT Sindh Coordinator, Ali Nawaz Jalbani spoke on this event emphasizing the invaluable contribution of farmers to our communities. He pointed out that small and landless farmers not only provide food to the people through their hard work but are also responsible for export of agricultural products that yields valuable foreign exchange. But even in spite of them feeding the country, they suffer from severe malnutrition, hunger and poverty; no doubt this condition is a result of massive landlessness among farmers. In Pakistan, feudal lords, the elite and rich farmers own 45 percent of agriculture land. This is the critical reason that a country that which has high food product, tragically still comes on top when it comes to infant death statistics.

Allahdino, a PKMT member pointed out that “We the landless farmers are forced off land, evicted from our villages, losing our livelihood, and community forced to work as wage labor in towns and cities under inhuman conditions. With no food grains, every-day hunger is the mode of the day. Contract farming is on the rise, where farmers are being forced to work as part of an assembly line, producing at the behest of agro-chemical corporations who produce not food but profitable items such as sugar cane, livestock fodder, and agro fuels.

According to Sony Bheel, patriarchy is a hard cruel reality. Women, have very few rights, and as agricultural women workers these women face intense structural poverty. They country’s food security in the forms of grains or vegetables, dairy or livestock production is absolutely not possible without rural women’s hard physical labor. However, women a major part of the landless are not even recognized as farmers and face exploitation at the hand of both capitalists and feudal lords. The increasing chemical intensive agriculture is responsible for not only destroying biodiversity but also intoxicating the food chain system which impacts women and girl children immensely. It is because women and girls work the most in cash crop harvesting be it cotton or maize or vegetable picking. Hence the landless, especially women landless suffer the most from multiple forms of exploitations, discriminations and oppressions.

The members of PKMT from Ghotki and Badin, Mohammad Sharif and Mohammad Ramzan said that in Pakistan, farmers are facing oppression and deprivation due to neoliberal policies of capitalist countries, unfair land policies and corporate agriculture. In the name of development and innovation; motorways, Special Economic Zones, energy and other projects are being established, all which are forcing land evictions, depriving farmers of their land and livelihood.

There are many such examples: In Hattar, Haripur, KPK, more than a 1000 acre of land has been allotted for the extension of Special Economic Zone, and in Peshawar the construction of Northern bypass project. In Punjab, 6,500 acres of land is being provided to foreign seed companies. In Rajanpur district, the Government of Punjab is promoting forest cultivation for trade through public private partnership; inevitably farmers are being evicted, others forced into contract farming with corporations. In Khairpur, Sindh, 140 acres of land has been used for Special Economic Zone. These are the clear examples of the oppression present due to land grabs and exploitations faced by the small and landless farmers in the country.

Saleem Kumar, the Tando Mohammad Khan, Coordinator, PKMT stressed the point that instead of distributing land to farmers, the government is promoting foreign investors, allocating land to the corporate sector, steps that further erode the sovereignty, well-being and prosperity of the people of Pakistan.

Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek has made food sovereignty its critical most demand with right to land resonating as the loudest call for gaining social and economic justice.

PKMT’s struggle against imperialist globalization and feudalism challenges land grabbing, corporate agriculture and the whole realm of neoliberal policies that are strangulating farmers lives and livelihood; In essence PKMT demands equitable distribution of land among women and men farmers, the most critical base for ending hunger, poverty and malnutrition in the country.

There is no doubt without Land there is NO Life!

Released by: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) & Roots for Equity

Urdu Press Release

land less day PR 29,march 2018 urdu

First International Rural Youth Assembly

In every generation, the scope and depth of the youth’s participation has always been
decisive in the building of a better future. It is among the youth wherein the best bits of
today’s society are kept alongside the seeds of fundamental social change blooming
within them too.

Azra Talat Sayeed, International Women’s Alliance (IWA) giving a Solidarity message at the First International Youth Rural Assembly, Jakarta Indonesia

Mujtaba giving a Solidarity note at the First International Rural Youth Assembly, Jakarta Indonesia

Women Rise and Resist Imperialist War and Aggression! Unite to Fight for Genuine Liberation!

International Women’s Alliance
8 March 2018

This March 8, the International Women’s Alliance (IWA) and its member organizations invite women worldwide to resist imperialist plunder and war. In honor of the first women strikers in 1908, we commemorate International Working Women’s Day to recognize and continue women’ role in the struggle for peace, justice and self-determination. On this 110th anniversary we uphold the power and legacy of women’s resistance and affirm our commitment to build a strong women’s movement towards women’s genuine emancipation. We have witnessed the impact on women of wars of aggression continuously launched and supported by Imperialist countries.

In the Middle-East, the occupation of Palestine by United States-backed Israel has resulted in the destruction of countless lives in the West Bank and Gaza, including women and children.

Imperialist-led military attacks have increased in Syria, Libya, Iraq, Pakistan and Afghanistan as they continue to be targets in the United States’ so-called fight against terrorism. With these attacks, women and children are seen as “collateral damage”. Meanwhile, the United States is increasingly exposed as the world’s Number One Terrorist.

In Asia-Pacific, the imperialist powers are strengthening their hegemonic control of the region thru the impending implementation of the Trans Pacific Partnership (TPP) agreement. This agreement, which will be signed on the very 8th of March 2018 in Santiago, Chile, only furthers their neoliberal policies and unfair trading laws in the region.

In Asia, the Philippines has continued to suffer from intensified militarization. With the increasing presence of U.S. troops in the country and with President Duterte’s Martial Law, women and children have become victims of human rights violations, and of sexual violence, which is systematically used as a tool of war and as a tool to curtail the fundamental rights of the people.

In the Americas, particularly in the United States, with white supremacist and misogynist President Donald Trump in power, his administration continues to perpetuate political and economic oppression targeting people of color; women including queer women; immigrants from Latin America, Africa, Asia and the Caribbean; LGBTQ communities, and people with disabilities.

In Canada, systemic racism against First Nations people, particularly women, has resulted to thousands of indigenous women murdered or disappeared with impunity.

In Europe, the rise of right-wing movements, and religious and ethnic fundamentalism in India and elsewhere has fanned the flames of anti-immigrant and narrow nationalist violence.

A second cold war is heating up as imperialist powers led by the U.S. prepare for the eventuality of a world war. Regional wars have intensified in the Middle East, Asia, Africa, and Latin America to maintain political and economic hegemony. Puppet and client regimes are created. Regime changes are imposed when governments will not bow to the dictates of imperialist powers. As the imperialists rev up their engines of war, they likewise ignite the resistance of women of the world.

The past years have seen women at the forefront of the struggles against violence, exploitation and oppression. Whether they stand against phalanxes of police and military during strikes, pickets and demonstrations, against the threat of nuclear attack against North Korea, or against the invasion and destabilization of Venezuela, more and more women are joining the struggle against militarism, imperialist wars of aggression, and the rising neo-fascism in many parts of the world.

The resistance of women in Palestine, as emboldened by Ahed Tamimi and many others, who continue to resist and protect themselves and their families, has spread across the world. Women stand in solidarity and struggle against the Israeli occupation. Another model of resistance is that of the women in Kurdistan. They have formed armed self-protection units to protect their homeland and culture from annihilation.

We believe in the power of linking with women so we can collectively resist against imperialism and all forms of violence against our bodies and lives. We aspire for a global society that promotes and protects the rights and interests of women and is void of all forms of discrimination and violence against us. We strive to intensify local struggles and campaigns against imperialism and capitalism, to strengthen international solidarity, and to contribute to the people’s struggle for national liberation, sovereignty and self-determination. This is our militant tradition and we are upholding it this March 8 International Working Women’s Day!

No War on Women at Home and Abroad!
Women Say No to Imperialist Wars of Aggression!

Law aiding Monsanto is reason for Delhi’s annual smoke season

By Arvind Kumar | NEW DELHI | 30 December, 2017

Dense smog covers Delhi-Gurugram Expressway in Gurugram on 5 December. IANS
Delhi’s problem of being covered by smoke started right after the Punjab Preservation of Subsoil Water Act in 2009, which delayed the burning of crops till late October, was implemented for the first time.

Until a few years ago, when farmers in Punjab burnt the remnants of the rice crops in their fields in preparation for sowing wheat, the smoke from such fires was confined to Punjab. Back then, farmers burnt the straw in late September and early October. According to a publication of the Indian Council of Social Science Research published in 1991, “At the end of September and in early October, it becomes difficult to travel in the rural areas of Punjab because the air is thick with the smoke of burning paddy straw.” However, in recent years, farmers have delayed the burning until late October.

This delay is crucial and responsible for the smoke being carried all the way to Delhi. An analysis of the wind flow patterns reveals that wind blows into Delhi primarily from the west during the monsoon season, but changes direction in October when it starts blowing into Delhi from the north.

The decision to delay the clearing of the fields was not the choice of farmers, but was forced on them by the Punjab government, which passed the Punjab Preservation of Subsoil Water Act in 2009. According to this law, farmers can no longer sow rice in April, but have to wait until the middle of June to do so. Haryana too has copied Punjab and passed a similar law. Rice has a 120-day period between germination and harvest, and the restriction on sowing the grain means that the fields would be harvested and cleared only in October, by which time the direction of the wind would have changed. In what has turned out to be a real world example of the Butterfly Effect, Delhi’s problem of being covered by smoke started right after this law was implemented for the first time. Before this law was passed, the problem in Delhi was limited to vehicular and industrial pollution, apart from smoke from bonfires in winter, and there were no reports of the entire metropolitan area being enveloped by smoke.

This piece of legislation was passed ostensibly to preserve groundwater, the depletion of which was blamed on rice fields, which supposedly not only used too much water, but also lost a significant quantity of water to evaporation, but this argument is a very tenuous one. According to the International Water Management Institute (IWMI), water in rice fields contributes to recharging the groundwater and very little of it is lost to evaporation. The data from Uttar Pradesh in IWMI’s analysis shows that rice fields in the state contributed to increasing the level of the water table, thus supporting the claim that water in rice fields replenishes the aquifers.

The group that has been primarily responsible for exerting pressure to move away from growing rice in the name of “crop diversification” is the United States Agency for International Development (USAID), which operates out of the American embassy. Over a period of several years, it has used the excuse of preventing the decline of groundwater to push this agenda. USAID has a worldwide reputation of behaving like a front group for American multinational corporations such as Monsanto. Former American diplomat Jeanine Jackson recently justified her intervention in favour of Monsanto when she served as the American ambassador to Burkina Faso by claiming that the advocacy of American businesses and investments was the “number one task” for ambassadors.

It should, therefore, come as no surprise that Monsanto will be the primary beneficiary of USAID’s purported solution for Punjab’s problems. According to their solution, farmers need to stop growing rice and replace it with Monsanto’s genetically modified (GMO) maize.

India’s surplus food grain supply is an uncomfortable fact for Monsanto and other proponents of GMO food, who insist that the world would face a shortage of food grains if not for genetically engineered plants sold by Monsanto. It is in this light that one must view Monsanto’s collusion with the Punjab government and their joint efforts targeting the production of rice in India. In 2012, the then Punjab Chief Minister asked Monsanto to set up a research centre for creating maize seeds and announced plans to reduce the area under the cultivation of rice by around 45% in order to grow maize. Monsanto typically co-opts not only politicians, but also members of the academia and converts them into its shills. Little wonder then that the passage of the law in Punjab was preceded by fear mongering about the cultivation of rice, which reached a feverish pitch a few years back in the form of a campaign advertisement from a group of “eminent scientists” who appealed, “Chonne hetho rakba katao, Pani Bachao, Punjab Bachao (Reduce the area under rice, Save Water, Save Punjab)”.

Monsanto now offers the replacement of rice by its GMO crops as a solution that will increase the level of subsoil water, but the multinational corporation is the cause of the problem. Its fertilizers and pesticides have accumulated in the ground over the years, and this has led to poor retention of moisture in the soil, leading farmers to pump out excessive amounts of underground water. The new law, reducing the time period during which farmers are permitted to grow rice, has further accentuated this problem.

Monsanto now offers the replacement of rice by its GMO crops as a solution that will increase the level of subsoil water, but the multinational corporation is the cause of the problem. Its fertilizers and pesticides have accumulated in the ground over the years, and this has led to poor retention of moisture in the soil, leading farmers to pump out excessive amounts of underground water. The new law, reducing the time period during which farmers are permitted to grow rice, has further accentuated this problem. Farmers had developed their own method of crop diversification by growing multiple varieties of rice and staggering the time of sowing these varieties over a period of two months beginning in April. The loss of the ability of farmers to easily diversify their rice crop, combined with the fact that late sown rice is vulnerable to diseases and pests has created a fear in farmers of losing their crop, leading them to use greater amounts of pesticides and fertilizers, further degrading the soil and its ability to retain water.

Monsanto’s GMO products are known to cause several problems. Its maize is known for killing bees, leading to a shortage of seeds of plants such as onions which depend on bees for pollination. Several European countries have banned its maize as its pollen has been responsible for killing entire colonies of bees. Monsanto’s GMO maize is also not fit for human consumption and is primarily used as chicken feed. Likewise, most of Monsanto’s wheat is used to feed animals because it is unfit for human consumption. Thus the government’s plan to replace the cultivation of rice—which is the staple food for a large section of the population of India—by Monsanto’s chicken feed is a cynical move that will result in government created food shortages in the country.

The problems related to the low levels of groundwater and the inability of the soil to retain moisture must be solved, but the solution should not be a drastic one, such as creating famines by banning food items such as rice. Before the level of groundwater fell in Punjab, the state experienced a problem of water-logging, which was partially solved by pumping out the excess groundwater. Thus, it is clear that an acceptable level of the water table can be maintained by finding a proper balance between the two extreme situations, without replacing any crop.

In 2012, the then Punjab Chief Minister asked Monsanto to set up a research centre for creating maize seeds and announced plans to reduce the area under the cultivation of rice by around 45% in order to grow maize.

Today, farmers burn the residual straw from the cultivation of rice as it is an affordable method of clearing the fields. A ban on such burning will destroy the livelihood of poorer farmers and give way to industrial farming, with a few large corporations such as Monsanto taking over all the land and resources. The government has already helped large corporations through a slew of measures and it must not take any more steps that run the small farmers out of business. Instead, if it wants to prevent burning, it must help small farmers clear the fields between the rice and wheat seasons and help them implement proper water management solutions. This would mean going against the rules set forth by the World Trade Organization, which has mandated that no business other than American multinational corporations can receive aid or subsidies from the government, and any subsidy given to American businesses will be done under the cover of “research grants” funnelled through universities. India should completely ignore these rules and fix its problems, not the least of which is the yearly phenomenon of smoke cover over Delhi.

The Delhi metropolitan area has one of the highest agglomerations of population in the world, and suffocating the people of the area on an annual basis should be treated as a crime against humanity, especially when the cause for such suffocation can be easily controlled. Although smoke from fields remaining within Punjab is also a problem that needs to be addressed, it is not as severe a problem as in Delhi, as the smoke in Punjab would be spread over a larger area with a much lower population density. For now, a step that should be taken immediately in order to prevent Delhi from becoming a gas chamber for several days every November, is to revoke what should rightfully be called the Monsanto Profit Act of 2009 and permit farmers to sow their rice crop whenever they deem it fit to do so.

http://www.sundayguardianlive.com/news/12191-law-aiding-monsanto-reason-delhi-s-annual-smoke-season

Several injured in tenants-police clash in Charsadda

January 26, 2018

CHARSADDA: A tenant woman set herself on fire in protest against police action to evict them from houses and land in Ijara village on Thursday while over a dozen people, including police personnel, were injured in clashes with the peasants and their female family members. The woman, who is said to have received severe burns, was taken to the tehsil headquarters hospital.

According to the district administration officials and local residents, women and children of tenants came out of their houses when the police and FC personnel tried to use force to evict them from the land occupied by them in Ijara village of Tangi tehsil.

During the protest, a woman sprinkled kerosene oil on her body and set herself on fire. She got burn injuries and was rushed to the THQ hospital in critical condition.

Later, sensing gravity of the situation the administration decided to give 20 more days to the tenants to leave the land and houses, which belonged to landlords of the area. The decision was made after a meeting with representatives of tenants.

Moreover, nine tenants, including women and children, were injured when armed men of the landlords stormed their houses to evict them in Hando village.

The district administration claimed that tenants had been removed from 285 kanals in Qandaharo, Mir Ahmed Gul and Hando villages.

Deputy commissioner Mutazir Khan and district police officer Zahoor Afridi while addressing a joint press conference said that the police personnel had taken action to reclaim the land occupied by peasants in the light of Peshawar High Court verdict.

They said that the land had been handed over to the owners. They said that some tenants were also arrested during the action.

Published in Dawn, January 26th, 2018

SEVERAL INJURED IN TENANTS-POLICE CLASH IN CHARSADDA

Dawn, January 26, 2018

CHARSADDA: A tenant woman set herself on fire in protest against police action to evict them from houses and land in Ijara village on Thursday while over a dozen people, including police personnel, were injured in clashes with the peasants and their female family members. The woman, who is said to have received severe burns, was taken to the tehsil headquarters hospital.

According to the district administration officials and local residents, women and children of tenants came out of their houses when the police and FC personnel tried to use force to evict them from the land occupied by them in Ijara village of Tangi tehsil.

During the protest, a woman sprinkled kerosene oil on her body and set herself on fire. She got burn injuries and was rushed to the THQ hospital in critical condition.

Later, sensing gravity of the situation the administration decided to give 20 more days to the tenants to leave the land and houses, which belonged to landlords of the area. The decision was made after a meeting with representatives of tenants.

Moreover, nine tenants, including women and children, were injured when armed men of the landlords stormed their houses to evict them in Hando village.

The district administration claimed that tenants had been removed from 285 kanals in Qandaharo, Mir Ahmed Gul and Hando villages.

Deputy commissioner Mutazir Khan and district police officer Zahoor Afridi while addressing a joint press conference said that the police personnel had taken action to reclaim the land occupied by peasants in the light of Peshawar High Court verdict.

They said that the land had been handed over to the owners. They said that some tenants were also arrested during the action.

https://www.dawn.com/news/1385383

THREAT TO STOP SELLING BT COTTON SEEDS IRRESPONSIBLE: MAHYCO MONSANTO

17 January 2017

The war of words between Mahyco Monsanto Biotech (India) Private Limited (MMBL) and the National Seed Association of India (NSAI) continues with MMBL issuing a rebuttal to the allegation made by the latter on the failure of Bollgard II and its consequences.

MMBL has contended that it is not responsible for development of resistance in pink bollworm and its acceleration or the consequences (compensation claims). It blamed the NSAI for threatening to stop sales of Bt cotton seeds from this month.

“Your threat to advise your members to stop selling Bt cotton seeds from January 2018 is irresponsible and in complete disregard of the interests of farmers,” Satyender Singh, Director of MMBL, said in the letter.

The five-page letter gave a point-by-point rebuttal to NSAI’s allegations against Monsanto and MMBL on a host of issues that included payment of compensations and efficacy of Bollgard II.

MMBL alleged that the NSAI was trying to deflect responsibilities on development of resistance caused by the failure of its member companies in propagating prescribed practices.

Reiterating that resistance was a natural and evolutionary adaptation of insects and pests to stress factors, he said propagation and adoption of recommended practices was a combined responsibility of all stakeholders in cotton production and not just that of the technology provider.

Rejecting the claim that it kept mum on the growing resistance, he said both the regulator and the seed firms had been informed about the incidence.

The firm, which sub-licences it to Indian seed companies, also wrote to Radha Mohan Singh, Union Minister of Agriculture and Farmers’ Welfare, explaining to him about the fallacies in the NSAI allegations.

The NSAI reiterated its threat on stoppage of seed sales. “We make it clear that until and unless there is clarity on the role and responsibility, there is no question of selling Bt cotton seeds,” Kalyan B Goswami, Director-General of NSAI, said.

“You accept that resistance is natural and evolutionary but go on charging trait value for the technology despite its failure,” he argued.

He said that the resistance was not restricted to only a few areas as claimed by the firm. “The regulatory authorities have confirmed that BGII failure was observed in more than 90 per cent of the cotton growing area in the country,” he pointed out.

http://m.thehindubusinessline.com/economy/agri-business/threat-to-stop-selling-bt-cotton-seeds-irresponsible-mahyco-monsanto/article10038022.ece

ڈؤنلڈ ٹرمپ،بس اب اور نہیں! پاکستان کسان مزدور تحریک مرکزی رابطہ کار الطاف حسین

میں الطاف حسین پاکستان کسان مزدور تحریک کا مرکزی رابطہ کار ہوں، خیبر پختون خوا میں ضلع لوئر دیر سے تعلق ہے۔ پی کے ایم ٹی بے زمین اور چھوٹے کاشتکاروں مزدوروں کی نمائندہ جماعت ہے جو کہ پاکستان کے تین صوبوں کے پی کے، سندھ اور پنجاب میں 16 اضلاع میں کام کررہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ صدر متحدہ امریکہ کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیں ڈبل کراس کیا۔ ہم نے آپ کو 33 ارب ڈالر دیا۔ آپ نے ہمارا کام نہیں کیا۔ ہماری حکومت کہتی ہے کہ ہمیں 15 ارب ڈالر ملے ہیں او رہمارا نقصان 110 ارب ڈالر کا ہوا ہے۔

جب سے پاکستان بنا ہے۔ امریکہ نے ہمیں نقصان دیا ہے۔ لیکن ایک کسان ہونے کے ناطے میں زراعت پر ہونے والے اثرات پر بات کروں گا۔ 10-9-2008 سے لے کر 2011 تک ہونے والے نقصان کی بات کروں گا۔

آپ لوگوں کے علم میں ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع ضلع لوئر دیر ، ضلع اپر دیر، ضلع شانگلہ، ضلع سوات اور ضلع بنیر اللہ تعالیٰ نے باغات اور سبزیوں کے لیے بنائے ہیں۔ باغات میں آڑو، خوبانی، آلوچہ، فصلوں میں گندم، مکئی اور چاول سبزیوں میں پیاز ٹماٹر جو کہ بڑے پیمانے پر اگائے جاتے ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر لگائے جانے والے میوے، سبزیاں اور فصلیں ہیں۔

لوگ وہاں سے نکل آئے آئی ڈی پیز بن کر گھر بار چھوڑ کر، تیار فصلیں، باغات اور سبزیاں رہ گئی۔ میرا اپنا باغ آلوچہ ؍ آلوبخارہ کا ہے۔ اٹھارہ لاکھ آمدن آتا ہے۔ مٹی کا خوراک بن گئے۔ عربوں روپوں کا نقصان ہوا اب ہمارے باغات پانی نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ گئے۔ کرفیو لگا رہتا تھا جس کی وجہ سے مارکیٹنگ نہیں ہوسکی۔ عربوں کا نقصان ہوا۔ آئی ڈی پیز بن کر پانچ سے چھ مہینے اسکولوں، حجروں میں رہ کر مصیبتیں اٹھائیں۔ نہ وقت پر کھانا، نہ وقت پر سونا، لوگ ذہنی مریض بن گئے۔ جب واپس آئے تو کسی کا باپ لاپتہ، کسی کا بھائی اور بیٹا لاپتہ، گھر برباد، فصلیں برباد، باغات برباد، مویشی مرگئے۔ آئی ڈی پیز بن کر بے سروسامانی اور اپنے گھر پہنچ کر بھی بے سروسامانی ٹرمپ ہم نے یہ مصبتیں اٹھائیں اور آپ کہتے ہو کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ ہم برباد ہوگئے۔ آپ نے ہمیں تباہ کیا۔ اللہ آپ کو برباد کرے۔

مال مویشی ہمارے کاشتکار بھی پالتے ہیں۔ دودھ کے لیے اور پال کر فروخت کرنے کے لیے۔ لوگ آئی ڈی پیز بن گئے۔ ایک آدھ بندہ مویشیوں کے لیے رہ گیا لیکن ڈر کے مارے کہ طالبان قتل نہ کریں۔ وہ بھی نکل گئے اور مویشیوں پانی نہ ملنے اور چارہ نہ ملنے کی وجہ سے مرگئے۔ میں صرف اپنے ایک دوست کی بات کروں گا۔ اس نے دو گائے پالے تھے۔ ان کے بچے بھی تھے جب وہ واپس آیا تو جانور مرگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک گائے کی قیمت ایک لاکھ دس ہزار تھی اور وہ جانور کیسے تڑپ تڑپ کر مرے ہوں گے کیا یہ ظلم نہیں ؟ کیا یہ انسانیت ہے۔

تعلیمی ادارے بند رہے۔ بچے تعلیم سے محروم رہے۔ اسکول بارود سے اڑا دیے گئے۔ سات سالوں میں واپس تعمیر ہوئے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مندوب خاتون کہتی ہیں کہ امریکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا پیسہ آپ نے جنگجوؤں کو کھلایا۔ بس کریں اور جنگجوؤں کو نہ کھلائیں۔

.ڈؤنلڈ ٹرمپ آپ کہتے ہو کہ آپ نے ہمیں ڈبل کراس کیا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ نے ہمیں تباہ کیا۔ بس اب اور نہیں