ہفتہ وار زرعی خبریں

جولائی 5 تا 11 جولائی، 2018

کسان مزدور
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بدین جاوید احمد بلوچ نے جبری مشقت کے شکار 32 کسانوں کو آزاد کردیا ہے۔ کسانوں کو ایک روز قبل گل محمد تنگڑی ولیج کے نزدیک تلہار ٹاؤن میں نجی جیل سے بازیاب کرایا گیا۔ تلہار پولیس نے عدالت کے حکم پر کسانوں کو نجی جیل سے بازیاب کیا تھا۔ عدالت میں شیوا جی کولہی کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں اس کے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کو نجی جیل سے رہا کروانے کی اپیل کی گئی تھی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سالوں سے جاگیردار اس کے خاندان کو فصل سے حصہ نہیں دے رہا ہے اور وہ جب بھی اپنا حق مانگتے ہیں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
(ڈان، 11 جولائی، صفحہ19)

زراعت
محکمہ زراعت پنجاب نے کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ کپاس کی فصل میں جڑی بوٹیوں پر خصوصی توجہ دیں جو سفید مکھی، پتہ مروڑ بیماری اور ملی بگ کے حملے کی وجہ بنتی ہیں۔ کسانوں کے لیے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ بارش کے موسم میں اگر 48 گھنٹوں تک پانی کھیت میں کھڑا رہے تو کپاس کے پودے مرسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کپاس کی مجموعی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر پانی بڑی مقدار میں کھیت میں کھڑا ہے تو نقصان سے بچنے کے لیے اس پانی کو پمپ کے ذریعے دوسرے کھیت میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔ محکمے کے ترجمان نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ کپاس کو کیڑے مکوڑوں اور بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے وہ ہفتے میں دوبار اسپرے کریں۔
(بزنس ریکارڈر، 6 جولائی، صفحہ 13)

پھل سبزی
ملک میں باغبانی شعبے کی ترقی کے لیے تیار کئی گئی حکمت عملی ’’پاکستان ہورٹی کلچر ویژن 2030‘‘ کی کراچی میں تقریب رونمائی سات جولائی کو منعقد کی جائے گی۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس حکمت عملی کو اپناکر پھلوں اور سبزیوں کی برآمد کو آئندہ دوسالوں کے دوران ایک بلین ڈالر، اگلے پانچ سالوں کے دوران 3.5 بلین ڈالر اور دس سالوں میں چھ بلین ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ شعبہ باغبانی کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے دس سالہ حکمت عملی تمام شراکتداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد مکمل کی گئی ہے جسے عام انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بھی بھیجا جائیگا۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر وحید احمد کا کہنا ہے کہ ویژن 2030 نجی شعبے کی طرف سے جاری کی جانے والی پہلی جامع تحقیق ہے جس میں مقامی اور غیرملکی ماہرین کی تجاویز اور مشاورت شامل ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے باغبانی شعبے میں پھل اور سبزیوں کی پیداوار سے لیکر ان کی نقل و حمل اور برآمد تک تمام مراحل مزید جدید اور موثر بنائیں جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کی تیار کردہ یہ حکمت عملی اگلے دس سالوں میں غیرملکی سرمایہ کاری پاکستان لانے کا ذریعہ بنے گی جس سے دیگر شعبہ جات میں بھی غیرملکی سرمایہ کار راغب ہونگے۔
(بزنس ریکارڈر، 6 جولائی، صفحہ2)

چاول
پاکستان کی زرعی معیشت کو پانی کے بحران کی وجہ سے مشکل حالات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل پانی کا بحران کپاس کی بیجائی کا ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ بنا تھا اب اس بحران سے سندھ میں چاول کی بوائی ایک سے دو مہینے تاخیر کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے۔ چاول موسم گرما کی فصل ہے اور گرم موسم اس کی نشو نما کے لئے انتہائی مفید ہے۔ چاول کی بوائی میں تاخیرکی وجہ سے اس کی پیداوار اکتوبر و نومبر تک جاسکتی ہے جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں چاول کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ کے صدر عبدالمجید نظامانی کا کہنا ہے کہ چاول کی بوائی ایک سے دو ماہ تاخیر کا شکار ہوچکی ہے۔ موجودہ موسم کے چاول کی پیداوار پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ مستقبل کی صورتحال بارشوں کے وقت پر ہونے پر منحصر ہے۔ تاہم کچھ اندازوں کے مطابق چاول کی بیجائی میں تاخیر کی وجہ سے پیداوار 30 سے 40 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 8 جولائی، صفحہ13)

کپاس
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک اعلامیہ کے ذریعے 15 جولائی سے کپاس کی درآمد پر دی گئی چھوٹ ختم کردی ہے۔ حکومت نے رواں سال 8 جنوری سے کپاس کی درآمد پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس اور چار فیصد کسٹم ختم کردی تھی۔ مقامی کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کپاس کی درآمد پر یہ رعایت واپس لی گئی ہے۔
(ڈان، 6 جولائی، صفحہ10)

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے نگراں حکومت سے کپاس کی درآمد پر عائد محصولات ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ نائب چیئرمین اپٹما زاہد مظہر نے کپاس کی درآمد پر محصولات میں دی جانے رعایت کو ختم کرنے کے فیصلہ کو ٹیکسٹائل صنعت کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا ہے۔ انکا کہنا تھا مسلسل تین سالوں سے ملک میں کپاس کی پیداوار اس کی طلب 15 ملین گانٹھوں کے مقابلے کہیں کم ہے اور کپڑے کی صنعت اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے دیگر ممالک سے کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ اپٹما نے وزیراعظم ناصرالملک سے فوری طور پر کپاس کی درآمد پر عائد محصولات ختم کرکے ملک کی معیشت اور کپڑے کی برآمدی صنعت کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 10 جولائی، صفحہ7)

جنگلات
سینٹر سرتاج عزیز کی سربراہی میں ہونے والے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمی تبدیلی کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ سرسبز پاکستان پروگرام (گرین پاکستان پروگرام) کے تحت ملک میں فروری 2017 تا جون 2018 تک 27 ملین درخت لگائے گئے ہیں۔ چھ ملین درخت پنجاب میں، 2.68 ملین سندھ میں، 7.8 ملین خیبر پختونخوا، 0.7 ملین بلوچستان، 2.5 ملین گلگت بلتستان، 0.2 ملین اسلام آباد اور 0.5 ملین وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔ کمیٹی کے رکن سینیٹر سکندر میندھرو کا کہنا تھا کہ درخت لگانا کوئی مشکل ہدف نہیں ہے لیکن اس کی بڑھوتری تک حفاظت کرنا مشکل مرحلہ ہے۔ ضروری ہے کہ وزارت موسمی تبدیلی تین ماہ بعد ان درختوں کے حوالے سے رپورٹ کمیٹی میں جمع کرائے۔
(بزنس ریکارڈر، 5 جولائی، صفحہ3)

ایک مضمون کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ موجودہ رفتار سے جاری رہا تو اگلے 50 سالوں میں پاکستان میں جنگلات ختم ہوجائیں گے۔ جنگلات میں اضافہ عالمی حدت کے اثرات کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی زندگی کا لازمی جز ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگلات کی کٹائی ہمیں پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم کررہی ہے۔ زیارت و چترال میں بلوط، صنوبر اور چلغوزہ سمیت دنیا کے کچھ نایاب درخت تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں پائے جانے والے زیادہ تر جنگلات کم ہوگئے ہیں کیونکہ وہاں رہنے والی آبادی کے لیے توانائی کے حصول کا دوسرا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ بہت سے علاقے جو قیام پاکستان سے پہلے جنگل قرار دیئے گئے تھے اب ختم ہوچکے ہیں۔
(ایم ضیاالدین، بزنس ریکارڈر، 11جولائی، صفحہ20)

نکتہ نظر
اس ہفتے کی خبروں میں سرفہرست خبر سندھ کے ضلع بدین میں بے زمین کسان مزدوروں، جنہیں عام طور پر سندھ میں ’’ہاری‘‘ کہا جاتا ہے، کی نجی جیل سے بازیابی کی ہے۔ آئے دن جبری مشقت کے شکار ہاریوں کی نجی جیل سے عدالتی حکم پر پولیس کے ذریعے بازیابی کی خبر اخبارات کی زینت بنتی ہے۔ اس طرح کے واقعات کا (اخباری اطلاعات کے مطاق) افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک درخواست گزار عدالت میں اپیل کرتا ہے، عدالت متعلقہ تھانے کو ہاریوں کی بازیابی کا حکم دیتی ہے، عدالت میں پیشی کے بعد ہاریوں کو آزاد کردیا جاتا ہے لیکن پولیس کے ہاتھوں جاگیردار کی گرفتاری اور عدالت سے سزا کی کوئی ایک مثال سامنے نہیں آتی۔ کیا ملکی قوانین کے مطابق کسی کو جبراً قید رکھ کر اس سے مشقت کروانا جرم نہیں؟ اگر ہاں تو مجرم گرفتار کیو ں نہیں ہوتے اور کیفرکردار تک کیوں نہیں پہنچتے؟ ملک میں خصوصاً سندھ میں کسانوں میں بے زمینی، بھوک، غربت، جبری مشقت جاگیردارنہ نظام کی سفاکیت کو صاف ظاہر کرتی ہے جو ملکی آئین و قانون کی کھلے عام دھجیاں اڑا کربنیادی حقوق سلب کرنے اور کسانوں کا استحصال کرنے کے لیے ہر طرح سے آزاد ہے۔ ملک سے اس ناانصافی، ظلم اور بھوک و غربت کا خاتمہ صرف اور صرف پیداواری وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی ممکن ہے جس کے لیے ملک بھر کے استحصال کے شکار طبقات کو جاگیردار، سرمایہ دار، بدعنوان افسرشاہی کے خلاف یکجا ہوکر جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقوام عالم میں وہی قومیں سرخرو ہوئیں جنہوں نے اپنے حق کو پیچان کر اس کے حصول کے لیے جدوجہد و قربانی کو اپنا مقصد بنایا۔

U.S. threats stun world health agency

Opposition to Breast-Feeding Resolution by U.S. Stuns World Health Officials

By Andrew Jacobs

July 8, 2018

A resolution to encourage breast-feeding was expected to be approved quickly and easily by the hundreds of government delegates who gathered this spring in Geneva for the United Nations-affiliated World Health Assembly.

Based on decades of research, the resolution says that mother’s milk is healthiest for children and countries should strive to limit the inaccurate or misleading marketing of breast milk substitutes.

Then the United States delegation, embracing the interests of infant formula manufacturers, upended the deliberations.

[Read more about how the Trump administraton’s stance conflicts with existing medical advice.]

American officials sought to water down the resolution by removing language that called on governments to “protect, promote and support breast-feeding” and another passage that called on policymakers to restrict the promotion of food products that many experts say can have deleterious effects on young children.

When that failed, they turned to threats, according to diplomats and government officials who took part in the discussions. Ecuador, which had planned to introduce the measure, was the first to find itself in the cross hairs.

The Americans were blunt: If Ecuador refused to drop the resolution, Washington would unleash punishing trade measures and withdraw crucial military aid. The Ecuadorean government quickly acquiesced.

The showdown over the issue was recounted by more than a dozen participants from several countries, many of whom requested anonymity because they feared retaliation from the United States.

Health advocates scrambled to find another sponsor for the resolution, but at least a dozen countries, most of them poor nations in Africa and Latin America, backed off, citing fears of retaliation, according to officials from Uruguay, Mexico and the United States.

“We were astonished, appalled and also saddened,” said Patti Rundall, the policy director of the British advocacy group Baby Milk Action, who has attended meetings of the assembly, the decision-making body of the World Health Organization, since the late 1980s.

“What happened was tantamount to blackmail, with the U.S. holding the world hostage and trying to overturn nearly 40 years of consensus on the best way to protect infant and young child health,” she said.

In the end, the Americans’ efforts were mostly unsuccessful. It was the Russians who ultimately stepped in to introduce the measure — and the Americans did not threaten them.

The State Department declined to respond to questions, saying it could not discuss private diplomatic conversations. The Department of Health and Human Services, the lead agency in the effort to modify the resolution, explained the decision to contest the resolution’s wording but said H.H.S. was not involved in threatening Ecuador.

“The resolution as originally drafted placed unnecessary hurdles for mothers seeking to provide nutrition to their children,” an H.H.S. spokesman said in an email. “We recognize not all women are able to breast-feed for a variety of reasons. These women should have the choice and access to alternatives for the health of their babies, and not be stigmatized for the ways in which they are able to do so.” The spokesman asked to remain anonymous in order to speak more freely.

Although lobbyists from the baby food industry attended the meetings in Geneva, health advocates said they saw no direct evidence that they played a role in Washington’s strong-arm tactics. The $70 billion industry, which is dominated by a handful of American and European companies, has seen sales flatten in wealthy countries in recent years, as more women embrace breast-feeding. Over all, global sales are expected to rise by 4 percent in 2018, according to Euromonitor, with most of that growth occurring in developing nations.

The intensity of the administration’s opposition to the breast-feeding resolution stunned public health officials and foreign diplomats, who described it as a marked contrast to the Obama administration, which largely supported W.H.O.’s longstanding policy of encouraging breast-feeding.

During the deliberations, some American delegates even suggested the United States might cut its contribution to the W.H.O., several negotiators said. Washington is the single largest contributor to the health organization, providing $845 million, or roughly 15 percent of its budget, last year.

The confrontation was the latest example of the Trump administration siding with corporate interests on numerous public health and environmental issues.

In talks to renegotiate the North American Free Trade Agreement, the Americans have been pushing for language that would limit the ability of Canada, Mexico and the United States to put warning labels on junk food and sugary beverages, according to a draft of the proposal reviewed by The New York Times.

[Read more about the Trump administration’s stance on junk food warning labels during Nafta talks.]

During the same Geneva meeting where the breast-feeding resolution was debated, the United States succeeded in removing statements supporting soda taxes from a document that advises countries grappling with soaring rates of obesity.

The Americans also sought, unsuccessfully, to thwart a W.H.O. effortaimed at helping poor countries obtain access to lifesaving medicines. Washington, supporting the pharmaceutical industry, has long resisted calls to modify patent laws as a way of increasing drug availability in the developing world, but health advocates say the Trump administration has ratcheted up its opposition to such efforts.

The delegation’s actions in Geneva are in keeping with the tactics of an administration that has been upending alliances and long-established practices across a range of multilateral organizations, from the Paris climate accord to the Iran nuclear deal to Nafta.

Ilona Kickbusch, director of the Global Health Centre at the Graduate Institute of International and Development Studies in Geneva, said there was a growing fear that the Trump administration could cause lasting damage to international health institutions like the W.H.O. that have been vital in containing epidemics like Ebola and the rising death toll from diabetes and cardiovascular disease in the developing world.

“It’s making everyone very nervous, because if you can’t agree on health multilateralism, what kind of multilateralism can you agree on?” Ms. Kickbusch asked.

A Russian delegate said the decision to introduce the breast-feeding resolution was a matter of principle.

“We’re not trying to be a hero here, but we feel that it is wrong when a big country tries to push around some very small countries, especially on an issue that is really important for the rest of the world,” said the delegate, who asked not to be identified because he was not authorized to speak to the media.

He said the United States did not directly pressure Moscow to back away from the measure. Nevertheless, the American delegation sought to wear down the other participants through procedural maneuvers in a series of meetings that stretched on for two days, an unexpectedly long period.

In the end, the United States was largely unsuccessful. The final resolution preserved most of the original wording, though American negotiators did get language removed that called on the W.H.O. to provide technical support to member states seeking to halt “inappropriate promotion of foods for infants and young children.”

The United States also insisted that the words “evidence-based” accompany references to long-established initiatives that promote breast-feeding, which critics described as a ploy that could be used to undermine programs that provide parents with feeding advice and support.

Elisabeth Sterken, director of the Infant Feeding Action Coalition in Canada, said four decades of research have established the importance of breast milk, which provides essential nutrients as well as hormones and antibodies that protect newborns against infectious disease.

2016 study in The Lancet found that universal breast-feeding would prevent 800,000 child deaths a year across the globe and yield $300 billion in savings from reduced health care costs and improved economic outcomes for those reared on breast milk.

Scientists are loath to carry out double-blind studies that would provide one group with breast milk and another with breast milk substitutes. “This kind of ‘evidence-based’ research would be ethically and morally unacceptable,” Ms. Sterken said.

Abbott Laboratories, the Chicago-based company that is one of the biggest players in the $70 billion baby food market, declined to comment.

Nestlé, the Switzerland-based food giant with significant operations in the United States, sought to distance itself from the threats against Ecuador and said the company would continue to support the international code on the marketing of breast milk substitutes, which calls on governments to regulate the inappropriate promotion of such products and to encourage breast-feeding.

In addition to the trade threats, Todd C. Chapman, the United States ambassador to Ecuador, suggested in meetings with officials in Quito, the Ecuadorean capital, that the Trump administration might also retaliate by withdrawing the military assistance it has been providing in northern Ecuador, a region wracked by violence spilling across the border from Colombia, according to an Ecuadorean government official who took part in the meeting.

The United States Embassy in Quito declined to make Mr. Chapman available for an interview.

“We were shocked because we didn’t understand how such a small matter like breast-feeding could provoke such a dramatic response,” said the Ecuadorean official, who asked not to be identified because she was afraid of losing her job.

Wesley Tomaselli contributed reporting from Colombia.

https://www.nytimes.com/2018/07/08/health/world-health-breastfeeding-ecuador-trump.html

ہفتہ وار زرعی خبریں

جون 28 تا 4 جولائی، 2018

زمین
ایک خبر کے مطابق صوبہ پنجاب میں جنگلات کا رقبہ بڑھانے کے لیے ساؤتھ پنجاب فوریسٹ کمپنی نے تجارتی بنیادوں پر شجرکاری منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے سے ماحولیاتی فوائد کے علاوہ اگلے 20 سالوں کے دوران 20 بلین روپے آمدنی متوقع ہے۔ کمپنی کے سربراہ طاہر رشید نے زرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ کمپنی نے تجارتی بنیادوں پر شجرکاری پاکستان میں پہلی بار نجی سرکاری شراکتداری کے تحت متعارف کی ہے۔ منصوبے کے تحت حکومت نے جنگلات کی زمین نجی اور کاروباری شعبے کو تجارتی بنیادوں پر جنگلات قائم کرنے کے لیے فراہم کی ہے۔ اس منصوبے کو سرمایہ کاروں کی جانب سے جنوبی پنجاب میں 99,077 ایکڑ زمین کے لیے مختلف پیکششیں (پروپوزلز) جمع کروانے سے پہلے ہی متعلقہ محکموں سے منظوری مل چکی ہے۔ ساؤتھ پنجاب فاریسٹ کمپنی ایک سرکاری کمپنی ہے جس کا مقصد ہے کہ جنگلات میں اضافے اور پائیدار بنیادوں پر جنگلات کے تحفظ کے لیے سرکاری سرمایہ کاری کے ساتھ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 جون، صفحہ11)

زراعت
محکمہ زراعت پنجاب نے خریداری کا جدید کمپیوٹرائیزڈ نظام ’’ای پری کیورمنٹ سسٹم‘‘ کا آغاز کردیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ نظام پنجاب پری کیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین پر مکمل طور پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا اور جانچ کے عمل کو مزید موثر بنائے گا۔ محکمہ کے افسر شیخ افضل رضا کا کہنا ہے کہ پنجاب پری کیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ ان قوانین کی سمجھ بوجھ نہ ہونا اور عملدرآمد کے لیے صلاحیتوں کی کمی ہے۔ شیخ افضل نے دعوی کیا کہ استعمال میں آسان جدید اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے خریداری کے عمل میں دستاویزی طریقہ کار میں صرف ہونے والے 60 گھنٹے کا وقت کم ہوکر 30 منٹ رہ جائے گا۔ سیکریٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے امید کا ظہار کیا ہے کہ اس نظام سے سرکاری خریداری میں مالی منصوبہ بندی، شفافیت اور کارکردگی بہتر ہوگی۔
(ڈان، 4 جولائی، صفحہ2)

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حکام کے مطابق مون سون کی بارشیں گنا ، چاول اور کپاس سمیت خریف کی فصلوں پر مثبت اثرات مرتب کریں گی۔ اس کے علاوہ ان بارشوں سے آبی ذخائر کی سطح میں بھی اضافہ ہوگا۔ مون سون کی جاری بارشیں چاول کی فصل کے لئے بھی بہتر ہیں لیکن اگر یہ بارشیں مسلسل جاری رہیں تو چاول کی فصل پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ مسلسل بارشوں سے کپاس کی فصل پر بھی متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ بارشیں کپاس کی فصل میں کئی طرح کی بیماریوں کی وجہ بنتی ہیں۔ ملک میں کپاس کی بیجائی تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور چاول کی اس وقت جاری ہے ۔وفاقی زرعی کمیٹی (فیڈرل کمیٹی آن ایگری کلچر) نے خریف کے موسم 2018-19 کے لیے گنے کا 68.175 ملین ٹن، چاول کا سات ملین ٹن جبکہ کپاس کی 14.370 ملین گانٹھوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے۔
( بزنس ریکارڈر، 1 جولائی، صفحہ 20)

پانی
ترجمان انڈس ریور سسٹم اتھارٹی رانا خالد نے کہا ہے کہ اتھارٹی نے ایک اجلاس میں پانی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق دریا کا بہاؤ 23,100 ہوگیا ہے جس میں موجودہ بارشوں کے سلسلے کی وجہ سے مزید بہتری آنے کی توقع ہے۔ پنجاب کو پانی کی فراہمی 115,000کیوسک سے بڑھا کر 125,900کیوسک جبکہ سندھ کو 145,000کیوسک سے بڑھا کر 160,000 کیوسک کردی گئی ہے۔ اسی طرح بلوچستان کو فراہم کیا جانے والا پانی 14,000 کیوسک سے بڑھا کر 16,000 کیوسک کردیا گیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے حصے میں کوئی اضافہ کیے بغیر 3,100 کیوسک پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 4 جولائی، صفحہ 8)

کپاس 
محکمہ زراعت پنجاب نے کپاس کے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ فصل کو بارش کے پانی سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشیں کپاس کی فصل کے لئے فائدہ مند نہیں ہیں۔ بارش کے پانی کی وجہ سے جڑی بوٹیاں تیزی سے اگتی ہیں اور فصل کو کیڑوں سے بچانا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر بارش کا پانی 24 گھنٹے تک فصل میں کھڑا رہے تو کپاس کی فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر زیادہ پانی جمع ہو تو اسے دوسرے کھیت میں منتقل کردیں۔
(بزنس ریکارڈر، 30 جون، صفحہ 8)

غذائی کمی
محکمہ خوراک پنجاب ، نیشنل فورٹیفیکیشن الائنس اور عالمی غذائی پروگرام (ورلڈ فوڈ پروگرام) نے پنجاب میں غذائی کمی (مائیکرو نیوٹرینٹ ڈیفشنسی) کے سدباب کے لیے خوراک میں اضافی غذائیت شامل کرنے کی حکمت عملی (پنجاب فوڈ فورٹیفیکیشن اسٹریٹجی 2018) جاری کردی ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے اس حکمت عملی کی تیاری اور اسے جاری کرنے کے لئے مالی معاونت فراہم کی ہے۔ قومی غذائی سروے 2011 کے مطابق پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر کے 39 فیصد بچے عمر کے حساب سے نشونما میں کمی، 30 فیصد بچے وزن میں کمی اور 14 فیصد بچے جسمانی نشو نما میں کمی کا شکار ہیں۔
(بزنس ریکارڈر، 28 جون، صفحہ13)

ماحول
ایک خبرکے مطابق سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (SECMC) اور محکمہ جنگلات سندھ کے درمیان تھرپارکر خصوصا تھر بلاک II اور اس کے گردونواح میں بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے حوالے سے مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ معاہدے کے تحت محکمہ جنگلات درخت لگانے کے لیے کمپنی کو مسلسل تکنیکی مدد فراہم کرے گا اور سرسبز پاکستان منصوبے کے تحت کمپنی کو درختوں کی پنیری مفت فراہم کرے گا۔ محکمہ جنگلات کمپنی کی کھارے پانی سے چارے کی پیداوارکے لیے بھی مدد فراہم کرے گا۔ شجرکاری منصوبے کو درست سمت میں رکھنے اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے محکمہ جنگلات کے حکام مستقل بنیادوں پر تھرکول بلاک II کا دورہ بھی کریں گے۔
(بزنس ریکارڈر، 28 جون، صفحہ7)

نکتہ نظر
اس ہفتے سرفہرست خبر جنوبی پنجاب میں جنگلات کی زمین کے حوالے سے ہے۔ خبر کے مطابق 99,000 ایکڑ زمین پر تجارتی بنیادوں پر جنگلات قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت پنجاب جنگلات کی سرکاری زمین نجی تجارتی کمپنیوں کو دے گی۔ پنجاب حکومت کا یہ قدم اس کی کسان مزدور دشمن پالیسیوں کے نفاذ میں دن بہ دن شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ پنجاب حکومت اب تک صوبے کے مختلف زرخیز اضلاع میں خصوصی اقتصادی زونز اور توانائی منصوبوں کے قیام کے لیے بڑے بڑے زمینی رقبے مختص کرتی چلی آئی ہے اور اب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے دریائے سندھ کے ساتھ جنگلات کی زرخیز زمین اور دیگر قدرتی وسائل کو بھی تجارتی کمپنیوں کے حوالے کرنے پر کمربستہ ہے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع پہلے ہی نیم قبائلی جاگیرداری نظام میں شدید غربت، بھوک اور بیروزگاری جیسے مسائل کا شکار ہیں اس پہ مزید ستم یہ کہ حکومت جنگلات کی سرکاری زمین جس پر چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور گزشتہ کئی دہائیوں سے آباد ہیں، ان سے زمین چھین کر بڑے بڑے سرمایہ داروں کو منتقل کررہی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور میں رکھ عظمت والا کی ہے جہاں پنجاب حکومت تقریباً 3,500 ایکڑ زمین سے کسان آبادیوں کو بیدخل کررہی ہے۔ حکومت پنجاب کا یہ منافقانہ دہرا رویہ قابل مزمت و گرفت ہے کہ دوسری طرف یہی حکومت سرمایہ داروں اور غیرملکی غذائی کمپنیوں کے کاروباری مفادات کو تحفظ دینے کے لیے صوبے میں خوراک میں اضافی غذائی اجزا شامل کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے بجائے اس کے کہ بھوک اور غذائی کمی کی بنیادی وجہ بے زمینی کو ختم کرے۔ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ملک بھر کے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور جنگلات ہوں یا پہاڑ، زرعی زمین ہو یا پانی ہر طرح کے پیداواری وسائل پر اپنے اختیار کے لیے منظم ہوکر جدوجہد کریں کہ یہی رستہ انہیں خوشحالی اور آسودگی کی منزل کی طرف لے جاسکتا ہے۔

ہفتہ وار زرعی خبریں

جون 7 تا 13 جون، 2018

بیج
ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ زراعت پنجاب ڈاکٹر غضنفر علی خان نے بیج کے شعبے کے تمام شراکت داروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان کو کہا ہے کہ وہ اپنی تفصیلی سفارشات محکمے کو جمع کروائیں کہ آیا کس طرح بیج کی مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرکے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو یقینی بنا کر درآمدی بیج پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ گارڈ ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ سروسز کے سربراہ شہزاد علی ملک نے اجلاس میں تجویز دی ہے کہ محکمہ زراعت کو ان بیج کمپنیوں کے لیے مراعات کا اعلان کرنا چاہیے جو مختلف فصلوں کے بیجوں کی مقامی سطح پر پیداوار کررہی ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو بیج درآمد کرنے والی تمام کمپنیوں کو کہا جائے کہ وہ 20 سے 30 فیصد بیج ملک میں ہی کاشت کریں اور اس مقدار کو اگلے سات سے 10سالوں میں بتدریج سو فیصد کردیا جائے۔ جو کمپنیاں بیج کی پیداوار کا یہ ہدف پورا کرنے میں ناکام رہیں ان کے لیے بیج کی درآمد پر بھاری محصول عائد کیا جائے۔
(بزنس ریکارڈر، 13 جون، صفحہ20)

پانی
چیئرمین واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) مزمل حسین نے سینٹ کمیٹی کو تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو تباہ کن مستقبل سے محفوظ رکھنا ہے تو کاشتکاری کے طریقوں، پانی کے استعمال کے حوالے سے منصوبہ بندی، آبی ذخائر کی تعمیر اور سندھ طاس معاہدے کو اپنی جارہانہ خارجی پالیسی کا حصہ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ کالا باغ ڈیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مزمل حسین نے تجویز دی ہے کہ کالا باغ ڈیم کے انتظامی اختیارات سندھ کے سپر د کردئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو منصوبہ بندی کے دہائیوں پرانے فرسودہ، وقت طلب اور سست عمل سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں12 ملین ایکڑ فٹ پانی اس کے موثر استعمال کے ذریعے بچایا جاسکتا ہے۔
(ڈان، 7 جون، صفحہ1)

رواں سال جنوری تا مئی کے دوران ملک میں ناکافی بارشوں کی وجہ سے محکمہ موسمیات پاکستان نے خشک سالی کا انتباہ (وارننگ) جاری کردیا ہے۔ محکمہ نے اس صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو پانی کے انتظام کے حوالے سے حکمت عملی اپنانے کی سفارش کی ہے تاکہ بارشوں میں کمی کے زراعت پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کیا جاسکے۔ خشک سالی کی نگرانی کرنے والے قومی مرکز نیشنل ڈراؤٹ مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں خشک سالی جیسی صورتحال ہے۔ تاہم زیریں خیبر پختونخوا، پنجاب کے بارانی علاقے، جنوبی پنجاب، جنوب مغربی بلوچستان اور جنوب مشرقی سندھ میں درمیانی اور انتہائی درجے کی خشک سالی کا سامنا ہے۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 جون، صفحہ2)

ملک کے بالائی علاقوں میں درجہ حرار ت میں اضافہ کے بعد گزشتہ دو روز کے دوران دریاؤں کے بہاؤ میں واضح بہتری آئی ہے۔ پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ دریائے سندھ پر قائم تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 167,000 کیوسک ہے جس میں سے 100,000 کیوسک بجلی کی پیداوار اور صوبوں کی پانی کی ضروریات کے لیے جاری کیا جارہا ہے جبکہ 67,000 کیوسک پانی ڈیم میں ذخیرہ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح منگلا ڈیم میں 24,000 کیوسک پانی کے بہاؤ میں سے 20,000 کیوسک پانی بجلی کی پیداوار اور زراعت کے لیے جاری کیا جارہا ہے۔
(بزنس ریکارڈر، 12 جون، صفحہ5)

کپاس
پانی کی کمی اور موسمی تبدیلی کی وجہ سے ملک خصوصاً سندھ میں کپاس کی بوائی کا ہدف مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔ موجودہ صورتحال کپاس کی پیداوار مقررہ ہدف (14 ملین گانٹھ) سے کم ہونے کی وجہ بن سکتی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق یکم جون تک 2.31 ملین ہیکٹر رقبے پر کپاس کاشت کی گئی ہے جو مقررہ ہدف 2.95 ملین ہیکٹر کے مقابلے 22 فیصد کم ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین مختار احمد خان کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل میں بارشیں نہیں ہوئیں جو عموماً ہر سال ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہروں میں پانی کا بہاؤ نہیں ہے جس کی وجہ سے کسان کپاس کاشت نہیں کرسکے۔ اعداد وشمار کے مطابق سندھ میں اب تک کسانوں نے 0.62 ملین ہیکٹر رقبے پر کپاس کی کاشت کے ہدف کے مقابلے صرف 0.29 ملین رقبے (50 فیصد) پر بیجائی کی ہے۔ خبر کے مطابق سندھ میں جون کے اختتام تک بیجائی کا 80 سے 85 فیصد ہدف مکمل کرلیا جائیگا۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 جون، صفحہ13)

عالمی منڈی میں کپاس کی قیمت میں اضافے کے رجحان اور مقامی منڈی میں کپاس کی نئی فصل کی سست رفتار رسد کی وجہ سے کپاس اور پھٹی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کپاس اور پھٹی کی قیمت میں اضافہ کی اہم وجوہات میں عالمی منڈی میں قیمت میں اضافہ، گرم موسم سے فصل کو ہونیوالا نقصان، بجلی کی بندش، فصل کے لئے پانی کی عدم دستیابی، بھارتی تاجروں کی جانب سے کپاس کے درآمدی معاہدوں کی منسوخی اور پیداور کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔ خبر کے مطابق ٹنڈو باگو میں پھٹی کی قیمت 4,050 روپے، ٹھٹھہ میں 4,025 روپے، بدین میں 4,075 روپے اور کنری میں 4,025 روپے (فی من) ہے۔
(ڈان، 10 جون، صفحہ11)

سیلاب
خیبر پختونخوا میں چترال کی وادی بمبوریٹ میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے کئی گھر بہہ گئے جس سے تقریبا 100 افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ سیلاب سے بہہ کر آنے والی مٹی سے کئی ایکڑ پر گندم اور مکئی کی فصلیں اور باغات کو نقصان پہنچا ہے۔ علاقے میں انتباہی نظام کی وجہ سے لوگ پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے تھے جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
(ڈان، 11 جنوری، صفحہ7)

نکتہ نظر
سر فہرست خبر پنجاب میں بیج کی پیداوار کے حوالے سے ہے۔ خبر کے مطابق محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے درآمدی بیج پر انحصار کم کرنے کے لیے بیج کمپنیوں سے تجاویز طلب کی گئی ہیں کہ کس طرح ملک میں ہی بیج کی کاشت کو فروغ دیا جائے۔ بیج کا ترمیمی قانون اور پلانٹ بریڈرز رائٹس کا قانون منظور کرکے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بیج درآمد کرنے کے لیے ملکی اداروں کی جانب سے کھلی چھوٹ دینے کے بعد خودانحصاری کی دہائی دینا سراسر مضحکہ خیز ہے۔ زراعت کو کمپنیوں کے تیار کردہ بیج، زہر اور کھاد کا محتاج بنا کر، کسان سے بیج محفوظ کرنے، تبادلہ اور فروخت کرنے کا حق چھین کر کسی طور زرعی شعبے اور ملک کو خودانحصار نہیں بنایا جاسکتا۔ سیکریٹری زراعت شاید لاعلم ہیں کہ حکومت نے خود سرمایہ دار ممالک کی دیوہیکل بیج کمپنیوں کو قوانین میں ترمیم کرکے ملک میں مہنگے ہائبرڈ اور جینیاتی بیج فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ زرعی شعبے میں خود انحصاری اور خودمختاری کے لیے لازم ہے کہ کمپنیوں کا زرعی شعبے خصوصاً بیج کے شعبے میں کردار کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ بیج پر حق صرف کسان کا ہے اور اس حق سے انکار کرکے کسی طور ملک و قوم کو خودانحصاری اور خوراک کی خومختاری نہیں دی جاسکتی۔

Know your rights: ‘Government not showing efficiency in solving public issues’

Published: November 28, 2016

KARACHI: The government is not inefficient but they do not show their efficiency in matters related to public interest, said Azra Talat Sayeed, who is an activist and the executive director of Roots for Equity.

She was addressing the audience at a  discussion on ‘Food Justice and Farmers’ Rights’ held at The Second Floor on Sunday. Sayeed works for an organisation that fights for the rights of small and landless farmers, especially female farmers. The discussion focused on the increasing issue of agricultural change ever since the passing of the Seed (Amendment) Act, 2015 and Plant Breeders’ Rights Bill, 2016.

The majority of parliamentarians are landlords and the poor farmers are their slaves, Sayeed claimed, while accusing them of not standing up for the rights of these farmers. Recalling her first trip to a village when she got to hear stories of farmers and their families living there, Sayeed said it was difficult for her to believe that even though the farmers worked for 12 to 18 hours a day they still owed millions of rupees in loans.

“We have started looking for organic seeds, not scientifically grown ones,” said Sayeed, while referring to genetically modified (GM) seeds being replaced with organic seeds. It is hard to find even five varieties of wheat seeds in Pakistan, she added. Speaking about the issues that the farmers are facing since the bills have been passed, Sayeed said promoting GM seeds is the capitalist and corporate interest of the landlords.

Yasir Husain, who is an urban farmer and co-founder of Organic City, said he feels that Karachi is isolated from the rest of the country, with its people being indifferent to nature. He added that Karachiites have a concrete life and they live in that same bubble.

Talking about how people can be closer to nature, Husain said that every child should know how to grow plants. “Students should be taught in schools about kitchen gardening,” he said, adding that it is not necessary for one to have a garden to grow plants. Rooftops and galleries can also be used for planting purposes, he said.

“Seeds have changed and so has the variety,” said sociologist and Karti Dharti founder Nosheen Ali, while launching a report titled ‘Seed Inc: Food Sovereignty, Farmers’ Rights and New Legal Regimes in Pakistan’. While speaking about her time living abroad, Ali said she found the taste and colours of various fruits to be different compared to fruits here. With the ongoing hunger crisis that the world is facing and increasing use of GM seeds, we will face drastic changes, Ali said, adding that the government will never stand up for farmers’ rights.

“It is a common misunderstanding in the country that farmers are an impediment to the growth of the country because they are illiterate and the country can only grow economically with GM seeds,” she said, adding that such modified seeds will bring more misery in the farmers’ lives.

Ali was accompanied by Amna Tanweer Yazdani as the moderator of the session, who is an anthropologist and senior social scientist at Aga Khan University.

Published in The Express Tribune, November 29th, 2016.

https://tribune.com.pk/story/1247177/know-rights-government-not-showing-efficiency-solving-public-issues/

In the Belly of the River: Flooding the Landless

Nov 2014

The village of Kanwan Wali, a government sponsored tent community on an embankment vulnerable to flooding.

The village of Kanwan Wali, a government sponsored tent community on an embankment vulnerable to flooding. | Photography: Kasim Tirmizey

Kachchhi – sone di pachchhi.
Riverine land is a basket of gold.
– Punjabi proverb in the Shahpur District of Punjab1

Under a burning sun, the Khana Padosh tribe of the Moza Vehlan village in Multan tehsil make do with tattered and colorful patches of cloth and wooden sticks to construct their tents. After massive flooding inundated their village, constructed on katchi (riverine) lands, they have been forced to temporarily reside on a nearby band (embankment).

While the katchi lands are prone to flooding, the Khana Padosh say they have little choice but to live there. They would hardly describe the land they live on as a “basket of gold” as the old Punjabi proverb goes. The katchi was considered bountiful in the 19th century, when farming in western Punjab was done through inundated agriculture. It was a system that thrived on regular floodwaters making riverine lands fertile for agriculture. At that time, farmers would organize agrarian life according to the rhythms of floods. Other communities, such as the Khana Padosh, in this part of Punjab were nomadic pastoralists.

Western Punjab underwent massive transformation under British rule through the introduction of canal irrigation. This signalled the demise of inundated agriculture and nomadic pastoralism. The British were interested in increasing the agrarian frontier in order to provide cheap food2 in England and to gain greater land revenue through rent. In the new political economy, katchi lands were marginal and vulnerable territory.

The Khana Padosh tribe living on the embankment.

The Khana Padosh living on the embankment.

The Khana Padosh were historically a nomadic tribe that tended to livestock. The introduction of canal colonies interrupted that mode of life, however. The British considered many nomadic communities to be ‘criminal tribes’. That term, ‘criminal’, had less to do with the law, and more with the British government’s attempt to criminalize the entire nomadic pastoral way of life, seeing as it stood in opposition to their canal systems. The British demand to assimilate to a settler-farmer mode of life was, however, unconceivable for many nomadic tribes.

Today’s Khana Padosh tribe, like their forefathers, are technically landless. A local landowner has allowed the tribe to squat on a portion of the katchi land that he owns near the Chenab River for the sole purposes of temporary settlement.

Bashir Ahmed, of the Kanwan Wali village, is living temporarily on an embankment in a government sponsored tent community in Multan tehsil. Unlike the Khana Padosh, he and his fellow villagers work as sharecroppers on katchi land for a landowner. He explains why he and others live on the katchi: “Us, the poor, we don’t have any money or assets that [allow us to] live in the pakka [settled] areas. That is why we live in the center of the river. That is why we live in the katchi. We have to produce what we can so we can eat.”

Others from Bashir’s village commented that they live on the katchi because land there is cheaper to lease.

Azra Talat Sayeed, the director of the NGO Roots for Equity, which focuses on the political mobilization of peasant and labour communities, argues that the fundamental issue behind the impact of the floods is landlessness:

“Many thousands of these people live on the banks of various [rivers] which run the length and breadth of the country, only because Pakistan has failed to implement even the most rudimentary of land reforms, let alone a policy that would allow for a just equitable distribution of land. Feudal lords, who are fast changing into ‘corporate land lords,’ rule the country and millions of farmers are forced to eke out a very meagre earning by working as sharecroppers, agricultural workers or contract farmers. Others are forced to endanger their lives and livelihood by living in what could be called a ‘seasonal red zone’; no doubt global warming and ensuing climate change have exacerbated the situation.”3

Landless people and smallholders represent 92 percent of the population in present day Pakistan. For the rural poor, katchilands are the last resort for survival. While some nomadic tribes opted to settle in one area, have received small portions of land to practice agriculture on, the Khana Padosh tribe opted not to do so. The Khana Padosh do not have a history of agrarian life, nor do they engage in farming today. Farming has been a mode of life that requires an intense amount of apprenticeship and practice, and, most of all, access to land that is not vulnerable to severe inundation. The Khana Padosh say that they mostly continue to act as pastoralists, tending to livestock under contract with wealthy farmers. Others seek daily wages as labourers in the nearby city of Multan.

Communities across the katchi had a few days warning of the oncoming floods. These communities packed whatever houseware they could take with them, a few days worth of food, and headed towards the embankment.

Muhammad Ghulam with a basket that he made from wooden sticks to be sold in the market. This production continues in the embankment as means of livelihood.

Muhammad Ghulam with a basket that he made from wooden sticks to be sold in the market. This production continues in the embankment as means of livelihood.

“Our villages in the katchi have been totally inundated. Our homes have been destroyed,” Ghulam Muhammad of the Khana Padosh tribe told Tanqeed. “When we return to our village we will have to start from scratch. We don’t even have any food or tents. Things will worsen when the cold weather arrives and we are without proper shelter.”

While the government has been distributing basic rations and providing tents to some communities from the katchi, they have not given anything to the Khana Padosh.

“The government has not given us any rations. Nor do they allow us to sit in government sponsored tent communities,” says Muhammad.

Across Punjab, it is those villages that have connections with feudal lords or politicians that have generally been able to gain access to government rations. As the Khana Padosh are among the most marginalized of communities, they do not fit into the network of patronage. Bashir Ahmed says that they received government relief only after they repeatedly pressured officials into giving them their rights.

What are other possibilities for communities that live on the katchi in the face recurring floods? Roots for Equity has called for equitable redistribution of land as the only just way to address the issue. Without access to safe and fertile lands, millions will continue to reside on the vulnerable lands of the katchi. The Pakistan Kisan Mazdoor Tehreek (Pakistan Peasant Workers Party or PKMT) also advocates sustainable agriculture in the riverine lands. This is a medium-term measure to avoid the indebtedness that has resulted in the increasing entrenchment of corporate influence into agriculture in Pakistan.

In a field south of Multan tehsil, villagers who are members of the PKMT are experimenting with sustainable forms of agriculture. They are using a diversity of traditional, rather than corporate, seeds. They do not use pesticides and chemical fertilizers. PKMT realizes that the corporatization of agriculture is leading to the impoverishment of peasants. Opposing corporations and pro-corporate laws, such as the recent Punjab Seed Act of 2013, is necessary, but not enough. They also believe in creating their own alternative economies that are based on food sovereignty. Efforts are being made by some villages on the katchi in the Kanwan Wali village to transition to more self-reliant forms of agriculture.

But what do historical pastoralists like the Khana Padosh do when agriculture is not their calling? Equitable redistribution of land and ending a land-water ownership regime based on private property are important aspects within any long-term solution to the massive floods that have impacted the most marginalized of Pakistan in recent years. And no genuine land reforms will be possible without the mobilization of peasants, pastoralists, and labour.

Children of the village of Kanwan Wali on the embankment.

Children of the village of Kanwan Wali on the embankment.

The socio-ecology of Punjab is shaped by the legacies of colonialism as well as ongoing feudalism, imperialism, and corporate agriculture. Colonialism introduced commercialized agriculture, whereby the landscape of western Punjab was transformed, moving away from inundated agriculture and nomadic pastoralism and towards irrigated agriculture. In this transforming landscape, nomadic pastoralists were increasingly marginalized and rendered criminal. In addition, those tribes and sub-castes that were loyal to the British, especially during the 1857 war of independence were given large landholdings. Marginal communities such as the Khana Padosh were made landless in a territory that was increasingly ruled by private property, where their nomadic way of life was being made extinct.

Millions of other landless people opt to lease cheap land or squat on the katchi. This is despite the fact that this is a zone of recurring flooding. Global warming has been attributed to the expansion of capitalism,4 most evident in the greenhouse gas emissions from industrialization. The wretched of the world, it seems, only experience the exploitation and oppression of capitalism, and now they are further forced to squat on the most vulnerable of lands. Ironically, in the case of the Punjab, it was these very lands that used to be considered “a basket of gold”, not so long ago.

Kasim Tirmizey is a doctoral candidate at the Faculty of Environmental Studies at York University. He is currently based in Lahore, Pakistan.

  1. Wilson, James. Grammar and dictionary of western Panjabi: as spoken in the Shahpur District : with proverbs, sayings & verses. (Sang-e-Meel Publications, 2005).
  2. Patnaik, Utsa. in The agrarian question in the neoliberal era: primitive accumulation and the peasantry 7–60 (Pambazuka Press, 2011).
  3. Sayeed, Azra Talat. Communities Impacted by Floods in Pakistan. Roots for Equity (2014). at <http://rootsforequity.noblogs.org/post/2014/09/20/communities-impacted-by-floods-in-pakistan-2014/>
  4. The connection between capitalism and climate change has been made in several places. More recently, Klein, Naomi. This Changes Everything: Capitalism vs. The Climate. Alfred A Knopf, 2014.

http://www.tanqeed.org/2014/11/in-the-belly-of-the-river/

Authorities get another chance to respond to plea against amended seed act

Justice Sayyed Mazhar Ali Akbar Naqvi of Lahore High Court on Friday expressed serious concerns over the failure of the authorities concerned to submit a reply on a petition challenging the Pakistan (Amended) Seed Act 2015.

The judge remarked, “It is shocking that local farmers’ future has been put in jeopardy,” adding that the amended law could endanger national food security by making the country dependant on multinationals for genetically-modified seeds.

The judge warned that the plant breeder’s rights registry would be restrained from operating if a response was not submitted in the matter by June 22.

At an earlier hearing, the court had directed the Punjab government to produce the resolution passed by the provincial assembly calling upon the Centre to pass a plant breeders’ rights bill. Notices were issued to the federal government in which it was asked to file para-wise comments to the petition filed by Human Voice, an non-government organisation, challenging the Pakistan Amended Seed Act, 2015 for being in violation of farmers’ fundamental rights and passed at the behest of US-based multinational seed manufacturing companies.

The orders were not complied with as neither the copy of the resolution nor parawise comments were submitted till Friday.

Petitioner’s counsel Sheraz Zaka had submitted that the impugned seed act was passed without the approval of the cabinet, and under article 144 of the Constitution the amendment made in seed act could not have been passed by the federal legislature as it is a provincial subject. He argued that the impugned act would deprive farmers of their traditional farming practices and was meant to accommodate the demands of multinational corporations which were harmful for the environment, anti-competitive, and a threat for the national economy.

Advocate Zaka contended that the Parliament could not pass a bill of such a nature in the absence of resolutions passed by provincial legislatures. He submitted that the scope of his petition was wide and required the attention of the court, keeping into consideration the fact that the federal government had ratified the convention on biological diversity but still not taken any measures to protect traditional breeding practices.

During earlier hearings, Zaka had said that under the impugned law, farmers would be fined and imprisoned for preserving, selling and exchanging seeds, a centuries-old tradition. He said that it would adversely affect the agriculture sector of the country.

Zaka emphasised that the impugned law had made it mandatory for farmers to buy seeds from a licensed company or its agent and they had to do so every time they cultivate a new crop. He stated that this restriction would make farmers dependent on companies.

He said that it would be a huge injustice towards the millions of small and landless farmers whose food insecurity would be aggravated. He submitted that conditions required under the impugned Act would lead to increase in prices of agricultural products and a food security threat in future was likely to happen.

The counsel said that the experience of growing genetically modified (GM) crops, like Bt cotton, had been disastrous in the country but the government still intended to promote GM crops through the law. He added that many European countries had already banned genetically modified crops because of their adverse impact on environment and Pakistan should follow suit.

Zaka requested the court to set aside the amended Seed Act for being unconstitutional.

Link: https://dailytimes.com.pk/251095/authorities-get-another-chance-to-respond-to-plea-against-amended-seed-act/

سامراجی تجارتی نظام کے خلاف، کسان مزدور اتحاد

پریس ریلیز

تاریخ: 6  مئی 2018

پاکستان کسان مزدور تحریک کا چھٹا سالانہ صوبائی اجلاس ماتلی، ضلع بدین میں منعقد کیا گیا جس میں صوبے بھر سے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صوبائی اجلاس کے اختتام کے بعد پی کے ایم ٹی اور روٹس فار ایکوٹی کی جانب سے ماتلی پریس کلب کے سامنے ملک میں جاری سامراجی پالیسیوں کے نتیجے میں جاری کارپوریٹ زراعت، زمینی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
پی کے ایم ٹی کے رہنماؤں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے عالمی سامراجی اداروں اور ممالک کی ایماء پر ملک میں مسلط کردہ زرعی و تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور بھوک، غربت، غذائی کمی، بیروزگاری کا شکار ہوکر زراعت چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ڈبلیو ٹی او کے ٹرپس جیسے معاہدوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے بیج کا ترمیمی قانون اور پلانٹ بریڈرز رائٹس جیسے قوانین کے نفاذ کے ذریعے کسانوں کو ان کے روایتی بیج سے محروم کرکے بین الاقوامی زرعی کمپنیوں کو ان کے استحصال کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ ملک میں غربت کے خاتمے اور پیداوار میں اضافے کے نام پر غیر پائیدار کیمیائی زراعت کا فروغ کسانوں کو مزید غربت میں دھکیل رہا ہے۔ غیر پائیدار طریقہ زراعت کے تحت زیادہ پیداوار حاصل ہونے کے باوجود کسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے جبکہ سارا منافع بیج اور دیگر مداخل بنانے والی دیوہیکل زرعی کمپنیوں کی جیب میں چلاجاتا ہے۔ ان ہی پالیسوں کے نتیجے میں کسان مقامی منڈی میں اپنی پیداوار فروخت کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ دوسری طرف غیر پائیدار کیمیائی طریقہ زراعت ناصرف ماحولیاتی اور غذائی نظام کو زہر آلود کررہا ہے بلکہ عوام میں بڑے پیمانے پر مختلف بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

پاکستان بھر میں چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور جو پہلے ہی جاگیرداری نظام کے ہاتھوں بدترین استحصال کا شکار ہیں اب ملک بھر میں نیولبرل پالیسیوں کے تحت کارپوریٹ فارمنگ، خصوصی اقتصادی زون، شاہراؤں کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بیدخل کیے جارہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور حطار، پنجاب میں ضلع راجن پور کے علاقے رکھ عظمت والا میں کئی دہائیوں سے آباد کسانوں کی زمین سے بیدخلی اس زمینی قبضے کی چند واضح مثالیں ہیں۔ ملک سے بھوک غربت اور غذائی کمی کا خاتمہ صرف اور صرف جاگیرداری نظام کا خاتمہ کرکے زمین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم سے ہی کیا جاسکتا ہے جو کسانوں کو خوراک کی خودمختاری اور غذائی تحفظ کا ضامن ہوسکتا ہے۔

پی کے ایم ٹی مطالبہ کرتی ہے کہ عالمی سامراجی نیولبرل پالیسیوں کا خاتمہ کرکے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدور مرد و عورتوں میں زمین منصفانہ اور مساویانہ طور پر تقسیم کی جائے، زرعی شعبے سے بین الاقوامی زرعی کمپنیوں اور ڈبلیو ٹی او کاکردار ختم کیا جائے کیونکہ کسان کی خوراک کی خودمختاری ہی قومی غذائی تحفظ، پائیدار ترقی اور ملک سے بھوک و غربت کے خاتمے کی ضمانت ہوسکتی ہے۔ ملک بھر کے چھوٹے اور بے زمین کسانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ پیداواری وسائل خصوصاً زمین پر اپنے حق کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کو اپنا لائحہ عمل بنائیں۔
جاری کردہ : پاکستان کسان مزدور تحریک

یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن: مزدوروں جاگو اپنی تقدیر خود لکھو

پریس ریلیز

یکم مئی، 2018

مزدوروں کے عالمی دن یکم مئی کے موقع پر پاکستان کسان مزدور تحریک اور لیبر ویلفیئر سوسائٹی نے حطار، ہری پور، کے پی کے میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا۔ جس میں بڑی تعداد میں مزدوروں نے شرکت کی۔ یہ دن 1886 شکاگو کے مزدوروں کی جدوجہد کے تناظر میں منایا جاتا ہے کہ جب مزدوروں نے اپنے حقوق خصوصاًآٹھ گھنٹے کام کے اوقات مقرر کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

پی کے ایم ٹی کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی سرمایہ دار اداروں کی ایماء پر ملک کے قیمتی اثاثے کوڑیوں کے مول ملکی اور غیر ملکی سرمایہ داروں کو فروخت کررہی ہے جو مزدوروں میں بیروزگاری اور غربت و بھوک کی بنیادی وجہ ہے۔ حطار میں قائم مستحکم سیمنٹ فیکٹری ایک ایسی ہی مثال ہے جسے غیرملکی کمپنی کو فروخت کردیا گیا جس سے نا صرف فیکٹری کے مزدوروں کو ملنے والی مراعات ختم یا محدود کردی گئیں بلکہ نجی کمپنی کی جانب سے زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کے لیے پیداوار میں غیر پائیدار اضافے سے علاقے کا ماحولیاتی نظام بھی تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔

لیبر ویلفیئر سوسائٹی کے عہدیداروں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد مزدورں کی بہبود کا محکمہ صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گیا لیکن اب تک صوبائی حکومتوں کی جانب سے مزدور قوانین اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی ترتیب نہیں دی جاسکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے زیر انتظام مزدوروں کے بچوں کے لیے چلنے والے اسکولوں میں معیار تعلیم انتہائی ناقص ہے جہاں بچوں کی کامیابی کا تناسب انتہائی معمولی ہے۔ بورڈ فی بچہ 17,000 روپے خرچ کرتا ہے اس کے باوجود مزدوروں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ لیبر کالونیوں میں مزدوروں کو رہائشی کواٹر کے مالکانہ حقوق نہیں دیتا جبکہ ملک میں بقیہ تین صوبوں میں مزدورں کو رہائشی کواٹر کے مالکانہ حقوق دیے جاتے ہیں۔

مقریرین کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت ملک میں بڑے پیمانے پر خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر اور مختلف صنعتوں اور شاہراؤں کی تعمیر جاری ہے لیکن اب تک اس حوالے سے مزدوروں سے متعلق کوئی پالیسی واضح نہیں کی گئی کہ چینی سرمایہ کار کمپنیاں مقامی مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے کی پابند ہونگی، ان مزدوروں کے کام کے اوقات کار، اجرت اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی کیسے بنایا جائے گا۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے مزدوروں سے انتہائی کم اجرت پر آٹھ گھنٹے کے بجائے 12 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں صنعت ہو یازراعت یا ماہی گیری شعبہ تقریباً ہر شعبے میں مزدور نجکاری، ٹھیکیداری نظام، کم اجرت اور دیگر بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے غربت و بدحالی کا شکار ہیں۔

سرمایہ داروں کی ہر حکومت صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کے کالا دھن سفید کرنے، ٹیکس میں چھوٹ دینے، سرمایہ کاروں کو مفت زمین فراہم کرنے، انہیں زرتلافی اور دیگر مراعات دینے کے لیے قانون سازی کرتی ہے اور ان قوانین پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے لیکن بات جب مزدوروں اور دیگر پسے ہوئے طبقات کی ہو تو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید قانون سازی تو دور پہلے سے موجود قوانین پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ ملک بھر کے محنت کشوں کو اس استحصال سے نجات اور اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ظالم سرمایہ دار طبقہ کبھی بھی مزدوروں کے حقوق دیگا۔

پی کے ایم ٹی اور لیبر ویلفیئر سوسائٹی مطالبہ کرتی ہے کہ نجکاری، ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے، عارضی مزدوروں مستقل کیا جائے، مزدوروں کی کم سے کم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر مقرر کی جائے، مزدور عورتوں کو مردوں کے برابر اجرت دی جائے، مزدور آبادیوں میں معیاری تعلیم، آلودگی سے پاک ماحول اور باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔ مزدوروں کے لیے پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کا کام کی جگہ پر معقول بندوبست کیا جائے۔ تمام مزدوروں کی سوشل سیکورٹی اور ای او بی آئی کے ساتھ رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے۔ مزدوروں کو لیبر کانوینز میں رہائشی کوارٹرز کے مانکانہ حقوق دئیے جائیں۔مزدوروں کی بچیوں کے لیے جہیزگرانٹ سالوں سے بندہے فوری بحال کی جائے۔
جاری کردہ : پاکستان کسان مزدور تحریک اور لیبر ویلفیئر سوسائٹی

29 March, Day of the Landless

Press Release

29 March 2018

The Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) and Roots for Equity in collaboration with the Asian Peasant Coalition (APC) and the other Asian organizations have marked the Day of Landless under the theme “Peasants of the world: intensify our struggle for Land and Life!”

The Day of the Landless is observed globally to highlight the struggle of farmers for land and other natural resources as they have been forcefully evicted from their land, despite the fact that they have inhabited these lands for generations’. The numbers of countries including Pakistan, India, Bangladesh, Sri Lanka, Nepal, Mongolia, Cambodia, Malaysia, Philippine, Thailand, and Indonesia have held various events to mark this day.

PKMT has lodged a protest against the pervasive land grabbing and landlessness in Pakistan on the day of landless at the Hyderabad Press Club, Hyderabad, in which the small and landless farmers from different districts of the province have participated. The PKMT Sindh Coordinator, Ali Nawaz Jalbani spoke on this event emphasizing the invaluable contribution of farmers to our communities. He pointed out that small and landless farmers not only provide food to the people through their hard work but are also responsible for export of agricultural products that yields valuable foreign exchange. But even in spite of them feeding the country, they suffer from severe malnutrition, hunger and poverty; no doubt this condition is a result of massive landlessness among farmers. In Pakistan, feudal lords, the elite and rich farmers own 45 percent of agriculture land. This is the critical reason that a country that which has high food product, tragically still comes on top when it comes to infant death statistics.

Allahdino, a PKMT member pointed out that “We the landless farmers are forced off land, evicted from our villages, losing our livelihood, and community forced to work as wage labor in towns and cities under inhuman conditions. With no food grains, every-day hunger is the mode of the day. Contract farming is on the rise, where farmers are being forced to work as part of an assembly line, producing at the behest of agro-chemical corporations who produce not food but profitable items such as sugar cane, livestock fodder, and agro fuels.

According to Sony Bheel, patriarchy is a hard cruel reality. Women, have very few rights, and as agricultural women workers these women face intense structural poverty. They country’s food security in the forms of grains or vegetables, dairy or livestock production is absolutely not possible without rural women’s hard physical labor. However, women a major part of the landless are not even recognized as farmers and face exploitation at the hand of both capitalists and feudal lords. The increasing chemical intensive agriculture is responsible for not only destroying biodiversity but also intoxicating the food chain system which impacts women and girl children immensely. It is because women and girls work the most in cash crop harvesting be it cotton or maize or vegetable picking. Hence the landless, especially women landless suffer the most from multiple forms of exploitations, discriminations and oppressions.

The members of PKMT from Ghotki and Badin, Mohammad Sharif and Mohammad Ramzan said that in Pakistan, farmers are facing oppression and deprivation due to neoliberal policies of capitalist countries, unfair land policies and corporate agriculture. In the name of development and innovation; motorways, Special Economic Zones, energy and other projects are being established, all which are forcing land evictions, depriving farmers of their land and livelihood.

There are many such examples: In Hattar, Haripur, KPK, more than a 1000 acre of land has been allotted for the extension of Special Economic Zone, and in Peshawar the construction of Northern bypass project. In Punjab, 6,500 acres of land is being provided to foreign seed companies. In Rajanpur district, the Government of Punjab is promoting forest cultivation for trade through public private partnership; inevitably farmers are being evicted, others forced into contract farming with corporations. In Khairpur, Sindh, 140 acres of land has been used for Special Economic Zone. These are the clear examples of the oppression present due to land grabs and exploitations faced by the small and landless farmers in the country.

Saleem Kumar, the Tando Mohammad Khan, Coordinator, PKMT stressed the point that instead of distributing land to farmers, the government is promoting foreign investors, allocating land to the corporate sector, steps that further erode the sovereignty, well-being and prosperity of the people of Pakistan.

Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek has made food sovereignty its critical most demand with right to land resonating as the loudest call for gaining social and economic justice.

PKMT’s struggle against imperialist globalization and feudalism challenges land grabbing, corporate agriculture and the whole realm of neoliberal policies that are strangulating farmers lives and livelihood; In essence PKMT demands equitable distribution of land among women and men farmers, the most critical base for ending hunger, poverty and malnutrition in the country.

There is no doubt without Land there is NO Life!

Released by: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) & Roots for Equity

Urdu Press Release

land less day PR 29,march 2018 urdu