دسمبر 2019

دسمبر 26، 2019 تا 1 جنوری، 2020

زراعت

تھرپارکر، میرپورخاص اور بدین اضلاع میں ایک بار پھر ٹڈی دل نے کھیتوں ، درختوں اور سبزے پر حملہ کردیا ہے ۔ ٹڈی دلوں نے مٹھی، ڈیپلو اور کالوئی تعلقوں کے بڑے علاقے پر حملہ کیا ہے ۔ کسان بے یار و مددگار درختوں اور کھڑی فصلوں کو برباد ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ ٹڈی دل جھاڑیاں اور گھاس بھی کھا رہے ہیں جو مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے ۔ ضلع بدین میں مقامی لوگوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ٹڈی دل نے ٹنڈو باگو، پنگریو، کھوسکی، ملکانی شریف اور ضلع کے دیگر علاقوں میں کھڑی فصلوں کو نشانہ بنایا ہے ۔

(ڈان، 28 دسمبر، صفحہ15)

ایک خبر کے مطابق مالی سال 2019-20 میں زرعی بڑھوتری کا 3;46;5 فیصد کا مقرر کردہ ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اہم فصلوں بشمول کپاس، گنا اور گندم کی بوائی کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا ہے ۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے افسر کے مطابق اہم فصلوں کی بوائی کا ہدف حاصل نہ ہونے کی وجہ پانی کی کمی، زیر کاشت رقبے میں کمی، موسمی اثرات، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ہے جو مجموعی پیداوار پر اثرانداز ہوگی ۔ ملک میں کپاس کی بوائی ہدف سے چھ فیصد کم ہوئی ۔ اسی طرح گنے کی کاشت بھی سال 2019-20 میں 3;46;8 فیصد کم ہوکر 67;46;17 ملین ٹن سے 64;46;77 ملین ٹن ہوگئی ہے ۔ وفاقی زرعی کمیٹی نے سال 2019-20 میں 9;46;2 ملین ہیکٹر رقبے پر 27;46;03 ملین ٹن گندم کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا تھا ۔ صوبائی حکومتوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق 90 فیصد گندم کی بوائی ہوچکی ہے ۔ سال 2019-20 میں مکئی 1;46;386 ملین ہیکٹر رقبے پر کاشت کیا گیا جس سے 6;46;93 ملین ٹن پیداوار ہوئی ۔ مکئی کی پیداوار میں اضافے کی شرح 1;46;53 فیصد ہے ۔

(بزنس ریکارڈر، 30 دسمبر، صفحہ1)

حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ ایکسپو سینٹر میں کسانوں کے لئے ہفتہ میں دو بار عارضی بازار قائم کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے تاکہ کسان اپنی پیداوار براہ راست صارفین کو فروخت کرسکیں ۔ کمشنر حیدرآباد عباس بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صارفین کے لئے بھی بہت حد تک مددگار ثابت ہوگا اور ناصرف کسان اپنی سبزیاں فروخت کرسکیں گے بلکہ دستکار اپنی تیار اشیاء بھی فروخت کرسکیں گے ۔

(ڈان، 31 دسمبر، صفحہ17)

زمین

پنجاب حکومت نے صوبے میں صنعتی علاقے قائم کرنے کے لیے زمین حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے نئی پالیسی تیار کرنے کے لیے محکمہ صنعت کو منظوری دی ہے ۔ محکمے نے پنجاب حکومت کو لکھا تھا کہ صنعتی علاقوں میں زمین کی عدم دستیابی نئے صنعتکاروں کو زمین دینے میں مشکلات کا باعث بن رہی ہے ۔ لہذا اس کے لیے ایک نئی پالیسی کی ضرورت ہے جو مقاصد پورے کرتی ہو اور نئی ملازمتیں پیدا کرے ۔

(بزنس ریکارڈر، 26 دسمبر، صفحہ8)

بیج

پنجاب سیڈ کونسل نے اپنے 53 ویں اجلاس میں زیتون کی نو اقسام اور ایف ایچ ۔ 444 نامی جینیاتی کپاس کی ایک قسم کی منظوری دیدی ہے ۔ وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگریال کی زیرصدارت اس اجلاس میں 25 نئی اقسام متعارف کروائی گئیں ۔ وزیر زراعت کا کہنا ہے کہ پنجاب سیڈ کونسل نے یہ اجلاس وزیر اعظم کے زرعی ہنگامی پروگرام کی مناسبت سے منعقد کیا جس کا مقصد نئی اقسام متعارف کروانا ہے جو شدید موسمی حالات اور بیماریوں کے خلاف مظبوط مدافعت رکھتی ہوں ۔

(بزنس ریکارڈر، 27 دسمبر، صفحہ16)

کھاد

حکومت کسانوں کو براہ راست زرتلافی فراہم کرنے اور اضافی آمدنی کے حصول کے لیے مقامی منڈی میں کھاد کی قیمت کو بین الاقوامی منڈی کے برابر لانے کے ایک منصوبہ پر کام کررہی ہے ۔ ذرءع کا کہنا ہے کہ کھاد کی قیمتوں پر مذاکرات کرنے کے لیے تشکیل دی گئی وزراء کی ایک کمیٹی نے مقامی کھاد کی صنعت سے ایک تجویز پر بات چیت کی ہے ۔ کمیٹی ارکان نے کھاد کی قیمت بین الاقوامی منڈی کے برابر لانے کے لیے کھاد کی صنعت کے لیے گیس کی قیمت عالمی منڈی میں گیس کی قیمت کے برابر لانے کی سفارش کی ہے ۔ وزراء کمیٹی میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار کے ہمراہ وزیر منصوبہ بندی ترقی اسد عمر بھی شامل تھے ۔

(دی ایکسپریس ٹربیون، 27 دسمبر، صفحہ20)

کسان مزدور

ایشیا پیسیفک فورم آن وومن، لاء اینڈ ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے سندھ کمیونٹی فاوَنڈیشن کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک ورک شاپ میں شرکاء کا کہنا تھا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت کپاس چننے والی عورتوں کی صحت اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کررہا ہے جنہیں شدید گرمی کی وجہ سے کھیتوں میں کام کا دورانیہ کم کرنا پڑتا ہے ۔ ان عورتوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہوتی ۔ انہیں کام کے دوران وقفہ نہیں ملتا اور یہ عورتیں لو لگنے، جسم میں پانی کی کمی سے متاثر ہوتی ہیں ۔ ورکشاپ میں ضلع مٹیاری کے تین دیہات کی کپاس چننے والی عورتوں نے بھی ورکشاپ میں شرکت کی ۔ گاؤں یامین اپن سے تعلق رکھنے والی کسان مزدور عورت مومل کا کہنا تھا کہ ایک دہائی پہلے تک وہ دن میں ایک من کپاس چن لیتی تھیں لیکن اب کھیتوں میں درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے وہ 20 سے 30 کلو کپاس کی چنائی کرپاتی ہیں ۔ کپاس چننے والی عورتوں کا کہنا تھا کہ کپاس کی فصل پر نئے قسم کے کیڑے بھی ظاہر ہوتے ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے ۔

(ڈان، 28 دسمبر، صفحہ15)

پولیس نے بدین میں راجو خانانی ٹاوَن کے نزدیک گاؤں محمد جمن نائیون میں نجی جیل پر چھاپہ مار کے جاگیردار کی قید سے 34 ہاریوں کو آزاد کرالیا ۔ پولیس نے ڈسٹرکٹ و سیشن کورٹ بدین کے حکم پر یہ کارروائی کی جسے چند روز قبل ایسان کولہی اور اس کی اہلیہ گڈی کی طرف سے ایک درخواست موصول ہوئی تھی ۔ درخواست گزار نے فہیم احمد میمن نامی شخص کے زیر انتظام نجی جیل سے اپنے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا ۔ جبری مشقت کے شکار 34 ہاریوں میں 24 بچے اور پانچ عورتیں شامل تھیں ۔ تمام ہاریوں کو عدالت میں پیش کیا گیا جنہیں عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا ۔

(ڈان، 31 دسمبر، صفحہ17)

گندم

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن، بلوچستان کے صدر صالح آغا نے صوبائی محکمہ خوراک پر بلوچستان میں گندم کا بحران پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس سے 100 کلو آٹے کی قیمت 5,500 روپے ہوگئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ و پنجاب گندم کی غیرقانونی برآمد (اسمگلنگ) کی سرپرستی کررہے ہیں جو بلوچستان میں مصنوعی گندم کے بحران کی وجہ ہے ۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے بلوچستان میں گندم کی قیمت زیادہ ہے ۔ بلوچستان حکومت کی ناقص پالیسیوں کی بدولت آدھی سے زیادہ آٹا ملیں بند ہوگئی ہیں ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 30 دسمبر، صفحہ7)

گنا

ضلع میرپورخاص، سندھ کی شوگر ملوں نے دو ہفتوں کی بندش کے بعد گنے کی کرشنگ دوبارہ شروع کردی ہے ۔ ذراءع کے مطابق شوگر ملوں نے گنے کی ترسیل میں کمی کی وجہ سے کرشنگ روک دی تھی ۔ لیکن اب کسانوں کی جانب سے گنے کی بہتر فراہمی کے بعد کرشنگ دوبارہ شروع کی گئی ہے ۔ ملوں کی جانب سے کسانوں کو کہا گیا ہے کہ وہ گنے کی کٹائی کریں اور ملوں تک پہنچائیں ۔ سندھ آباد گار اتحاد کے ضلعی صدر چوہدری سیف ا;203; گل کے مطابق یہ کسانوں کے لیے اچھی خبر ہے کیونکہ کسان اس وقت مالی بحران کا شکار تھے یہاں تک کہ وہ گندم کی فصل کے لیے کیمیائی کھاد بھی نہیں خرید سکتے تھے ۔

(ڈان، 29 دسمبر، صفحہ17)

پنجاب میں کچھ ملوں نے بظاہر قیمت کے تنازع پر گنے کی خریداری روک دی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق فیصل آباد ڈویژن میں چار ملوں نے کرشنگ شروع کرنے کے بعد اب معطل کردی اور ان ملوں کے باہر گنے سے لدی ٹرالیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔ ٹھنڈیانوالہ روڈ پر شوگر مل پر گنا لانے والے ایک کاشتکار کا دعوی ہے کہ ملوں کی انتظامیہ کم قیمت پر گنا فروخت کرنے کے لیے دباوَ ڈال رہی ہے ۔ ملوں نے پہلے ہی دو ہفتوں کی تاخیر سے کرشنگ شروع کی ہے، کرشنگ روکنے کا مقصد کسانوں کو سرکاری قیمت سے کم قیمت پر گنا فروخت کرنے کے لیے مجبور کرنا ہے ۔

(ڈان، 30 دسمبر، صفحہ2)

پنجاب میں گنے کی کرشنگ کا بحران شدت اختیار کررہا ہے ۔ 26 شوگر ملوں نے گنے کی زیادہ قیمت اور چینی کی کم قیمت کے پیش نظر کرشنگ دوبارہ شروع کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے ۔ ایک شراکت دار کا کہنا ہے کہ ’’حکومت چاہتی ہے کہ چینی خوردہ منڈی میں 70روپے فی کلو سے زیادہ قیمت پر فروخت نہ ہو ۔ جبکہ گنے کی قیمت 240 سے 260 روپے فی من ہو‘‘ ۔ احتجاجاً کرشنگ روکنے والی ملوں کا موقف ہے کہ 240 سے 260 روپے فی من خریدے گئے گنے سے تیار کی گئی چینی کی قیمت بشمول محصولات 82 سے 83 روپے فی کلو بنتی ہے تو پھر کس طرح چینی 70 روپے فی کلو فروخت ہوسکتی ہے ۔ اس سلسلے میں ملوں کے نمائندوں اور سیکریٹری خوراک پنجاب کے درمیان اجلاس میں مختلف مسائل پر بات کی گئی ہے ۔

(بزنس ریکارڈر، 1 جنوری، صفحہ5)

کپاس

وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق مخدوم خسرو بختیار کی صدارت میں کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی نے 12 ملین گانٹھوں کے پیداواری ہدف کے مقابلہ اس سال 9;46;45 ملین گانٹھیں کپاس کی پیداور کا تخمینہ لگایا ہے ۔ کپاس کمشنر ڈاکٹر عبداللہ نے کمیٹی میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار 6;46;67 ملین گانٹھوں تک پہنچنے کا امکان ہے ۔ جبکہ سندھ میں 2;46;68 ملین گانٹھوں کی پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ بلوچستان میں کپاس کی پیداوار کا تخمینہ 0;46;098 ملین گانٹھیں لگایا گیا ہے ۔

(ڈان، 28 دسمبر، صفحہ9)

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کپڑے کی صنعت کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لئے کپاس کی درآمدات پر عائد تمام محصولات ختم کردیے ہیں اور وسط ایشیائی ریاستوں اور افغانستان سے طورخم سرحد کے ذریعے کپاس درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔ وزر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا جس پر اطلاق 15 جنوری 2020 سے ہوگا ۔ کپاس کی طلب و رسد میں فرق ختم کرنے کے لیے کامرس ڈویژن نے کپاس کی بلا محصول درآمد کی سفارش کی تھی ۔

(ڈان، 31 دسمبر، صفحہ1)

غربت

حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ’’احساس کفالت پروگرام‘‘ کے ذریعے سہماہی نقد امداد وصول کرنے والے 4;46;3 ملین افراد کی امداد 5,000 روپے سے بڑھا کر 5,500 روپے کردی ہے ۔ بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اس اضافے کا مطلب ہے کہ حکومت 8;46;6 بلین روپے اضافی ادا کرے گی ۔ بی آئی ایس پی سے 0;46;82 ملین ’’غیر مستحق‘‘ افراد کے اخراج کے بعد پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی تعداد اب 4;46;27 ملین رہ گئی ہے ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 29 دسمبر، صفحہ2)

مظفر گڑھ، پنجاب سے تقریباً 200,000 عورتیں 2008 سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ ان میں سے سینکڑوں عورتوں نے بی آئی ایس پی کے ضلعی دفتر میں شکایت درج کروائی ہے کہ ان کے کارڈ منسوخ ہوگئے ہیں ۔ ان عورتوں کا کہنا ہے کہ وہ اس دفعہ اپنے کارڈ سے رقم وصول نہیں کرسکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا نام فہرست سے نکال دیا گیا ہے ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر بی آئی ایس پی مہر محمد آصف کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 145,000 کارڈ منسوخ کئے گئے ہیں ۔ تاہم کسی ضلعی دفتر کو فہرست سے خارج کیے گئے ناموں کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں جو عورتیں اپنے کارڈ منسوخ ہونے کی شکایت کررہی ہیں وہ مستحق ہیں اور خط غربت سے نیچے ہیں ۔ جو لوگ اس امداد کے مستحق نہیں ہیں وہ شاید اپنی شناخت چھپانے کے لیے دفتر سے رابطہ نہ کرتے ۔ بی آئی ایس پی نے حال ہی میں 800,000 افراد کو اپنی فہرست سے خارج کیا ہے ۔

(ڈان، 31 دسمبر، صفحہ6)

پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے سربراہ قاضی عظمت عیسیٰ نے زراءع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ غربت کے خاتمہ کے پروگرام ’’احساس‘‘ کے تحت تحریک انصاف کی حکومت کاروبار شروع کرنے کے لئے ہر ماہ 80,000 افراد کو چھوٹے پیمانے پر بلا سود قرضہ فراہم کررہی ہے ۔ تاہم ملک میں (39 فیصد) خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے تقریبا 60 سے 70 ملین افراد کی زندگیوں کو بہتر کرنے کے لئے کہیں زیادہ وسائل کی ضرورت ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ غربت سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل کی ضرورت اور دستیاب وسائل بہت کم ہیں ۔

(دی ایکسپریس ٹربیون، 31 دسمبر، صفحہ13)

وفاقی حکومت جنوری کے پہلے ہفتے میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے زریعے عوام کو آٹا، چاول، تیل اور دالوں جیسی لازمی غذائی اشیاء کی مناسب قیمت پر فراہمی کے لیے چھ بلین روپے کا زرتلافی منصوبہ شروع کرے گی ۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جس میں نئے سال کے لیے ترجیحات پر تفصیلی بحث کی گئی ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 1 جنوری، صفحہ1)

ماحول

ہوبارا بسٹرڈ کمیشن کی جانب سے منظور کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پچھلے تین سالوں (2017-2019) کے دوران تلور کی آبادی میں کمی ہوئی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں تلور کا شکار پائیدار بنیادوں پر نہیں ہوتا ہے ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 2017 میں قائم کیے گئے اس کمیشن کو ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ سروے کرکے یہ تجزیہ کرے کہ آیا تلور کا شکار پائیدار بنیادوں پر ہورہا ہے ۔ تلور کی آبادی کا اندازہ لگانے کے لیے پنجاب کے تین مقامات سے اعداد وشمار جمع کیے گئے ۔ سروے کے مطابق دسمبر 2017 میں تلور کی آبادی 6,223، دسمبر 2018 میں 6,759 جبکہ دسمبر 2019 میں 5,302 رہی جس سے ان کی آبادی میں کمی کا اندازہ ہوتا ہے ۔

(ڈان، 29 دسمبر، صفحہ14)

موسمی تبدیلی

ایک خبر کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ارکان یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ پاکستان میں ہرسال موسمی تبدیلی سے بلواسطہ یا بلاواسطہ 128,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں ۔ ایڈیشنل سیکریٹری وزارت موسمی تبدیلی جودت ایاز نے کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پاکستانیوں کی اوسط عمر میں دو سے پانچ سال کی کمی ہوسکتی ہے ۔ ملک میں 43 فیصد آلودگی کی وجہ کم معیار کا درآمدی ایندھن ہے جو آمدورفت اور توانائی کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے ۔ پاکستان کی ایندھن (تیل) کے حوالے سے آخری پالیسی 1997 بنائی گئی تھی ۔ اس کے بعد سے کسی نے بھی نئی پالیسی تیار نہیں کی جو جدید ترقی، ٹیکنالوجی اور ضروریات کے مطابق ہو ۔ پاکستان میں اب تک ایندھن کا معیار یورو ۔ 2 نافذ ہے جبکہ دنیا یورو ۔ 6 ٹیکنالوجی استعمال کررہی ہے ۔

(ڈان، 31 دسمبر، صفحہ4)

نکتہ نظر

اس ہفتے کی خبروں سے ملک کو خصوصاً زرعی شعبہ کو درپیش گھمبیر مسائل، کی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے ۔ چاہے معاملہ گنے کی قیمت کا ہو، غربت اور غریب افراد کی بڑھتی تعداد کا ہو یا کپا س چننے والی عورتوں کی بڑھتی ہوئی اذیت اور کم ہوتی اجرت کا، بدقسمتی سے کہیں بھی ان مسائل کے پائیدار حل یا ان کے درست تجزیہ پر یا اعلان کی حد تک ہی سہی، حکومت کہیں فعال نظر نہیں آتی ۔ حکومت متحرک ضرور ہے لیکن وہاں جہاں مفادات عالمی سرمایہ دار کمپنیوں ، صنعتکاروں ، برآمد کنندگان کا ہو ۔ سرمایہ داروں کو زمین دینے کے لیے حکومتی مشینری پھرتی سے کام کرتی ہے لیکن جب بات چولستان کے بے زمین کسانوں کو زمین دینے کی ہو وہاں معاملہ اعلانات سے آگے نہیں بڑھتا ۔ موجودہ حکومت نے کمال ہوشیاری سے گزشتہ کئی سالوں کا گنے کی قیمت کا تنازع حل کرنے کی بھونڈی کوشش کی جس سے براہ راست متاثر ہونے والا طبقہ کسان مزدور عوام ہی ہے ۔ ’’تبدیلی سرکار‘‘ میں صارفین کے لیے چینی کی قیمت تبدیل ہوکر 50 روپے سے 70 روپے فی کلو تک جاپہنچی، لیکن حکومت اور حزب اختلاف کی صفوں میں موجود چینی مافیا کسانوں کو اس اضافے کا فائدہ دینے کے بجائے ڈھٹائی کے ساتھ منافع خوری کی حدیں پار کرنے پہ تلا ہے ۔ ملکی منڈی میں چینی کی قیمت میں اضافہ ایک سوچی سمجھی سازش محسوس ہوتی ہے جس کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گنے کی پیداوار میں کمی کے رجحان کو روک کر عالمی منڈی کے لیے نباتاتی ایندھن یعنی ایتھنول کی پیداوار کو جاری رکھا جائے ۔ اس خیال کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ ملک میں اب چینی عالمی منڈی کے نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کررہی ہے جو مل مالکان کے لیے انتہائی حوصلہ افزاء ہے ۔ ماضی میں ملکی ضرورت سے زیادہ چینی برآمد کرنے کے لیے ان سرمایہ داروں کو ہر دور میں ہی زرتلافی بھی ملتی رہی ہے اور یوں ہر حال میں ایتھنول کی تیاری اور اس کی برآمد جاری رہتی ہے ۔ مالی سال 2018 شوگر ملوں کے لیے اس حوالے سے تاریخی سال ثابت ہوا کہ جب ایتھنول کی برآمد تقریباً 400 ملین ڈالر تک جاپہنچی ۔ یاد رہے کہ بیان کردہ خدشات اور حقائق مجموعی مسائل کا صرف ایک چھوٹا سا پہلو ہیں ، حقیقی تصویر کی کچھ عکاسی خود حکومت کے غربت و بھوک کے اعداوشمار کررہے ہیں ۔ اس ملک کے کسان مزدور عوام اب تبدیلی کا خیرات اور قرض زدہ ’’احساس‘‘ نہیں بلکہ حق چاہتے ہیں ، زمین و دیگر پیداواری وسائل کا، صاف ماحول و خوراک اور پالیسی سازی کا ۔

دسمبر 19 تا 25 دسمبر، 2019

زراعت

ایوان صنعت و تجارت لاہور کے صدر عرفان اقبال شیخ نے چین کے چھ رکنی تجارتی وفد سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ چین کی جدید ٹیکنالوجی اور مہارت پاکستان کو دنیا میں خوراک کی پیداوار کا مرکز بنانے میں مددگار ہوسکتی ہے ۔ پاکستان کے پاس سیع زرخیز زمین، تمام موسم اور دنیا کا بہترین نہری نظام موجود ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کے فقدان کی وجہ سے ملک ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھاسکا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین نے خود کو معاشی دیو میں تبدیل کیا ہے جو پہلے ہی پاکستان کو خوشحال بنانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے ۔ چین سے ٹیکنالوجی کا تبادلہ پاکستان کے صنعتی اور زرعی شعبہ میں بڑھوتری میں اضافے کو یقینی بنائے گا ۔

(ڈان، 19 دسمبر، صفحہ10)

وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگریال نے چیئرمین پنجاب ایگری کلچرل مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پامرا) نوید بھنڈار سے ملاقات کے دوران زراءع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پامرا ایکٹ جدید خطوط پر زرعی منڈی کے نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ پھل، سبزی، اجناس، کپاس، چینی، گڑ اور ماہی گیری سے متعلق اشیاء کی علیحدہ منڈیاں قائم کی جائیں گی جو کسانوں کو سہولت اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کریں گی ۔ اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد پنجاب بھر میں تمام مارکیٹ کمیٹیاں اپنا کام اس نئے نظام کے تحت کریں گی ۔ اس ایکٹ کے تحت منڈی کے نظام کو ازسرنو مرتب کیا گیا ہے، اب کسان اپنی پیداوار براہ راست صارف کو فروخت کرسکیں گے جس سے آڑھتی کا کردار محدود کرنے میں مدد ملے گی ۔

(بزنس ریکارڈر، 20 دسمبر، صفحہ15)

بائیر ایشیا پیسفک کے سربراہ جینز ہارٹ مین نے زراءع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمی تبدیلی پیداواری وسائل، زرعی بڑھوتری کے دورانیہ میں کمی، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے خطرات میں اضافہ، سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہر کی صورت منفی اثرات مرتب کرے گی جس سے آخر کار زرعی پیداوار کم ہوگی ۔ کسانوں کو درپیش ان بڑھتے ہوئے مسائل کے نئے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈیجیٹل جدت طرازی (ڈیجیٹل انوویشن) میں زراعت کو بہتر کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ جدید آلات کھیتوں سے متعلق اعداد وشمار اکھٹا کرنے، ان کا مشاہدہ کرنے، وسائل کے زیاں میں کمی کے لیے مددگار ہوتے ہیں جس سے پیداوار اور کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ خاص کر ڈرون اس شعبہ میں تبدیلی کا باعث ہوسکتے ہیں ۔ حساس آلات (سینسر) سے لیس اعداوشمار کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے جدید ڈرون فصلوں میں ہونے والی تبدیلوں کا درست انتظام کرسکتے ہیں ، بیجوں کی کاشت اور فصلوں کے تحفظ کے لیے مواد کا بہترین استعمال کرسکتے ہیں اور کسانوں کا اس مواد سے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ کم سے کم کرتے ہیں ۔ زرعی ڈرونز کے استعمال میں اس کی بڑھتی ہوئی کارکردگی (ایپلی کیشنز) کی وجہ سے اضافہ ہورہا ہے جیسے کہ کھیتوں کا فضائی جائزہ، پودوں کی صحت کی نگرانی، مٹی کا تجزیہ اور جڑی بوٹیوں کی نشاندہی ۔ چین کی مثال دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ چین میں ایک سال میں زرعی ڈرونز کے استعمال میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ لیزر کی مدد سے زمین ہموار کرنے کے آلے، شمسی توانائی سے چلنے ولا انتہائی موَثر آبپاشی نظام (اور اسمارٹ واٹر گرڈ) کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ڈرونز کے استعمال میں اضافے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ مزدوروں کی کمی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ عالمی بینک کے مطابق مجموعی ملازمتوں میں زراعت کا حصہ 1991 میں 43;46;25 فیصد تھا جو 2018 میں کم ہوکر 26 فیصد ہوگیا ہے ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 21 دسمبر، صفحہ13)

ایک خبر کے مطابق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور اینگرو فرٹیلائزر لمیٹڈ نے ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے استعمال کے زریعے زرعی ٹیکنالوجی کے تبادلے کے لیے مشترکہ طور پر جامع ای لرننگ نظام (انٹی گریٹیڈ ای لرننگ سسٹم فار ایگری کلچرل ٹیکنالوجی ٹرانسفر بائی یوزنگ ہائبرڈ اپروچ) کی تیاری کے لیے مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے ہیں ۔ اس پروگرام کے لیے سرمایہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے فراہم کررہا ہے ۔ معاہدے میں اتفاق کیا گیا ہے کہ مشترکہ طور پر زرعی سفارشات تیار کرنے کے لیے کھیتوں کے مشترکہ دورے (فیلڈ ٹرائل) کیے جائیں گے اور اس معلومات کو مزید استعمال کرنے کے لیے کسانوں کے لیے معلوماتی مواد اور ویڈیوز تیار کی جائیں گی ۔

(بزنس ریکارڈر، 22 دسمبر، صفحہ5)

کسان مزدور

سندھ اسمبلی نے زراعت اور مال مویشی شعبہ میں کام کرنے والی مزدور عورتوں کو حقوق دینے کے لئے سندھ وومن ایگریکلچر ورکرز بل 2019 منظور کرلیا ہے ۔ یہ قانون زرعی مزدور عورتوں کی تنخواہ اور ان کی کم سے کم اجرت سے متعلق ہے جو انہیں شناخت دیتا ہے اور ان کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کو یقینی بناتا ہے ۔ بل کے مطابق زمین پر یا مال مویشی شعبہ میں ایک زرعی مزدور عورت کو کسی بھی کام کے بدلے، بطور ایک خاندان کے فرد کے یا ذاتی حیثیت میں اجرت نقد یا کسی شئے کی صورت میں ادا ہوگی، چاہے زمین اور مال مویشی اس کے، اس کے خاندان کے، یا کسی اور کے ہوں ۔ ایک جیسے کاموں کے لیے عورت کی اجرت مرد کی اجرت کے برابر ہوگی ۔ زرعی مزدور عورت کی اجرت حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی کم سے کم اجرت سے کسی بھی صورت کم نہیں ہوگی ۔ ان کے لئے کام کے اوقات ایک دن میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونگے اور کام کا دورانیہ صبح صادق کے ایک گھنٹے بعد تک شروع نہیں ہوگا، اور یہ (آٹھ گھنٹے پر مشتمل) دورانیہ غروب آفتاب کے ایک گھنٹے پہلے تک جاری رہے گا ۔ زرعی مزدور عورتیں بیماری، حمل و زچگی اور معمول کے طبی معائنہ کے لئے کام سے چھٹی لے سکیں گی ۔ ایک زرعی مزدور عورت 120 دن کی زچگی کی چھٹی لینے کی حقدار ہوگی اور عدت کی چھٹیاں لینے کی مجاذ ہوگی ۔ قانون کے مطابق زرعی مزدور عورتیں صاف ستھرے ماحول میں اپنے دوسال تک کے بچوں کو دودھ پلا سکیں گی اور بچے کی ابتدائی چھ ماہ کی عمر تک مزدور عورتوں کو خصوصی طور پر بچے کو دودھ پلانے کے لئے ضروری مدد فراہم کی جائے گئی ۔ انھیں زراعت، مال مویشی، ماہی گیری اور دیگر شعبہ جات میں سرکاری خدمات، قرضہ جات، سماجی تحفظ، زرتلافی اور اپنے نام پر اثاثوں کی منتقلی کے حقوق حاصل ہونگے ۔ ہر زرعی مزدور عورت ہر قسم کی حراسانی یا بدسلوکی سے آزاد ماحول میں کام کریگی ۔ مزدور عورتوں کی جانب سے تقاضہ کرنے پر انہیں ملازمت کا تحریری معاہدہ فراہم کیا جائیگا ۔ یہ قانون ان عورتوں کو تنظیم سازی اور کسی بھی تنظیم کے ساتھ جڑنے کا حق دیتا ہے ۔ یہ قانون واضح کرتا ہے کہ ان زرعی مزدور عورتوں کے درمیان ملازمت کے مواقعوں ، اجرت، صنفی بنیاد پر کام کے حالات، زمینی ملکیت، ذات، مذہب، زبان اور سکونت کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جائیگی ۔ یہ قانون صوبائی محکمہ برائے مزدور و انسانی وسائل کو ہر یونین کونسل میں زرعی مزدور عورتوں کا رجسٹر رکھنے کا پابند کرتا ہے ۔ ہر زرعی مزدور عورت جہاں وہ مقیم ہے یونین کونسل میں اندراج کے لیے رجوع کرسکتی ہے ۔ اندراج شدہ زرعی مزدور عورتوں کو ’’بے نظیر وومن ایگری کلچر ورکر کارڈ‘‘ جاری ہوگا ۔ تنظیم کے اندراج کے لیے ضروری ہے کہ تنظیم کم از کم پانچ کارڈ کی حامل زرعی مزدور عورتوں پر مشتمل ہو ۔

(ڈان، 20 دسمبر، صفحہ15)

گندم

پنجاب حکومت نے صارفین پر سے کچھ دباوَ کم کرنے اور آٹے کی قیمت کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے گندم کی خریداری کو محدود کرنے کے پانچ سالہ منصوبے کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ زراعت پنجاب 310 ملین ڈالر کے منڈی کے استحکام و زرعی اصلاحات کا منصوبہ ’’اسمارٹ‘‘ (اسٹرینتھنگ مارکیٹس فار ایگری کلچر اینڈ رورل ٹرانسفورمیشن) ملتوی کردے گا ۔ یہ پروگرام عالمی بینک کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت شروع کیا گیا تھا ۔ 2018 میں عالمی بینک کے ساتھ کیے گئے اس پانچ سالہ معاہدہ کے تحت دیگر اصلاحات کے ساتھ ساتھ محکمہ خوراک پنجاب کو گندم کی خریداری میں کمی کرنا تھی ۔ معاہدے کے تحت گندم کی خریداری دو ملین ٹن سے زائد نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ اس پروگرام پر عملدرآمد کے بدلے عالمی بینک محکمہ زراعت کو 150 ملین ڈالر قرضہ دے گا جس میں سے 76 ملین ڈالر محکمہ زاعت کے لیے اور بقیہ رقم مال مویشی و آبپاشی کے محکموں کو دی جانی تھی ۔ یہ فیصلہ وزیر اعلی ہاوَس میں ہونے والے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر ترین، عالمی بینک کے نمائندگان سمیت تمام صوبائی وزراء موجود تھے ۔ حکومت پنجاب آئندہ کچھ روز میں عالمی بینک کو اسمارٹ پروگرام ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلامیہ ارسال کریگی ۔ حکام کے مطابق اس کے ساتھ ہی پنجاب حکومت کی جانب سے 4;46;5 ملین ٹن گندم کی سرکاری خریداری کا ہدف مقرر کردیا گیا ہے ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 24 دسمبر، صفحہ11)

کپاس

ملک میں مسلسل چھ سالوں سے کپاس کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے اور اس سال بھی پیداوار انتہائی کمی کے بعد 8;46;5 ملین گانٹھیں متوقع ہے ۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق ملک میں کپاس کی 2;46;1 ملین گانٹھوں کی کمی کا خدشہ ہے ۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ کپاس کی کل پیداوار نو ملین گانٹھوں سے کم رہے گی ۔ چیئرمین پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن جاوید سہیل رحمانی کا کہنا ہے کہ کپاس ایک اہم نقد آور فصل ہے اور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ 65 فیصد ملکی برآمدات اسی فصل پر انحصار کرتی ہیں لیکن حکومتی لاپروائی کی وجہ سے یہ صورتحال تبدیل ہورہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے اندر شوگر لابی موجود ہے جو کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا کر اپنے مفادات کا تحفظ کررہی ہے ۔ لیکن یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ چینی مقامی سطح پر استعمال ہوتی ہے جبکہ کپاس سے زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے ۔

(ڈان، 19 دسمبر، صفحہ10)

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں 15 دسمبر تک جنرز کو 7;46;86 ملین گانٹھوں کے برابر پھٹی پہنچ چکی ہے ۔ پچھلے سال اسی دورانیہ کے مقابلے یہ مقدار 21;46;09 فیصد کم ہے ۔ اب تک کی کل پیداوار میں سے 7;46;54 ملین گانٹھوں کے برابر پھٹی جننگ کے مراحل میں جاچکی ہے ۔ پنجاب سے 4;46;46 گانٹھیں اور سندھ سے 3;46;39 ملین گانٹھیں جنرز تک پہنچ چکی ہیں ۔ مجموعی طور پر 6;46;58 ملین گانٹھیں کپاس فروخت ہوچکی ہے جس میں سے 6;46;53 ملین گانٹھیں کپڑے کی صنعت نے اور 52,160 گانٹھیں برآمد کنندگان نے خریدی ہیں ، جبکہ 1;46;27 ملین گانٹھیں غیر فروخت شدہ کپاس اب بھی جنرز کے پاس موجود ہے ۔

(بزنس ریکارڈر، 19 دسمبر، صفحہ20)

گنا

ایک خبر کے مطابق سندھ میں زیادہ تر شوگر مل مالکان نے گنے کی کرشنگ معطل کردی ہے جس سے ایک بار پھر کرشنگ کا موسم بحران کا شکار ہوگیا ہے ۔ کسانوں کا دعوی ہے کہ مل انتظامیہ کی جانب سے انہیں کہا گیا تھا کہ وہ گنے کی کٹائی نہ کریں ۔ جنرل سیکریٹری ایوان زراعت سندھ زاہد بھڑگری کا کہنا ہے کہ کرشنگ شروع کرنے والی شوگر ملوں کی آدھی تعداد نے کرشنگ روک دی ہے ۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن، سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر تارا چند نے بھی تصدیق کی ہے کہ 12 ملوں نے گنے کی کرشنگ روک دی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملیں کرشنگ کے لیے تیار ہیں لیکن جب کرشنگ کے لیے گنا ہی موجود نہ ہو تو ملیں کرشنگ بند کرنے پر مجبور ہیں ۔

(ڈان، 20 دسمبر، صفحہ17)

شوگر مل مالکان اور کاشت کاروں کے درمیان سندھ گنا کمشنر کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں حیدرآباد اور میرپورخاص میں 12 شوگر ملوں میں گنے کی کرشنگ شروع کرنے کے طریقہ کار پر بحث کی گئی ۔ اجلاس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن، سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر تارا چند اور دیگر مل مالکان نے بھی شرکت کی ۔ ایوان زراعت سندھ کے نبی بخش سہتو اور سندھ آباد گار بورڈ کے ندیم شاہ نے اپنی تنظیموں کی نمائندگی کی ۔ ڈاکٹر تارا چند کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر شوگر مل اپنے علاقے میں سروے کرے گی، جبکہ کسان رہنماء کاشت کاروں کو ملوں کے لیے گنے کی کٹائی جاری رکھنے پر قائل کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیریں سندھ میں گنا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یہ عارضی بندش ہے جبکہ سندھ کے دیگر علاقوں میں شوگر ملیں کام کررہی ہیں ۔

(ڈان، 21 دسمبر، صفحہ17)

چاول

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) چاول کی برآمد میں اضافے کی غرض سے اگلے سال تجارتی وفد سعودی عرب اور آسٹریلیا بھیجنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ سعودی عرب پاکستانی چاول کی بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے ۔ سعودی عرب اس وقت تقریباً ایک ملین ٹن چاول درآمد کررہا ہے جس میں سے 70 فیصد مقدار باسمتی چاول کی ہے جسے نجی و سرکاری شعبہ کی ٹھوس کوششوں سے مزید بڑھایا جاسکتا ہے ۔ چیئرمین ریپ شاہجہاں ملک کے مطابق سعودی عرب کو چاول کی برآمد میں اضافے کے لیے 18 رکنی تجارتی وفد جنوری 2020 کے آخر میں سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

(بزنس ریکارڈر، 20 دسمبر، صفحہ16)

رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کالا شاہ کاکو (آر آر آئی- کے ایس کے) نے باسمتی کی موجودہ اقسام کے مقابلہ میں فی ایکڑ 10 فیصد اضافی پیداوار اور 7;46;6 ملی میٹر اوسط لمبائی کی حامل ’’سپر باسمتی 2019‘‘ نامی چاول کی قسم تیار کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ رائس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے 14 ویں اجلاس میں ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد صابر نے بتایا کہ ادارے کی جانب سے تیارکردہ باسمتی چاول کی دو نئی اقسام ’’سپر باسمتی 2019‘‘ اور ’’باسمتی گولڈ‘‘ کی منظوری بھی لے لی گئی ہے جبکہ تین مزید اقسام منظوری کے مراحل میں ہیں ۔

(بزنس ریکارڈر، 23 دسمبر، صفحہ3)

سورج مکھی

ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے سورج مکھی اور دیگر روغنی بیجوں کی کاشت میں اضافے کے لیے ایک منصوبہ ترتیب دیا ہے ۔ منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں میں 260,000 ایکڑ زمین پر سورج مکھی کی فصل کاشت کی جائے گی ۔ اس منصوبے کا مقصد زیادہ سے زیادہ خوردنی تیل کی پیداوار ہے تاکہ تیل کی درآمد کم کی جاسکے ۔ اس وقت ملک میں صرف 34 فیصد خوردنی تیل کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ 66 فیصد خوردنی تیل درآمد کیا جاتا ہے جس پر حکومت ہر سال بھاری زرمبادلہ خرچ کرتی ہے ۔

(بزنس ریکارڈر، 21 دسمبر، صفحہ5)

پھل س%