ہفتہ وار زرعی خبریں2018

دسمبر 6 تا 12 دسمبر، 2018

غذائی کمی
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق معدنی تیل اور گیس کے بھاری ذخائر سے مالا مال ضلع سانگھڑ، سندھ میں 53 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ سانگھڑ کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کے ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ یہ شرح صوبے میں مجموعی طور پر غذائی کمی کے شکار بچوں کی شرح 48 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سانگھڑ سبھاش چندر نے اس صوتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے صحت کے حوالے سے شروع کیے گئے اقدامات کے تحت ضلع سانگھڑ میں متاثرہ بچوں کو غذائیت کی حامل خوراک (فوڈ سپلیمنٹ) فراہم کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا جائے گا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 10 دسمبر، صفحہ5)

زراعت
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے زرعی شعبہ کے لئے 82 بلین روپے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ منصوبے کا مقصد پیداوار میں اضافہ، پانی کی فراہمی میں بہتری، مال مویشی اور ماہی گیری شعبہ میں ترقی اور زرعی منڈی کا قیام ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد دیہات میں غربت میں کمی اور چھوٹے کسانوں کی حالت بہتر بنانا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ مشینی زراعت کو فروغ دینے کے لئے 4 بلین روپے کی سرمایہ کاری کی جائیگی۔ زرعی مشینری کی خریداری کے لیے کسانوں کو 50 فیصد زرتلافی فراہم کی جائے گی، زیادہ پیداوار دینے ولے بیج تیار کیے جائیں گے اور تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے گا۔ نئے مراکز کے قیام اور جدید طرز کے موجودہ تحقیقی اداروں کو بہتر بنانے کے لئے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائینگی۔ اس کے علاوہ ملک میں کھالوں (واٹر کورسوں) کو بہتر بنانے کے قومی منصوبے نیشنل پروگرام فار امپرومنٹ آف واٹر کورسز ان پاکستان فیز II کے تحت 68.60 بلین روپے کی لاگت سے پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے گا۔
(ڈان، 6 دسمبر، صفحہ10)

پاکستان کسان اتحاد کی قیادت میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران کیمیائی کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف لاہور کے داخلی راستے ٹھوکر نیاز بیگ پر احتجاجی مظاہر کیا۔ ٹریکٹر ٹرالیوں اور دیگر گاڑیوں پر سوار کسان ٹھوکر نیاز بیگ پر جمع ہوئے اور گاڑیاں کھڑی کرکے ملتان روڈ گاڑیوں کی آمد و رفت کے لئے بند کردیا۔ کسانوں نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کسانوں کے مطالبات میں کیمیائی کھاد ڈی اے پی اور یوریا کی پرانی قیمتوں پر فراہمی، کسان بازار کا قیام، زرعی پالیسی کے لیے کسانوں سے مشاورت اور بورے والا پولیس کی جانب سے کسان رہنماؤں پر درج مقدمات ختم کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔
(ڈان، 6 دسمبر، صفحہ2)

وزیر اعلی پنجاب عثمان بوزدار کی جانب سے کسانوں کے حقیقی مسائل کے حل کی یقین دہانی کے بعد پاکستان کسان اتحاد نے ٹھوکر نیاز بیگ، لاہور میں احتجاجی مظاہر ختم کردیا ہے۔ پاکستان کسان اتحاد کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شوگر مل مالکان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ملیں آج (7 دسمبر) سے گنے کی کرشنگ شروع کردیں گی۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسانوں کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے کے لیے قانونی طریقہ اختیار کیا جائے گا جبکہ کیمیائی کھادوں کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیوب ویلوں کے بجلی کے بلوں کے معاملہ کو حل کرنے کے لئے سیکریٹری توانائی تجاویز پیش کرینگے۔
(ڈان، 7 دسمبر، صفحہ2)

اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت اور امریکی محکمہ خوراک کی جانب سے مشترکہ طور پر زمین کی زرخیزی کے حوالے سے جاری کردہ نقشے (سوائل فرٹیلٹی اٹلس) کے مطابق بلوچستان میں کسان پانی اور دیگر مداخل کی قلت کی وجہ سے گندم جیسی اہم فصلیں کاشت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ تقریباً 81 فیصد کسانوں نے شکایت کی ہے کہ صوبہ بھر میں زراعت کے لیے پانی کی قلت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ 65 فیصد کسانوں نے اعلی معیار کے بیجوں کی عدم فراہمی کی شکایت کی ہے جبکہ زرعی قرضوں تک رسائی صرف 61 فیصد کسانوں کو حاصل ہے۔
(ڈان، 11 دسمبر، صفحہ10)

گنا
سندھ آباد گار اتحاد نے شوگر مل مالکان کی جانب سے گنے کی کرشنگ شروع نہ کرنے اور سندھ حکومت کی سال 2018-19 کے لئے گنے کی امدادی قیمت مقرر کرنے میں ناکامی کے خلاف ٹھنڈی سڑک، حیدرآباد پر احتجاجی مطاہر ہ کیا۔ مظاہرین نے سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی۔ مظاہرین نے گنے کی قیمت 200 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ کے گنا کمشنر نے مظاہرین سے مزاکرات میں یقین دہانی کروائی ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں گنے کی قیمت کا اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر وعدہ پورا نہ کیا گیا تو وہ احتجاجاً قومی شاہراہ بند کردیں گے۔
(ڈان، 7 دسمبر، صفحہ17)

محکمہ زراعت سندھ نے سال 2018-19 کے لیے گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ سندھ میں کل 38 شوگر ملیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے 34 ملیں گنے کی کرشنگ کا آغاز کریں گی۔ اب تک صرف چار شوگر ملوں نے کرشنگ کا آغاز کیا ہے جبکہ امکان ہے کہ باقی ملوں میں اعلامیہ جاری ہونے کے بعد کرشنگ شروع ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ ملوں کے لیے ممکن نہیں کہ وہ گنے کی قیمت 180 روپے فی من ادا کریں اور منڈی میں فی کلو چینی پر 15 روپے نقصان برداشت کریں۔
(ڈان، 8 دسمبر، صفحہ17)

شوگر ملوں نے حال ہی میں سندھ حکومت کی جانب سے گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر کرنے کے اعلامیہ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے، جس کے بعد عدالت نے سیکریٹری محکمہ زراعت سندھ کو تمام متعلقہ دستاویزات کے ساتھ 18 دسمبر کو طلب کرلیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیا کیا گیا ہے کہ 30 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکام کو شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت شوگر کین کنٹرول بورڈ قائم کرنے اور سیکشن 16 کے تحت گنے کی قیمت مقرر کرنے کے لیے بورڈ کا فوری اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی تھی۔ شوگر ملوں کے وکیل کی جانب سے عدالت میں 7 دسمبر کو گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلامیہ پیش کیا گیا اور یہ دعوی کیا گیا کہ متعلقہ حکام گنے کی قیمت مقرر کرتے ہوئے سیکشن 16 کے ضوابط پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
(ڈان، 11 دسمبر، صفحہ17)

چاول
سندھ اور بلوچستان میں چاول ملوں میں بجلی کی طویل بندش کی وجہ سے چاول کی برآمد متاثر ہورہی ہے۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) نے وفاقی اور صوبائی حکام پر سندھ اور بلوچستان کی چاول ملوں کو بجلی کی بندش کا مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔ چاول ملوں کو یومیہ 15گھنٹے تک بجلی کی بندش کا سامنا ہے جس کی وجہ سے چاول کی برآمدات کا عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 8 دسمبر، صفحہ13)

ماہی گیری
ایک خبر کے مطابق رواں مالی سال پاکستان سے سمندری خوراک کی برآمد پہلے ہی 11.31 فیصد کم ہوچکی ہے۔ اگر بلوچستان حکومت نے سندھ کی ماہی گیر کشتیوں کو اپنی 12 بحری میل تک سمندری حدود میں شکار کرنے کی اجازت نہیں دی تو برآمدات مزید 80 فیصد تک کم ہونے کا خدشہ ہے۔ سندھ ٹرالرز اونرز اینڈ فشرمین ایسوسی ایشن (اسٹوفا) کے صدر حبیب اللہ خان نیازی کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان حکومت نے پابندی برقرار رکھی تو برآمدات مزید کم جائیں گی اور کارخانے بند ہوجائینگے۔
(بزنس اریکارڈر، 7 دسمبر، صفحہ7)

پانی
محکمہ موسمیات نے خشک سالی کا تیسرا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دو بڑے آبی ذخائر تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ نصف سطح پر آگیا ہے جو گزشتہ 9 سالوں کی کم ترین سطح ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ ربیع کے موسم میں فصلوں کے لئے پانی کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کئی اضلاع خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں زراعت اور مال مویشی شعبہ کے مزید متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔ جون اور نومبر کے مہینہ میں ملک کے جنوبی علاقوں میں معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں۔ سندھ میں معمول سے منفی 79.9 فیصد، خیبر پختونخوا میں منفی 46.9 فیصد، اور بلوچستان میں منفی 44.2 فیصد بارشیں ہوئی ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 8 دسمبر، صفحہ13)

پولینڈ میں جاری اقوام متحدہ کی موسمی تبدیلی کانفرنس 2018 (کوپ 24) میں انسٹی ٹیوٹ فار انوائرنمنٹل ڈپلومیسی اینڈ سیکیورٹی کی پیش کردہ تحقیق کے مطابق پچھلے 50 سالوں میں سندھ طاس کے دریائی نظام (انڈس بیسن) میں پانی کی سطح میں 20 سے 30 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی سے پاکستان میں پن بجلی کی پیداوار، غذائی تحفظ اور مجموعی قومی پیداوار کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین نے تجویز دی ہے کہ کسانوں کو یہ معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح اپنی فصلوں کو وسعت دے سکتے ہیں اور آنے والے سالوں میں کتنا پانی دستیاب ہوگا۔ پینل میں مدعو وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمی تبدیلی ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ ’’سندھ طاس پر یہ تحقیق ہم سے متعلق ہے جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم آزمائشی منصوبے شروع کررہے ہیں جن میں تمام تر توجہ موسمی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی زراعت پر مرکوز ہوگی‘‘۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 9 دسمبر، صفحہ3)

ایک خبر کے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار جنہوں نے تھر میں غذائی کمی اور حاملہ خواتین کے لئے ناقص طبی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہونے والی بچوں کی اموات کا نوٹس لیا تھا، آج (12 دسمبرکو) مٹھی کا دورہ کریں گے۔ علاقے کے سابق ارکان سندھ اسمبلی اور دیگر سیاسی شخصیات نے مقامی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا ہے کہ وہ چیف جسٹس کے سامنے سندھ حکومت کی جانب سے ضلع کی واحد نہر رن مائنر میں پانی جاری کرنے میں ناکامی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں تھری عوام بشمول کسان حصہ لیں گے۔ رن مائنر میں پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے تھرپارکر کی 45,000 ایکڑ زرخیز زمین بنجر ہوگئی ہے۔
(ڈان، 12 دسمبر، صفحہ17)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی ضلع سانگھڑ، سندھ میں غذائی کمی سے متعلق سرفہرست خبر اور زراعت کے حوالے سے ذیلی خبریں پاکستان میں رائج نیم جاگیرداری و سرمایہ داری نظام کی سفاکیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ملک بھر میں جبر و انصافی پر مبنی معاشی و سیاسی نظام میں ہر شعبے میں جاگیرداروں اور ملکی و غیرملکی سرمایہ داروں کے مفادات کو ہر سطح پر ترجیح دی جاتی ہے۔ زرعی شعبہ میں 82 بلین روپے کے منصوبوں کی بنیاد بھی ان ہی سرمایہ داروں کے لیے کاروبار اور منافع کی راہیں کھولنے کا ذریعہ ہی ثابت ہونگی جیسے کہ پچھلی آمرانہ اور نام نہاد جمہوری حکومتوں میں ہوتا رہا ہے۔ موجودہ حکومت سرمایہ دار ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کی خوشنودی کے لیے بیج اور مشینری ہی نہیں ان سرمایہ دار ممالک کے ماہرین کو بھی پاکستان میں خوش آمدید کہہ رہی ہے۔ حکومت ان منصوبوں کا بنیادی مقصد دیہات میں غربت میں کمی اور چھوٹے کسانوں کے حالات میں بہتری قرار دیتی ہے جو دیہات میں رہنے والی آبادیوں کے ان کے مقامی وسائل پر اختیار کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے۔ اگر زیادہ پیداوار ہی خوشحالی کی ضمانت ہے تو گیس و تیل کی دولت سے مالا مال ضلع سانگھڑ کے بچے بھوک کا شکار کیوں ہیں؟ سانگھڑ سمیت ملک کے ہرکونے میں آبادیوں میں بھوک، غربت اور بیروزگاری کی بنیادی وجہ زمین، بیج، پانی، جنگلات، معدنیات جیسے وسائل پر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا قبضہ اور نیولبرل ایجنڈے پر عملدرآمد ہے۔ یہی طبقہ ملکی ایوانوں اور اداروں میں بیٹھ کر استحصال پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے اپنے اقتدار کو مستحکم کرتا ہے۔ اس استحصال کے خاتمے کے لیے اس کی شکار آبادیوں کو ہی میدان عمل میں آنا ہوگا۔

ہفتہ وار زرعی خبریں 2018

 نومبر29 تا 5 دسمبر، 2018
زمین
ایک خبر کے مطابق پشاور کے علاقے شاہی بالاند کے مکینوں نے مبینہ طور پر علاقے کی زرخیز زمینوں کے لئے پانی روکنے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان گل باچا کا کہنا تھا کہ نجی رہائشی منصوبے کے لیے زمین نہ دینے کی پاداش میں گزشتہ ایک سال سے تقریباً دو ہزار ایکڑ زرعی زمین کو پانی کی فراہمی معطل ہے۔ کسانوں کے مطابق وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے متعلقہ ادارے کو آبیانہ ادا کرتے آئے ہیں۔ گل باچا نے الزام عائد کیا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اسکیم نے ان سے جبراً زمین خریدی لیکن 60 سے 70 کسانوں نے اپنی وراثتی زمین فروخت کرنے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زرعی زمینوں کے لیے پانی کی فراہمی روک دی گئی ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 4 دسمبر، صفحہ19)

زراعت
سندھ ایگریکلچرل پالیسی 2018-30 کے حوالے سے محکمہ زراعت سندھ کی جانب سے حیدرآباد میں منعقدہ کیے گئے ایک ورک شاپ میں خوراک و زراعت کے عالمی ادارے فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزشن (فاؤ) کے پالیسی سازوں کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی پہلی زرعی پالیسی پر عملدرآمد کے لئے ضروری ہوگا کہ ایک واضح طریقہ کار اپنایا جائے۔ مزید یہ کہ پالیسی پر عملدرآمد کے لئے ضروری ہے کہ صلاحیت و مہارت کو اپنایا اور ان میں اضافہ کیا جائے۔ پالیسی مبصرین نے سندھ کے زرعی شعبہ میں 7 فیصد بڑھوتری کا ہدف حاصل کرنے کے لئے تحقیق و ترقی کے شعبہ میں سرمایہ کاری پر زور دیا ہے۔ زرعی شعبہ میں بڑھوتری کی یہ شرح اس وقت 3 فیصد ہے۔
(ڈان، 5 دسمبر، صفحہ17)

وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب حافظ ممتاز نے لاہور میں چوتھی چین پاکستان زرعی نمائش کے آغاز کے موقع پر اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سی پیک سے زرعی شعبہ میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور بیج، کیمیائی کھاد اور کیمیائی زہر (پیسٹی سائیڈ) پر مبنی ٹیکنالوجی کا تبادلہ ہوگا۔ نمائش کی افتتاحی تقریب میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے شرکت کی اور چینی و پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے قائم کیے گئے نمائشی اسٹال میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
(ڈان، 5 دسمبر، صفحہ10)

گنا
سندھ میں 38 میں سے 4 شوگر ملوں نے شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت مقرر کردہ تاریخ 30 نومبر، پر کرشنگ شروع کردی ہے۔ جن ملوں نے کرشنگ شروع کی ہے ان میں مٹیاری شوگرمل، خیرپور شوگرمل، بھانڈی شوگرمل اور سانگھڑ شوگرمل شامل ہیں۔ متعد شوگر ملوں نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے فیصلے کی تائید کی ہے جس نے پہلے ہی گنے کی کرشنگ وقت پر شروع کرنے سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ شوگر ملیں گنے کی قیمت فی من 140 روپے مقرر کرنے پر اصرار کررہی ہیں۔
(ڈان، 30 نومبر، صفحہ17)

ایک خبر کے مطابق گنے کے کاشتکاروں اور دو کسان تنظیموں کے ارکان نے گنے کی قیمت 250 روپے فی من مقرر کرنے، گنے کی کرشنگ فوری شروع کرنے اور ملوں کی جانب سے کسانوں کے واجبات کی ادائیگی کے لئے حیدرآباد میں تین روزہ احتجاج کا آغاز کردیا ہے۔ کسانوں نے احتجاجی مہم کا آغاز کرتے ہوئے حیدرآباد پریس کلب پر سندھ حکومت اور ملوں کے خلاف نعرے لگائے۔ کسان تنظیموں کے رہنماؤں نے ملوں کی جانب سے کسانوں کے معاشی قتل کی مذمت کی ہے۔
(ڈان، 1 دسمبر، صفحہ17)

وفاقی حکومت اور مل مالکان کے درمیان کرشنگ کے آغاز کے حوالے سے ہونے والے مزاکرات بے نتیجہ رہے ہیں اور کاشتکار ملوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس مل مالکان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بے نتیجہ رہا جو اپنے مطالبات کی منظوری تک کرشنگ شروع نہیں کرنا چاہتے۔ شوگر ملوں نے کمیٹی کی 15 نومبر سے گنے کی کرشنگ شروع کرنے کی ہدایت کے برخلاف اب تک گنے کی کرشنگ شروع نہیں کی ہے۔ کرشنگ میں تاخیر سے کسانوں کو گندم کی اگلی فصل کی کاشت میں پریشانیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 1 دسمبر، صفحہ20)

ایک خبر کے مطابق حکومت نے شوگر ملوں کو مزید ایک لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے اور ایک ملین ٹن چینی کی برآمد پر عائد شرائط نرم کردی ہیں۔ ملوں پر 15 نومبر تک کرشنگ شروع کرنے پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شوگر ملوں کو زرتلافی کی مد میں حکومت پر واجب الادا رقم میں سے فوری طور پر 2 بلین روپے ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ ملیں گنے کی کرشنگ کا آغاز کرسکیں جو پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے جس کی وجہ سے کسان مشکلات کا شکار ہیں۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کمیٹی نے ایک ملین ٹن چینی اس شرط کے ساتھ برآمد کرنے کی منظوری دی تھی کہ ملیں 15 نومبر کو کرشنگ کا آغاز کریں گی اور صرف وہ ملیں چینی برآمد کرسکیں گی جنہوں نے کسانوں کے گزشتہ سال کے بقایاجات ادا کردیے ہوں۔
(ڈان، 5 دسبر،صفحہ10)

پانی
سینٹ کمیٹی برائے آبی وسائل میں چیئرمین واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) مزمل حسین نے کہا ہے کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے تعمیراتی کام کا آغاز بلترتیب فروری اور مئی 2019 میں ہوگا۔ کمیٹی کو مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں کچھی کنال سے 74,000 ایکڑ فٹ پانی ترسیل کرنے کا نظام موجود نہیں ہے۔ صوبے میں صرف 10,000 ایکڑ فٹ پانی کی ترسیل کا نظام موجود ہے۔ اجلاس کے دوران سنیٹر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ مہمند و دیامر ڈیم کی تعمیر کے لئے وزیراعظم اور چیف جسٹس فنڈ کی رقم کو بلوچستان میں 100 ڈیم بنانے کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔ سینٹر عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 12 ملین ایکڑ سے زیادہ پانی ضائع ہورہا ہے اور صوبہ میں آبی ذخائر بنانے کے لئے 500 بلین روپے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں آبی ذخائر کی تعمیر کو سی پیک منصوبے میں شامل ہونا چاہیے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 نومبر، صفحہ3)

ایوان زرعت سندھ نے صوبے میں پانی کی قلت برقرار رہنے کی صورت میں خشک سالی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ایوان زراعت سندھ، لاڑکانہ کے صدر سید سراج الاولیاء راشدی نے نہروں میں پانی کی کمی کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال زرخیز زمینوں کو بنجر بنادے گی۔ ان مسائل کا حل صرف پانی کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوائے سندھ کے تمام صوبوں میں پانی کی فراہمی کے لئے وارہ بندی کی جارہی ہے۔ مبینہ طور پر بااثر افراد آبپاشی حکام کو رشوت دے کر بلا تعطل پانی حاصل کررہے ہیں اور آبپاشی حکام کی سرپرستی میں پانی کی چوری جاری ہے۔
(ڈان، 29 نومبر، صفحہ17)

غذائی کمی
مٹھی سول ہسپتال، تھرپارکر میں گزشتہ دو دنوں میں غذائی کمی اور پانی سے ہونے ولی بیماریوں سے مزید سات بچے جانبحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اس سال مرنے والے بچوں کی تعداد 595 تک پہنچ گئی ہے۔ متاثرہ بچوں کو ہسپتال لانے والے والدین کا کہنا ہے کہ غذائی کمی اور مسلسل آلودہ پانی کا استعمال تھر میں بچوں کی اموات کی وجوہات ہیں۔ والدین کا مزید کہنا تھا کہ وہ کنوؤں کا انتہائی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس پانی کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔
(ڈان، 4 دسمبر، صفحہ17)

غربت
وزیر بلدیات و دیہی ترقی سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ تھرپارکر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کی منصوبہ بندی کے تناظر میں بنیادی ضروریات کا حامل ایک مثالی گاؤں تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ گاؤں 500 گھرانوں پر مشتمل ہے جہاں پینے کا صاف پانی، نکاسی آب کی سہولیات، مچھلیوں کے تالاب، ہسپتال کی جدید سہولیات اور دو تعلیمی مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر نے زرائع ابلاغ کو مزید بتایا ہے کہا ہے اس مثالی گاؤں میں لوگ رہائش اختیار کرچکے ہیں اور اسی طرز پر تھرپارکر کے دیگر دیہات کو بہتر بنانے پر کام کیا جارہا ہے۔
(ڈان، 5 دسمبر، صفحہ17)

کپاس
وفاقی حکومت نے زمینی راستے سے کپاس کی درآمد کے لیے حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قوانین (پلانٹ کورنٹین رولز) میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں طورخم بارڈر سے کپاس کی درآمد کے معاملے پر بحث کے بعد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملکی کپڑے کی صنعت میں کپاس کی سالانہ کھپت 12 سے 15 ملین گانٹھیں ہے جسے پوری کرنے کے لئے پاکستان کپاس درآمد کرتا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 3 دسمبر، صفحہ1)

ماہی گیری
پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے 22 بھارتی ماہی گیروں کو گرفتار کرکے ان کی تین کشتیوں کو ضبط کرلیا ہے۔ ایجنسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں کو پاکستانی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر شکار کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 1 دسمبر، صفحہ3)

نکتہ نظر 
اس ہفتے کی سرفہرست خبر ملک میں بڑھتی ہوئی سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے نفاذ کو واضح کررہی ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے کسانوں کو زرعی کمپنیوں کو نوازنے کے لیے مختلف مراعات دے کر زرعی مشینری، مخصوص بیج اور کھاد کے استعمال کو فروغ دے کر کسانوں کی خوشحالی کی امیدیں دلائی جاتی ہیں لیکن دوسری طرف کہیں صنعتی علاقوں کے قیام اور کہیں اشرافیہ کے لیے تعمیر ہونے والے رہائشی منصوبوں کے لیے کسانوں اور دیگر شعبہ سے وابستہ آبادیوں کو بیدخل کرنے کا عمل تقریبا پورے ملک میں جاری ہے۔ بات چاہے توانائی منصوبوں کے لیے تھرپارکر کے عوام کی بیدخلی کی ہو یا حطار میں اقتصادی زون کی تعمیر کی ہر سطح پر چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور ہی اس نام نہاد ترقی کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ حکومت کی مجموعی پالیسی سازی اشرافیہ کے مفادات کا ہی تحفظ کرتی ہے، سرکاری عملداری کا غریب شہریوں چاہے وہ کسان ہوں یا مزدور، خوب زور چلتا ہے لیکن جب شوگر مل مالکان کی بات ہو تو حکومت مزاکرات کرکے انہیں مراعات اور شرائط میں نرمی کی پیشکش کرتی ہے حالانکہ گنے کے کاشتکار کئی ماہ سے قیمت میں کمی، بقایاجات کی عدم ادائیگی اور کرشنگ شروع نہ کرنے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ اشرافیہ کی حکومت اشرافیہ کے لیے ہی پالیسی سازی اور ان پر عملدرآمد کرتی ہے ۔ پسے ہوئے استحصال کے شکار طبقات کو ان ناانصافیوں کے خلاف منظم ہوکر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

SLAVERY INC: HOW LEGISLATORS REINFORCE BONDED LABOUR IN SINDH

Mohammad Hussain Khan Updated October 01, 2018

The hari-landlord relationship remains undocumented in Sindh. This makes peasants vulnerable to all forms of exploitation.

Weaker laws and regulatory framework deprive haris of legal protection. In many cases, they survive in subhuman conditions and fall prey to slavery.

Sindh Tenancy Act (STA) 1950 seeks to protect their rights, thanks to a relentless struggle by one of the greatest hari leaders of his era, Hyder Bux Jatoi. However, haris can hardly invoke its provisions to get their rights.

Yet this law, which describes a hari as a tenant, was amended by the Sindh Assembly in 2013. The most damaging amendment that the PPP, which derives its electoral strength from rural Sindh, introduced to it was the omission of the following words: “But the landlord shall not take any free labour from the tenant or a member of his family against his will.”

In other words, legislators have legalised slavery.

According to veteran labour rights activist Karamat Ali, this amendment shows that legislators are in a state of denial as they believe landowners don’t take begaar (free labour). “Legislators from urban areas also voted for the amendment,” he said.

Landowners maintain accounts of expenditures that they settle with haris after the harvest. Haris till the land under no written agreement

Practically, the hari-landlord relationship is governed under no law. Haris are not registered under the record of rights as permanent tenants as per the 1950 law. Usually, peasants share expenses incurred by their landlords as the latter purchase all inputs either by themselves or through local financiers. These local lenders charge interest rates that are multiple times higher than the mark-up on a typical bank loan.

For instance, a local lender provides farmers with a urea bag at Rs2,400 on credit even though its actual price varies between Rs1,600 and Rs1,700. The loan is usually adjusted once the crop is harvested and sold either in the market or to the same lender.

This undermines the monetary interests of haris who have to make do with a meagre share in the profit after the deduction of expenses. Landowners maintain accounts of expenditures and settle the same with haris after the harvest. Haris till the land under no written agreement.

A landlord lets haris cultivate separate pieces of land. They depend on the landlord for meeting their day-to-day needs as he ensures the supply of irrigation water, seeds, fertiliser, pesticides and tractors.

Although the STA is considered a pro-peasant law, rights bodies have come up with some draft amendments to make it more progressive. However, the Sindh government hasn’t considered those amendments yet.

Many people believe that elected representatives in rural Sindh are primarily from powerful landed aristocracy and get support from their urban counterparts. Overall, 10 amendments have been made to the law. But there hasn’t been any meaningful impact as far as conditions of the haris are concerned.

The STA calls for setting up tribunals to resolve hari-landowner disputes. But no such body has been set up so far.

One draft amendment calls for placing the tribunals under the judicial magistrate instead of a taluka-level assistant commissioner as enshrined in actual STA.

Another draft amendment calls for making a tribunal’s decision challengeable in “higher civil courts” contrary to the actual provision that says, “A decision of tribunal or in appeal by collector (deputy commissioner) and then by commissioner shall be final and shall not be called in question in any court.” But these amendments have not been considered.

Interestingly, farm workers and those working in the fisheries sector are now covered by the definition of “industrial labour” under Sindh Industrial Relations Act (SIRA) 2013. But the rules under the SIRA have not been issued yet.

Sindh Abadgar Board Vice President Mahmood Nawaz Shah says relevant departments lack the capacity to implement tenancy rules. Laws like the STA couldn’t take effect under a weak governance structure.

Mr Ali says conditions for farm labour are extremely poor. “They have no right to form a union. When a hari is not registered with the revenue department, he and his family can be evicted by the landowner any time,” he says.

Any payment of advances to haris is prohibited under Bonded Labour System (Abolition) Act 2015

An identical situation exists even in the formal labour sector where third-party employment by factory owners is commonplace now, he adds.

The cases of bonded labourers are usually reported against the backdrop of the poor implementation of tenancy laws. Such haris escape from the clutches of landowners to avoid paying the debt they obtained in advance. Any payment of advances to haris under Bonded Labour System (Abolition) Act 2015 is prohibited. But the law is rarely implemented.

Peasant rights activists claim that 13.46 million people were employed in Sindh in 2012. Of them, as many as 7.74m were based in rural areas. A majority of them work as sharecroppers — landless tenants or peasants — as well as wage labour.

Trade unionist Nasir Mansoor asserts that even the STA has become obsolete now. He believes that only getting haris freed from bondage is no solution to the issue. An entirely new consultation is needed to look at the hari-landlord relationship, he stated, adding that peasants will continue ending up as losers otherwise.

Published in Dawn, The Business and Finance Weekly, October 1st, 2018

https://www.dawn.com/news/1435964/slavery-inc-how-legislators-reinforce-bonded-labour-in-sindh

WORLD FOODLESS DAY, OCTOBER 16, 2018

PRESS RELEASE

The Food and Agriculture Organization (FAO) celebrates the World Food Day on October 16 every year. This year FAOs slogan is “A#ZeroHunger World by 2030 is possible.” But across the world, small and landless farmers, labour organizations commemorate the day as “World Hunger Day”. Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT), Roots for Equity, PAN AP, and various organizations have campaigned from October 1-16 to highlight the critical importance of agro-ecology and the important character of youth in promoting agroecology, and have used the theme “ Youth on the March: Building Global Community for Agroecology and Food Sovereignty” for the World Hunger Day.

To protest the rising hunger across the globe, and in Pakistan, PKMT and Roots for Equity took out a rally in Haripur, Khyber Pakhtunkwa which included small and landless farmers from many KPK districts.

According to the Altaf Hussain, National Coordinator, PKMT 60% of Pakistani population is facing food insecurity.  A very large majority of the population was living under poverty, and this is the basic reason that 80% children are deprived of adequate nutrition, 44% children were suffering from malnourishment. No doubt hunger can be eradicated from Pakistan but in the current state of industrial agricultural production, where huge transnational corporations with their toxic hybrid, genetically engineered technology have got their tentacles in the system, it is NOT possible. These corporations are earning super-profits through the exploitation of small and landless farmers and this is the most critical factor in the escalating hunger, malnutrition and poverty. In Pakistan, in spite of surplus production of wheat and rice, feudalism, corporate agriculture and international trade agreements that such a large majority of the people, especially women and children suffer from hunger. Only by taking away the control of feudal lords, and corporations from our lands, our food systems and markets can eliminate hunger.

Fayaz Ahmed, Provincial Coordinator, KPK stated that the promotion of foreign investments, and an export-oriented economy, and vast infrastructural projects are resulting in the eviction of small and landless farmers; this in the face of the fact that only 11 percent of big landlords own 45% of agricultural land. The expansion of the Hattar Industrial Zone is a living example for which not only small farmers were evicted but even the labor force employed in the industries suffers from very low wages and lack of basic human rights.

Mohammad Iqbal, District Coordinator Haripur stated that the governments willingness to allow global capitalist powers control over our markets, promotion of unsustainable agriculture practices has resulted in land and food production to be a source of profit-making. All this has not only exacerbated hunger among rural communities but has also caused environmental pollution especially food pollution, and climate change. In order to get rid of poverty, hunger and joblessness, equitable land distribution must be carried out, for attaining food security and food sovereignty the control of corporations, especially agro-chemical corporations must be eliminated. All this is only possible if the farmers including women are central to decision making in rural economy, and of course agroecology is made the basis for healthy, sustainable food production systems. Only these measures will guarantee a sustainable society.

The demands put forward by PKMT and Roots for Equity include.

Released by: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek & Roots for Equity

‘THE WORLD IS AGAINST THEM’: NEW ERA OF CANCER LAWSUITS THREATEN MONSANTO

October 8, 2018 / Published at The Guardian

by Carey Gillam and Sam Levin

Dean Brooks grasped on to the shopping cart, suddenly unable to stand or breathe. Later, at a California emergency room, a nurse with teary eyes delivered the news, telling his wife, Deborah, to hold out hope for a miracle. It was December 2015 when they learned that a blood cancer called non-Hodgkin lymphoma (NHL) was rapidly attacking the man’s body and immune system.

By July 2016, Dean was dead. Deborah gets emotional recounting the gruesome final chapter of the love of her life. But in recent months, she has had reason to be hopeful again.

In an historic verdict in August, a jury ruled that Monsanto had caused a man’s terminal cancer and ordered the agrochemical corporation to pay $289m in damages. The extraordinary decision, exposing the potential hazards of the world’s most widely used herbicide, has paved the way for thousands of other cancer patients and families to seek justice and compensation in court.

“It’s like a serial killer, but it’s a product,” said Brooks, 57, who has a pending case against Monsanto, alleging that her husband’s use of the company’s popular weedkiller at their home led to his fatal disease. “It’s unconscionable … I don’t see how they can win. The world is against them.”

Brooks said she cried when she learned that a jury had ruled in favor of Dewayne “Lee” Johnson, the terminally ill former school groundskeeper who became the first person to take Monsanto to trial over Roundup. The verdict stated that Monsanto “acted with malice”, knew or should have known its chemical was dangerous, and failed to warn consumers about the risks.

Monsanto has filed an appeal, and a hearing is scheduled for Wednesday in San Francisco. The stakes are high for Monsanto and Bayer, the German pharmaceutical giant that acquired the company earlier this year. Energized by the Johnson win, a snowballing series of courtroom challenges are now threatening the legacy and finances of the corporations – and the future of a chemical that is ubiquitous around the globe.

The fight against 8,000 plaintiffs

Monsanto has argued that “junk science” led to the jury’s ruling on the chemical called glyphosate, which the company brought to market in 1974. Sold under numerous brands, including Roundup and Ranger Pro, the herbicide is now worth billions of dollars in revenues and is registered in 130 countries, with approvals for use on more than 100 crops.

The Johnson v Monsanto trial was groundbreaking before it even began, because a judge allowed the plaintiff’s attorneys to present research and expert testimony on glyphosate and health risks – scientific evidence that the jury ultimately found credible and compelling.

Johnson, who is not expected to survive for more than two years, said he had prolonged exposures to glyphosate while applying the herbicide to school properties, at least twice accidentally getting large amounts of the chemical on his skin. Because Monsanto has insisted that the product is safe and has no cancer warnings on its labels, Johnson said he did not know about the risks until it was too late.

His award of $289m, which included $250m in punitive damages, is a game-changer for the 46-year-old, who will leave behind a wife and three children. But Monsanto is fighting to keep it from him.

“It’s a big red flag for the company,” said Jean M Eggen, professor emerita at Widener University Delaware Law School, adding of the verdict: “It brings more people out who might not otherwise sue.”

Roughly 8,700 plaintiffs have made similar cases in state courts across the country, alleging that exposure to glyphosate-based herbicides led to various types of cancer. The impact could be huge if Monsanto continues to fight and lose in jury trials, and an accumulation of wins could force the company to consider settling with plaintiffs.

“It could become very costly,” said Eggen, comparing the fight to that of the tobacco industry, which aggressively fought cases in court but eventually decided settlements were the best option. “It’s really a business decision.”

Monsanto may ultimately consider changing the labels to warn consumers about cancer risks and work to settle with consumers who have had high exposures, said Lars Noah, University of Florida law professor: “It’s sort of a wake-up call that their strategy was unrealistic.”

Of the thousands of cases, there are more than 10 trials on track to start in 2019 and 2020, with court battles ramping up in California, Montana, Delaware, Kansas City and St Louis (where Monsanto is headquartered). Farmers, gardeners, government employees, landscapers and a wide range of others have alleged that Monsanto’s products sickened them or killed their loved ones.

“This is a tremendous number of trials for one year and will allow plaintiffs to get critical evidence in front of juries – evidence not seen before,” said the attorney Aimee Wagstaff.

The first plaintiffs who may have an opportunity to face Monsanto in a courtroom are Alberta and Alva Pilliod, a California couple. Alberta, 74, has brain cancer while her husband, 76, suffers from a bone cancer that he said has invaded his pelvis and spine – both forms of NHL.

Given their age and cancer diagnoses, their lawyers have argued they have a right to a speedy trial. Monsanto, however, has opposed the request, and a hearing on the matter is set for Tuesday.

The couple, who have two children and four grandchildren, used Roundup from the 1970s until a few years ago – around their yard and on multiple properties they purchased and renovated. The couple said they chose the herbicide because they believed it wouldn’t be harmful to the deer, ducks and other animals that roamed their property. They were also sure it was safe for themselves.

“We are very angry. We hope to get justice,” Alberta told the Guardian, noting that they didn’t use protective gear when they sprayed and would not have used Roundup the way they did if they knew the risks. “If we had been given accurate information, if we had been warned, this wouldn’t have happened.”

Alva said the cancer had destroyed their lives: “It has been a miserable few years.”

Their lawyers hope to go to trial before it’s too late. Alberta’s doctors have said she has “substantially high risk” for recurrence, has “deep brain lesions” from the cancer – and is likely to die if she does relapse.

‘We are not going to be silent’

The Pilliods and other plaintiffs taking on the company have long argued that Monsanto led a “prolonged campaign of misinformation to convince government agencies, farmers and the general public that Roundup was safe”.

Attorneys have cited internal Monsanto records that they say demonstrate how the company has manipulated and corrupted the scientific record with respect to the herbicide’s safety. The scrutiny has escalated in recent weeks.

On 26 September, the prominent scientific journal Critical Reviews in Toxicology issued an “expression of concern”, saying that its published research finding glyphosate to be safe had not fully declared Monsanto’s involvement.

The high-profile correction came after litigation revealed that the company was involved in organizing and editing article drafts. Monsanto was linked to a scientific review that countered a crucial 2015 International Agency for Research on Cancer classification of glyphosate as a probable human carcinogen.

More evidence could emerge at forthcoming trials about Monsanto’s questionable involvements in scientific papers, plaintiffs’ attorneys said.

A Bayer spokesman, Utz Klages, said in an email that the number of cases filed was “not indicative of the merits of the litigation”. He called glyphosate a “breakthrough for modern agriculture” and “cost-effective tool that can be used safely to control a wide range of weeds”.

Regulatory reviews and scientific studies have demonstrated that glyphosate is safe and not a cause of NHL, he said, adding: “The Johnson verdict is not final and concerns a single, specific case.”

John Barton, a California farmer who used Roundup for decades and was diagnosed with NHL in 2015, said he was eager to go to trial, especially since Monsanto and Bayer were still telling the public that glyphosate was safe.

“Monsanto needs to realize that we are not going to be silent any more,” said Barton, a third-generation farmer, who is part of a California lawsuit filed by the Baum Hedlund firm, which represented Johnson. “We are not going to roll over and play dead … People should be warned that this stuff is everywhere and we should be careful of this product.”

Barton, 69, said he also feared that his three sons could get sick due to their Roundup exposure.

“My dad exposed me to this. He never would’ve done that if he knew it was dangerous,” he added. “I have this guilt that I may have endangered my own sons.”

Deborah Brooks described NHL as “torture”, recounting her husband lying on towels on the floor trying to stop endless nosebleeds and the constant illnesses that plagued him while his immune system suffered.

“Nobody should have to go through that. It takes life in such a terrible way,” said Brooks, whose husband was 72 years old when he died. “I’m fighting for the honor of my husband and all the others that have come before and will come after … My heart goes out to those victims who don’t know they’re victims.”

Bayer declined to comment about the Brooks or Barton cases. A spokeswoman, Charla Lord, said in an email that because the Pilliods are both in remission and there was “no indication of any imminent cancer recurrence”, the company is arguing that an early trial date was not warranted.

Legal experts said it was possible the Johnson appeal could lead to a reduced monetary award. The courts could also find that there was insufficient evidence to prove that glyphosate causes cancer or that attorneys failed to demonstrate that the herbicide caused Johnson’s cancer.

Those outcomes could be devastating for Johnson and a setback for those fighting glyphosate. But cancer patients and families across the country will be able to push forward regardless of what happens in San Francisco, said David Levine, a University of California Hastings law professor.

“Even if Monsanto gets a complete victory here, it’s not going to stop other plaintiffs.”

http://careygillam.com/articles/article/the-world-is-against-them-new-era-of-cancer-lawsuits-threaten-monsanto

https://www.theguardian.com/science/2018/oct/07/monsanto-trial-cancer-appeal-glyphosate-chemical

U.S. threats stun world health agency

Opposition to Breast-Feeding Resolution by U.S. Stuns World Health Officials

By Andrew Jacobs

July 8, 2018

A resolution to encourage breast-feeding was expected to be approved quickly and easily by the hundreds of government delegates who gathered this spring in Geneva for the United Nations-affiliated World Health Assembly.

Based on decades of research, the resolution says that mother’s milk is healthiest for children and countries should strive to limit the inaccurate or misleading marketing of breast milk substitutes.

Then the United States delegation, embracing the interests of infant formula manufacturers, upended the deliberations.

American officials sought to water down the resolution by removing language that called on governments to “protect, promote and support breast-feeding” and another passage that called on policymakers to restrict the promotion of food products that many experts say can have deleterious effects on young children.

When that failed, they turned to threats, according to diplomats and government officials who took part in the discussions. Ecuador, which had planned to introduce the measure, was the first to find itself in the cross hairs.

The Americans were blunt: If Ecuador refused to drop the resolution, Washington would unleash punishing trade measures and withdraw crucial military aid. The Ecuadorean government quickly acquiesced.

The showdown over the issue was recounted by more than a dozen participants from several countries, many of whom requested anonymity because they feared retaliation from the United States.

Health advocates scrambled to find another sponsor for the resolution, but at least a dozen countries, most of them poor nations in Africa and Latin America, backed off, citing fears of retaliation, according to officials from Uruguay, Mexico and the United States.

“We were astonished, appalled and also saddened,” said Patti Rundall, the policy director of the British advocacy group Baby Milk Action, who has attended meetings of the assembly, the decision-making body of the World Health Organization, since the late 1980s.

“What happened was tantamount to blackmail, with the U.S. holding the world hostage and trying to overturn nearly 40 years of consensus on the best way to protect infant and young child health,” she said.

In the end, the Americans’ efforts were mostly unsuccessful. It was the Russians who ultimately stepped in to introduce the measure — and the Americans did not threaten them.

The State Department declined to respond to questions, saying it could not discuss private diplomatic conversations. The Department of Health and Human Services, the lead agency in the effort to modify the resolution, explained the decision to contest the resolution’s wording but said H.H.S. was not involved in threatening Ecuador.

“The resolution as originally drafted placed unnecessary hurdles for mothers seeking to provide nutrition to their children,” an H.H.S. spokesman said in an email. “We recognize not all women are able to breast-feed for a variety of reasons. These women should have the choice and access to alternatives for the health of their babies, and not be stigmatized for the ways in which they are able to do so.” The spokesman asked to remain anonymous in order to speak more freely.

Although lobbyists from the baby food industry attended the meetings in Geneva, health advocates said they saw no direct evidence that they played a role in Washington’s strong-arm tactics. The $70 billion industry, which is dominated by a handful of American and European companies, has seen sales flatten in wealthy countries in recent years, as more women embrace breast-feeding. Over all, global sales are expected to rise by 4 percent in 2018, according to Euromonitor, with most of that growth occurring in developing nations.

The intensity of the administration’s opposition to the breast-feeding resolution stunned public health officials and foreign diplomats, who described it as a marked contrast to the Obama administration, which largely supported W.H.O.’s longstanding policy of encouraging breast-feeding.

During the deliberations, some American delegates even suggested the United States might cut its contribution to the W.H.O., several negotiators said. Washington is the single largest contributor to the health organization, providing $845 million, or roughly 15 percent of its budget, last year.

The confrontation was the latest example of the Trump administration siding with corporate interests on numerous public health and environmental issues.

In talks to renegotiate the North American Free Trade Agreement, the Americans have been pushing for language that would limit the ability of Canada, Mexico and the United States to put warning labels on junk food and sugary beverages, according to a draft of the proposal reviewed by The New York Times.

During the same Geneva meeting where the breast-feeding resolution was debated, the United States succeeded in removing statements supporting soda taxes from a document that advises countries grappling with soaring rates of obesity.

The Americans also sought, unsuccessfully, to thwart a W.H.O. effort aimed at helping poor countries obtain access to lifesaving medicines. Washington, supporting the pharmaceutical industry, has long resisted calls to modify patent laws as a way of increasing drug availability in the developing world, but health advocates say the Trump administration has ratcheted up its opposition to such efforts.

The delegation’s actions in Geneva are in keeping with the tactics of an administration that has been upending alliances and long-established practices across a range of multilateral organizations, from the Paris climate accord to the Iran nuclear deal to Nafta.

Ilona Kickbusch, director of the Global Health Centre at the Graduate Institute of International and Development Studies in Geneva, said there was a growing fear that the Trump administration could cause lasting damage to international health institutions like the W.H.O. that have been vital in containing epidemics like Ebola and the rising death toll from diabetes and cardiovascular disease in the developing world.

“It’s making everyone very nervous, because if you can’t agree on health multilateralism, what kind of multilateralism can you agree on?” Ms. Kickbusch asked.

A Russian delegate said the decision to introduce the breast-feeding resolution was a matter of principle.

“We’re not trying to be a hero here, but we feel that it is wrong when a big country tries to push around some very small countries, especially on an issue that is really important for the rest of the world,” said the delegate, who asked not to be identified because he was not authorized to speak to the media.

He said the United States did not directly pressure Moscow to back away from the measure. Nevertheless, the American delegation sought to wear down the other participants through procedural maneuvers in a series of meetings that stretched on for two days, an unexpectedly long period.

In the end, the United States was largely unsuccessful. The final resolution preserved most of the original wording, though American negotiators did get language removed that called on the W.H.O. to provide technical support to member states seeking to halt “inappropriate promotion of foods for infants and young children.”

The United States also insisted that the words “evidence-based” accompany references to long-established initiatives that promote breast-feeding, which critics described as a ploy that could be used to undermine programs that provide parents with feeding advice and support.

Elisabeth Sterken, director of the Infant Feeding Action Coalition in Canada, said four decades of research have established the importance of breast milk, which provides essential nutrients as well as hormones and antibodies that protect newborns against infectious disease.

2016 study in The Lancet found that universal breast-feeding would prevent 800,000 child deaths a year across the globe and yield $300 billion in savings from reduced health care costs and improved economic outcomes for those reared on breast milk.

Scientists are loath to carry out double-blind studies that would provide one group with breast milk and another with breast milk substitutes. “This kind of ‘evidence-based’ research would be ethically and morally unacceptable,” Ms. Sterken said.

Abbott Laboratories, the Chicago-based company that is one of the biggest players in the $70 billion baby food market, declined to comment.

Nestlé, the Switzerland-based food giant with significant operations in the United States, sought to distance itself from the threats against Ecuador and said the company would continue to support the international code on the marketing of breast milk substitutes, which calls on governments to regulate the inappropriate promotion of such products and to encourage breast-feeding.

In addition to the trade threats, Todd C. Chapman, the United States ambassador to Ecuador, suggested in meetings with officials in Quito, the Ecuadorean capital, that the Trump administration might also retaliate by withdrawing the military assistance it has been providing in northern Ecuador, a region wracked by violence spilling across the border from Colombia, according to an Ecuadorean government official who took part in the meeting.

The United States Embassy in Quito declined to make Mr. Chapman available for an interview.

“We were shocked because we didn’t understand how such a small matter like breast-feeding could provoke such a dramatic response,” said the Ecuadorean official, who asked not to be identified because she was afraid of losing her job.

https://www.nytimes.com/2018/07/08/health/world-health-breastfeeding-ecuador-trump.html

Know your rights: ‘Government not showing efficiency in solving public issues’

Published: November 28, 2016

KARACHI: The government is not inefficient but they do not show their efficiency in matters related to public interest, said Azra Talat Sayeed, who is an activist and the executive director of Roots for Equity.

She was addressing the audience at a  discussion on ‘Food Justice and Farmers’ Rights’ held at The Second Floor on Sunday. Sayeed works for an organisation that fights for the rights of small and landless farmers, especially female farmers. The discussion focused on the increasing issue of agricultural change ever since the passing of the Seed (Amendment) Act, 2015 and Plant Breeders’ Rights Bill, 2016.

The majority of parliamentarians are landlords and the poor farmers are their slaves, Sayeed claimed, while accusing them of not standing up for the rights of these farmers. Recalling her first trip to a village when she got to hear stories of farmers and their families living there, Sayeed said it was difficult for her to believe that even though the farmers worked for 12 to 18 hours a day they still owed millions of rupees in loans.

“We have started looking for organic seeds, not scientifically grown ones,” said Sayeed, while referring to genetically modified (GM) seeds being replaced with organic seeds. It is hard to find even five varieties of wheat seeds in Pakistan, she added. Speaking about the issues that the farmers are facing since the bills have been passed, Sayeed said promoting GM seeds is the capitalist and corporate interest of the landlords.

Yasir Husain, who is an urban farmer and co-founder of Organic City, said he feels that Karachi is isolated from the rest of the country, with its people being indifferent to nature. He added that Karachiites have a concrete life and they live in that same bubble.

Talking about how people can be closer to nature, Husain said that every child should know how to grow plants. “Students should be taught in schools about kitchen gardening,” he said, adding that it is not necessary for one to have a garden to grow plants. Rooftops and galleries can also be used for planting purposes, he said.

“Seeds have changed and so has the variety,” said sociologist and Karti Dharti founder Nosheen Ali, while launching a report titled ‘Seed Inc: Food Sovereignty, Farmers’ Rights and New Legal Regimes in Pakistan’. While speaking about her time living abroad, Ali said she found the taste and colours of various fruits to be different compared to fruits here. With the ongoing hunger crisis that the world is facing and increasing use of GM seeds, we will face drastic changes, Ali said, adding that the government will never stand up for farmers’ rights.

“It is a common misunderstanding in the country that farmers are an impediment to the growth of the country because they are illiterate and the country can only grow economically with GM seeds,” she said, adding that such modified seeds will bring more misery in the farmers’ lives.

Ali was accompanied by Amna Tanweer Yazdani as the moderator of the session, who is an anthropologist and senior social scientist at Aga Khan University.

Published in The Express Tribune, November 29th, 2016.

https://tribune.com.pk/story/1247177/know-rights-government-not-showing-efficiency-solving-public-issues/

In the Belly of the River: Flooding the Landless

Nov 2014

The village of Kanwan Wali, a government sponsored tent community on an embankment vulnerable to flooding.

The village of Kanwan Wali, a government sponsored tent community on an embankment vulnerable to flooding. | Photography: Kasim Tirmizey

Kachchhi – sone di pachchhi.
Riverine land is a basket of gold.
– Punjabi proverb in the Shahpur District of Punjab1

Under a burning sun, the Khana Padosh tribe of the Moza Vehlan village in Multan tehsil make do with tattered and colorful patches of cloth and wooden sticks to construct their tents. After massive flooding inundated their village, constructed on katchi (riverine) lands, they have been forced to temporarily reside on a nearby band (embankment).

While the katchi lands are prone to flooding, the Khana Padosh say they have little choice but to live there. They would hardly describe the land they live on as a “basket of gold” as the old Punjabi proverb goes. The katchi was considered bountiful in the 19th century, when farming in western Punjab was done through inundated agriculture. It was a system that thrived on regular floodwaters making riverine lands fertile for agriculture. At that time, farmers would organize agrarian life according to the rhythms of floods. Other communities, such as the Khana Padosh, in this part of Punjab were nomadic pastoralists.

Western Punjab underwent massive transformation under British rule through the introduction of canal irrigation. This signalled the demise of inundated agriculture and nomadic pastoralism. The British were interested in increasing the agrarian frontier in order to provide cheap food2 in England and to gain greater land revenue through rent. In the new political economy, katchi lands were marginal and vulnerable territory.

The Khana Padosh tribe living on the embankment.

The Khana Padosh living on the embankment.

The Khana Padosh were historically a nomadic tribe that tended to livestock. The introduction of canal colonies interrupted that mode of life, however. The British considered many nomadic communities to be ‘criminal tribes’. That term, ‘criminal’, had less to do with the law, and more with the British government’s attempt to criminalize the entire nomadic pastoral way of life, seeing as it stood in opposition to their canal systems. The British demand to assimilate to a settler-farmer mode of life was, however, unconceivable for many nomadic tribes.

Today’s Khana Padosh tribe, like their forefathers, are technically landless. A local landowner has allowed the tribe to squat on a portion of the katchi land that he owns near the Chenab River for the sole purposes of temporary settlement.

Bashir Ahmed, of the Kanwan Wali village, is living temporarily on an embankment in a government sponsored tent community in Multan tehsil. Unlike the Khana Padosh, he and his fellow villagers work as sharecroppers on katchi land for a landowner. He explains why he and others live on the katchi: “Us, the poor, we don’t have any money or assets that [allow us to] live in the pakka [settled] areas. That is why we live in the center of the river. That is why we live in the katchi. We have to produce what we can so we can eat.”

Others from Bashir’s village commented that they live on the katchi because land there is cheaper to lease.

Azra Talat Sayeed, the director of the NGO Roots for Equity, which focuses on the political mobilization of peasant and labour communities, argues that the fundamental issue behind the impact of the floods is landlessness:

“Many thousands of these people live on the banks of various [rivers] which run the length and breadth of the country, only because Pakistan has failed to implement even the most rudimentary of land reforms, let alone a policy that would allow for a just equitable distribution of land. Feudal lords, who are fast changing into ‘corporate land lords,’ rule the country and millions of farmers are forced to eke out a very meagre earning by working as sharecroppers, agricultural workers or contract farmers. Others are forced to endanger their lives and livelihood by living in what could be called a ‘seasonal red zone’; no doubt global warming and ensuing climate change have exacerbated the situation.”3

Landless people and smallholders represent 92 percent of the population in present day Pakistan. For the rural poor, katchilands are the last resort for survival. While some nomadic tribes opted to settle in one area, have received small portions of land to practice agriculture on, the Khana Padosh tribe opted not to do so. The Khana Padosh do not have a history of agrarian life, nor do they engage in farming today. Farming has been a mode of life that requires an intense amount of apprenticeship and practice, and, most of all, access to land that is not vulnerable to severe inundation. The Khana Padosh say that they mostly continue to act as pastoralists, tending to livestock under contract with wealthy farmers. Others seek daily wages as labourers in the nearby city of Multan.

Communities across the katchi had a few days warning of the oncoming floods. These communities packed whatever houseware they could take with them, a few days worth of food, and headed towards the embankment.

Muhammad Ghulam with a basket that he made from wooden sticks to be sold in the market. This production continues in the embankment as means of livelihood.

Muhammad Ghulam with a basket that he made from wooden sticks to be sold in the market. This production continues in the embankment as means of livelihood.

“Our villages in the katchi have been totally inundated. Our homes have been destroyed,” Ghulam Muhammad of the Khana Padosh tribe told Tanqeed. “When we return to our village we will have to start from scratch. We don’t even have any food or tents. Things will worsen when the cold weather arrives and we are without proper shelter.”

While the government has been distributing basic rations and providing tents to some communities from the katchi, they have not given anything to the Khana Padosh.

“The government has not given us any rations. Nor do they allow us to sit in government sponsored tent communities,” says Muhammad.

Across Punjab, it is those villages that have connections with feudal lords or politicians that have generally been able to gain access to government rations. As the Khana Padosh are among the most marginalized of communities, they do not fit into the network of patronage. Bashir Ahmed says that they received government relief only after they repeatedly pressured officials into giving them their rights.

What are other possibilities for communities that live on the katchi in the face recurring floods? Roots for Equity has called for equitable redistribution of land as the only just way to address the issue. Without access to safe and fertile lands, millions will continue to reside on the vulnerable lands of the katchi. The Pakistan Kisan Mazdoor Tehreek (Pakistan Peasant Workers Party or PKMT) also advocates sustainable agriculture in the riverine lands. This is a medium-term measure to avoid the indebtedness that has resulted in the increasing entrenchment of corporate influence into agriculture in Pakistan.

In a field south of Multan tehsil, villagers who are members of the PKMT are experimenting with sustainable forms of agriculture. They are using a diversity of traditional, rather than corporate, seeds. They do not use pesticides and chemical fertilizers. PKMT realizes that the corporatization of agriculture is leading to the impoverishment of peasants. Opposing corporations and pro-corporate laws, such as the recent Punjab Seed Act of 2013, is necessary, but not enough. They also believe in creating their own alternative economies that are based on food sovereignty. Efforts are being made by some villages on the katchi in the Kanwan Wali village to transition to more self-reliant forms of agriculture.

But what do historical pastoralists like the Khana Padosh do when agriculture is not their calling? Equitable redistribution of land and ending a land-water ownership regime based on private property are important aspects within any long-term solution to the massive floods that have impacted the most marginalized of Pakistan in recent years. And no genuine land reforms will be possible without the mobilization of peasants, pastoralists, and labour.

Children of the village of Kanwan Wali on the embankment.

Children of the village of Kanwan Wali on the embankment.

The socio-ecology of Punjab is shaped by the legacies of colonialism as well as ongoing feudalism, imperialism, and corporate agriculture. Colonialism introduced commercialized agriculture, whereby the landscape of western Punjab was transformed, moving away from inundated agriculture and nomadic pastoralism and towards irrigated agriculture. In this transforming landscape, nomadic pastoralists were increasingly marginalized and rendered criminal. In addition, those tribes and sub-castes that were loyal to the British, especially during the 1857 war of independence were given large landholdings. Marginal communities such as the Khana Padosh were made landless in a territory that was increasingly ruled by private property, where their nomadic way of life was being made extinct.

Millions of other landless people opt to lease cheap land or squat on the katchi. This is despite the fact that this is a zone of recurring flooding. Global warming has been attributed to the expansion of capitalism,4 most evident in the greenhouse gas emissions from industrialization. The wretched of the world, it seems, only experience the exploitation and oppression of capitalism, and now they are further forced to squat on the most vulnerable of lands. Ironically, in the case of the Punjab, it was these very lands that used to be considered “a basket of gold”, not so long ago.

Kasim Tirmizey is a doctoral candidate at the Faculty of Environmental Studies at York University. He is currently based in Lahore, Pakistan.

  1. Wilson, James. Grammar and dictionary of western Panjabi: as spoken in the Shahpur District : with proverbs, sayings & verses. (Sang-e-Meel Publications, 2005).
  2. Patnaik, Utsa. in The agrarian question in the neoliberal era: primitive accumulation and the peasantry 7–60 (Pambazuka Press, 2011).
  3. Sayeed, Azra Talat. Communities Impacted by Floods in Pakistan. Roots for Equity (2014). at <http://rootsforequity.noblogs.org/post/2014/09/20/communities-impacted-by-floods-in-pakistan-2014/>
  4. The connection between capitalism and climate change has been made in several places. More recently, Klein, Naomi. This Changes Everything: Capitalism vs. The Climate. Alfred A Knopf, 2014.

http://www.tanqeed.org/2014/11/in-the-belly-of-the-river/

Authorities get another chance to respond to plea against amended seed act

Justice Sayyed Mazhar Ali Akbar Naqvi of Lahore High Court on Friday expressed serious concerns over the failure of the authorities concerned to submit a reply on a petition challenging the Pakistan (Amended) Seed Act 2015.

The judge remarked, “It is shocking that local farmers’ future has been put in jeopardy,” adding that the amended law could endanger national food security by making the country dependant on multinationals for genetically-modified seeds.

The judge warned that the plant breeder’s rights registry would be restrained from operating if a response was not submitted in the matter by June 22.

At an earlier hearing, the court had directed the Punjab government to produce the resolution passed by the provincial assembly calling upon the Centre to pass a plant breeders’ rights bill. Notices were issued to the federal government in which it was asked to file para-wise comments to the petition filed by Human Voice, an non-government organisation, challenging the Pakistan Amended Seed Act, 2015 for being in violation of farmers’ fundamental rights and passed at the behest of US-based multinational seed manufacturing companies.

The orders were not complied with as neither the copy of the resolution nor parawise comments were submitted till Friday.

Petitioner’s counsel Sheraz Zaka had submitted that the impugned seed act was passed without the approval of the cabinet, and under article 144 of the Constitution the amendment made in seed act could not have been passed by the federal legislature as it is a provincial subject. He argued that the impugned act would deprive farmers of their traditional farming practices and was meant to accommodate the demands of multinational corporations which were harmful for the environment, anti-competitive, and a threat for the national economy.

Advocate Zaka contended that the Parliament could not pass a bill of such a nature in the absence of resolutions passed by provincial legislatures. He submitted that the scope of his petition was wide and required the attention of the court, keeping into consideration the fact that the federal government had ratified the convention on biological diversity but still not taken any measures to protect traditional breeding practices.

During earlier hearings, Zaka had said that under the impugned law, farmers would be fined and imprisoned for preserving, selling and exchanging seeds, a centuries-old tradition. He said that it would adversely affect the agriculture sector of the country.

Zaka emphasised that the impugned law had made it mandatory for farmers to buy seeds from a licensed company or its agent and they had to do so every time they cultivate a new crop. He stated that this restriction would make farmers dependent on companies.

He said that it would be a huge injustice towards the millions of small and landless farmers whose food insecurity would be aggravated. He submitted that conditions required under the impugned Act would lead to increase in prices of agricultural products and a food security threat in future was likely to happen.

The counsel said that the experience of growing genetically modified (GM) crops, like Bt cotton, had been disastrous in the country but the government still intended to promote GM crops through the law. He added that many European countries had already banned genetically modified crops because of their adverse impact on environment and Pakistan should follow suit.

Zaka requested the court to set aside the amended Seed Act for being unconstitutional.

Link: https://dailytimes.com.pk/251095/authorities-get-another-chance-to-respond-to-plea-against-amended-seed-act/

سامراجی تجارتی نظام کے خلاف، کسان مزدور اتحاد

پریس ریلیز

تاریخ: 6  مئی 2018

پاکستان کسان مزدور تحریک کا چھٹا سالانہ صوبائی اجلاس ماتلی، ضلع بدین میں منعقد کیا گیا جس میں صوبے بھر سے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صوبائی اجلاس کے اختتام کے بعد پی کے ایم ٹی اور روٹس فار ایکوٹی کی جانب سے ماتلی پریس کلب کے سامنے ملک میں جاری سامراجی پالیسیوں کے نتیجے میں جاری کارپوریٹ زراعت، زمینی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
پی کے ایم ٹی کے رہنماؤں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے عالمی سامراجی اداروں اور ممالک کی ایماء پر ملک میں مسلط کردہ زرعی و تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور بھوک، غربت، غذائی کمی، بیروزگاری کا شکار ہوکر زراعت چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ڈبلیو ٹی او کے ٹرپس جیسے معاہدوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے بیج کا ترمیمی قانون اور پلانٹ بریڈرز رائٹس جیسے قوانین کے نفاذ کے ذریعے کسانوں کو ان کے روایتی بیج سے محروم کرکے بین الاقوامی زرعی کمپنیوں کو ان کے استحصال کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ ملک میں غربت کے خاتمے اور پیداوار میں اضافے کے نام پر غیر پائیدار کیمیائی زراعت کا فروغ کسانوں کو مزید غربت میں دھکیل رہا ہے۔ غیر پائیدار طریقہ زراعت کے تحت زیادہ پیداوار حاصل ہونے کے باوجود کسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے جبکہ سارا منافع بیج اور دیگر مداخل بنانے والی دیوہیکل زرعی کمپنیوں کی جیب میں چلاجاتا ہے۔ ان ہی پالیسوں کے نتیجے میں کسان مقامی منڈی میں اپنی پیداوار فروخت کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ دوسری طرف غیر پائیدار کیمیائی طریقہ زراعت ناصرف ماحولیاتی اور غذائی نظام کو زہر آلود کررہا ہے بلکہ عوام میں بڑے پیمانے پر مختلف بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

پاکستان بھر میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور جو پہلے ہی جاگیرداری نظام کے ہاتھوں بدترین استحصال کا شکار ہیں اب ملک بھر میں نیولبرل پالیسیوں کے تحت کارپوریٹ فارمنگ، خصوصی اقتصادی زون، شاہراؤں کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بیدخل کیے جارہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور حطار، پنجاب میں ضلع راجن پور کے علاقے رکھ عظمت والا میں کئی دہائیوں سے آباد کسانوں کی زمین سے بیدخلی اس زمینی قبضے کی چند واضح مثالیں ہیں۔ ملک سے بھوک غربت اور غذائی کمی کا خاتمہ صرف اور صرف جاگیرداری نظام کا خاتمہ کرکے زمین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم سے ہی کیا جاسکتا ہے جو کسانوں کو خوراک کی خودمختاری اور غذائی تحفظ کا ضامن ہوسکتا ہے۔

پی کے ایم ٹی مطالبہ کرتی ہے کہ عالمی سامراجی نیولبرل پالیسیوں کا خاتمہ کرکے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور مرد و عورتوں میں زمین منصفانہ اور مساویانہ طور پر تقسیم کی جائے، زرعی شعبے سے بین الاقوامی زرعی کمپنیوں اور ڈبلیو ٹی او کاکردار ختم کیا جائے کیونکہ کسان کی خوراک کی خودمختاری ہی قومی غذائی تحفظ، پائیدار ترقی اور ملک سے بھوک و غربت کے خاتمے کی ضمانت ہوسکتی ہے۔ ملک بھر کے چھوٹے اور بے زمین کسانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ پیداواری وسائل خصوصاً زمین پر اپنے حق کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کو اپنا لائحہ عمل بنائیں۔
جاری کردہ : پاکستان کسان مزدور تحریک