ہفتہ وار زرعی خبریں 2020

فروری, 6 تا 12 فروری، 2020

زمین

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ صوبے میں زیر قبضہ تمام زمین واگزار کروائے اور فوری طور پر جنگلات کی زمین کی تمام غیر قانونی الاٹمنٹ کی منسوخی کو یقینی بنائے ۔ درخواست گزار قاضی اطہر نے 2012 میں جنگلات کی زمین کی حیثیت تبدیل کرکے اسے بورڈ آف ریونیو کے سپرد کرنے پر سوال اٹھایا ہے ۔ درخواست گزار نے 2015 میں وزیر اعلی سندھ کی جانب سے فوج کے شہدا میں ملکیت کی بنیاد پر زمین تقسیم کرنے کے لیے 9,552 ایکڑ زمین کی تقسیم کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے لیے وزیر اعلی سندھ نے چیف سیکرٹری اور محکمہ جنگلات سے شکارپور میں جنگلات کی اس زمین کی حیثیت تبدیل کرنے کی سمری طلب کی تھی تاکہ اسے منظوری دی جاسکے ۔ اس کے علاوہ کراچی میں کاٹھور کی ہزاروں ایکڑ محفوظ جنگلات کی زمین بحریہ ٹاوَن کو منتقل کردی گئی ۔ درخواست گزار نے عدالت سے جنگلات کی اس منظم تباہی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے اور مستقل بنیادوں پر محکمہ موسمی تبدیلی کے ماتحت قومی جنگلات کمیشن بنانے کی اپیل کی ہے ۔

(ڈان، 6 فروری، صفحہ3)

زراعت

محکمہ زراعت کے پی نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے متاثرہ علاقوں میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ڈرون کے ذریعے چھڑکاوَ شروع کردیا ہے ۔ محکمہ کے ترجمان کے مطابق روایتی چھڑکاوَ کے مقابلے ڈرون ٹیکنالوجی سے درختوں کے اوپر بھی ہر جگہ رسائی ممکن ہے ۔ یہ اقدام ڈیرہ اسماعیل خان میں کھڑی فصلوں پر ٹڈی دل حملے کے بعد کیا گیا ۔

(ڈان، 7 فروری، صفحہ7)

گندم

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں گندم کی کوئی کمی نہیں اور 2;46;1 ملین ٹن کا ذخیرہ گندم کی کٹائی تک کے لیے کافی ہے جو 15 اپریل سے شروع ہوگی ۔ کمیٹی کو جمع کروائی گئی رپورٹ میں پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ پیداوار میں کمی اور گزشتہ سال مارچ کے آخر اور اپریل کے آغاز میں موسمی اثرات کے باوجود پنجاب نے کسانوں سے 3;46;3 ملین ٹن گندم خریدی تھی اور 1;46;5 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ پہلے سے موجود تھا ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی اور عالمی منڈی میں گندم کی موجودہ قیمت کے تناظر میں گندم کی امدادی قیمت پر نظرثانی ہونی چاہیے ۔ سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ہاشم پوپلزئی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں گندم کی امدادی قیمت 1,400 روپے فی من تک بڑھانے کی تجویز پیش کررہی ہے ۔ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ گندم کی خریداری 15 دن پہلے شروع ہو ۔

(ڈان، 7 فروری، صفحہ5)

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے گندم کے ترسیل نظام میں خامیوں کو ملک میں آٹے کی قیمت میں حالیہ اضافے کی وجہ قرار دیا ہے ۔ چیئرمین پی ایف ایم اے عاصم رضا نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں ایسے طریقہ کار پر زور دیا ہے جس میں آٹا ملیں براہ راست پاکستان ایگری کلچرل اسٹوریج اینڈ سروسس کارپوریشن (پاسکو) سے گندم خرید سکیں ۔ مستقبل میں اس بحران سے بچاوَ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آبادی کی مجموعی طلب کا 50 فیصد گندم ہر وقت ذخیرے میں موجود ہو ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 فروری، صفحہ3)

آٹا

مسابقتی کمیشن نے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کے لاہور میں واقع دفاتر پر چھاپہ مار کر دفتری دستاویزات ضبط کرلی ہیں ۔ کمیشن کو شبہ ہے کہ پی ایف ایم اے نے آٹے کی پیداوار محدود کرنے اور اس کی قیمت مقرر کرنے جیسے غیرمسابقتی اقدامات کیے ہیں ۔ سات رکنی عملے نے ڈائریکٹر جنرل اکرام الحق کی سربراہی میں ان اطلاعات پر تفتیش کی کہ پی ایف ایم اے احکامات کی خلاف ورزی کررہی ہے جو اسے قیمت اور آٹے کی ترسیل سے متعلق ایسے فیصلے کرنے سے روکتا ہے جس سے منڈی میں مسابقت کی حوصلہ شکنی ہو ۔ مسابقتی کمیشن نے اپنے 13 دسمبر 2019 کے حکم نامے میں غیرمسابقتی سرگرمیوں کی وجہ سے پی ایف ایم اے پر 75 ملین روپے جرمانہ عائد کیا تھا ۔

(ڈان، 12 فروری، صفحہ2)

چینی

مسابقتی کمیشن (کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پر 75 ملےن روپے جرمانہ عائد کرنے کے بعد چینی کے شعبے کے اعداد وشمار کا تجزیہ کررہا ہے کہ آیا شوگر ملیں چینی کی قیمت کے حوالے سے گٹھ جوڑ (کارٹلائزیشن) میں ملوث ہیں یا نہیں ۔ خوردہ منڈی میں چینی کی قیمت 10 روپے اضافے کے بعد 80 روپے فی کلو گرام ہوچکی ہے ۔ کمیشن نے ماضی میں بھی اس طرح کی کارروائی کی تھی اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے دفتر پر چھاپہ مارا اور تفتیش کی گئی تھی ۔ تفتیش کے بعد کمیشن نے پی ایس ایم اے کو کارٹلائزیشن میں ملوث قرار دیا تھا اور قوانین کی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ جرمانے عائد کیا تھا ۔ تاہم اس سارے عمل کو سندھ ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا جہاں پی ایس ایم اے نے مسابقتی کمیشن کی تفتیش کے خلاف درخواست دائر کی تھی ۔

(بزنس ریکارڈر، 10 فروری، صفحہ1)

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی درآمد کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اس کی برآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف انتظامی اقدامات کرکے منڈی میں چینی کی ترسیل یقینی بنائیں ۔ وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق اس وقت تقریبا 1;46;72 ملین ٹن چینی کا ذخیرہ ملوں کے پاس موجود ہے اور گنے کی کرشنگ اب بھی جاری ہے ۔ ملک کی ماہانہ چینی کی کھپت 450,000 سے 480,000 ٹن ہے ۔

(ڈان، 11 فروری، صفحہ10)

گوشت

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملائیشیا کے محکمہ ویٹنری سروسز اور ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ڈیولپمنٹ ملائیشیا نے آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے دو پاکستانی کمپنیوں زینتھ ایسوسی ایٹس اور لینیئر پاک جیلٹن لمیٹیڈ، لاہور کو گوشت اور اس کی مصنوعات ملائیشیا برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ ٹی ڈی اے پی نے ملائیشیا کے ان اداروں کو 13 تا 28 جولائی، 2019 کو گوشت کی عمل کاری (پروسیسنگ) کے مراکز کا معائنہ کرنے کی دعوت دی تھی ۔ ملائیشیا کے چار رکنی وفد نے کراچی کے تین اور لاہور کے چار مراکز کا دورہ کیا تھا اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور دیگر اداروں کے حکام سے ملاقاتیں بھی کی تھیں ۔

(بزنس ریکارڈر، 8 فروری، صفحہ3)

مال مویشی

بلوچستان حکومت 100 ملین روپے کی لاگت سے ضلع مشاخیل اور واشک میں اونٹوں پر تحقیق کا مرکز اور دودھ کی عمل کاری (پروسیسنگ) کا مرکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ ڈائریکٹر محکمہ مال مویشی ڈاکٹر غلام حسین جعفر کے مطابق بلوچستان میں اونٹوں کی افزائش کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ ضلع خاران، واشک، لسبیلہ، دوکی، مشاخیل، ژوب اور شیرانی میں تقریبا 700,000 اونٹ ہیں ۔ صوبائی حکومت اونٹوں کی افزائش اور دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لیے نجی شعبہ کے ساتھ تعاون بڑھائے گی ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 9 فروری، صفحہ7)

دو روزہ مال مویشی نمائش ’’سندھ لائیو اسٹاک ایکسپو 2020‘‘ آٹھ فروری کو شروع ہوگئی ہے جہاں مقررین نے خوراک کی ضروریات پوری کرنے اور دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لیے مال مویشی اور ماہی گیری شعبہ میں سرمایہ کاری پر زور دیا ہے ۔ اس نمائش میں بڑے پیمانے پر مویشیوں بشمول گائے، بھینس، بکری، گھوڑے، اونٹ اور پرندوں کی تمام معروف نسلوں کی نمائش کی گئی ۔ مال مویشی اور ماہی گیری شعبہ سے جڑے مالیاتی اداروں ، کمپنیوں ، اشیاء تیار کرنے والی صنعتوں نے بھی اپنے اسٹال قائم کیے ۔ وزیر مال مویشی سندھ عبدالباری پتافی نے سرمایہ کاروں کو مال مویشی شعبہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے دودھ دینے والے مویشیوں کی معروف نسلیں ہیں ، جن سے زیادہ منافع کمانے کے لیے ویلیو ایڈیشن اور منڈی سے مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے‘‘ ۔

(دی نیوز، 9 فروری، صفحہ18)

خوراک

ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی امجد علی لغاری نے کورنگی اےسوسی اےشن آف ٹرےڈ اےنڈ انڈسٹری کے اجلاس کے دوران کہا ہے کہ کھلے خوردنی تےل کی فروخت کو غےر قانونی قرار دے دیا گیا ہے اور اس کے خلاف جلد سخت کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دادو، حیدرآباد، لاڑکانہ اور اندرون سندھ کے دیگر علاقوں سے کراچی ترسیل کیا جانے والا غیر معیاری دودھ ضبط کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر کورنگی اےسوسی اےشن آف ٹرےڈ اےنڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عمر ریحان کا کہنا تھا کہ ’’ہزاروں ٹن کھلا تیل بازاروں اور خوردہ فروش دکانوں پر دستیاب ہے جو عوامی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے ۔ کھلے غیر معیاری خوردنی تیل کی فروخت کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے‘‘ ۔

(بزنس رےکارڈر، 7 فروری، صفحہ2)

کارپوریٹ

فرائزلےنڈ کمپینا اےنگرو پاکستان لمیٹیڈ نے پائےدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں مدد کےلیے پالےمانی ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جیز کے ساتھ مفاہمت کی ایک یاداشت پردستخط کیے ہےں ۔ معاہدے کے مطابق فرائزلےنڈ کمپنےا ایس ڈی جیز کے حصول کے لیے پالیسی سازی کے ماحول کو ممکن بنانے کے لیے اس کے صدر دفتر اور قومی اسمبلی کو مشترکہ طور پر تکنیکی مدد فراہم کرے گی ۔ کمپنی بوقت ضرورت ارکان کو باہمی تعاون سے متعلق مصدقہ پالےسی (ایوڈنس بیسڈ پالیسی) اور قانون سازی کےلیے تحقےقی معاونت بھی فراہم کرے گی ۔ کمپنی پارلیمانی ارکان کے لیے پالیسی مشاورت کے لیے سیمینار، تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے کے پروگرام منعقد کرنے میں بھی مدد دے گی ۔

(بزنس رےکارڈر، 7 فروری، صفحہ2)

چاول

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے سابق چیئرمین رفیق سلیمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس سال چاول کی برآمد کے لیے بھاری طلب موصول ہونے کا امکان ہے کیونکہ دو بڑے عالمی صارف اور برآمد کنندہ ملک چین اور تھائی لینڈ آجکل بحران کا شکار ہیں ۔ چین اس وقت کرونا وائرس سے لڑرہا ہے ۔ خدشہ سے کہ اس وائرس سے چین کی چاول کی فصل پر اثرات مرتب ہونگے ۔ تھائی لینڈ جو چاول کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہوا کرتا تھا، اس وقت دہائی کی بدترین خشک سالی کا سامنا کررہا ہے ۔ اس صورتحال میں تھائی لینڈ کی بھی چاول کی فصل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔ دونوں ممالک میں یہ حالات چاول کی برآمدی قیمت میں اضافے کا باعث ہیں ۔ اری ۔ 6 چاول دسمبر میں 350 ڈالر فی ٹن کے مقابلے اس وقت 370 ڈالر فی ٹن قیمت پر پاکستان سے برآمد کیا جارہا ہے ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 فروری، صفحہ20)

گنا

یو ایس ایڈ اور پاکستان ایگری کلچر ٹیکنالوجی ٹرانسفر ایکٹوٹی کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں سیکریٹری ایگری کلچر خیبر پختونخوا اسرار اللہ خان نے کہا ہے کہ گنے کی بوائی کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کروادی گئی ہے جس سے ناصرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ کسانوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگا ۔ سیکریٹری نے مزید کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسان زمین میں خود کار طریقے سے گنا کاشت کرسکتے ہیں ۔ معروف کاشتکار اور صدر ماڈل فارم سروسس راشد محمود نے یو ایس ایڈ اور پاکستان ایگری کلچر ٹیکنالوجی ٹرانسفر ایکٹوٹی کا جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے پر شکریہ ادا کیا جس سے گنے کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا ۔

(بزنس ریکارڈر، 6 فروری، صفحہ15)

زعفران

زرعی تحقیق و ترقی کا مرکز بلوچستان ایگری کلچر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (بی اے آر ڈی سی) نے صوبے کے سرد علاقوں خصوصاً کوءٹہ ڈویژن میں مقامی کسانوں کو زعفران کی کاشت پر راغب کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں ۔ ڈائریکٹر بی اے آر ڈی سی ڈاکٹر عبد الحنان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے سرد علاقوں بشمول کوءٹہ، ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، مستونگ، خضدار اور قلات اضلاع زعفران کی کاشت اور اس کی بھرپور پیداوار کے لیے مثالی ہیں ۔ اس اقدام کا مقصد مقامی کسانوں کی گندم کی روایتی فصل کے بجائے زیادہ قدر والی فصلوں کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے ۔ زعفران کی جڑ (کورمز) کاشت کے لیے بی اے آر ڈی سی میں دستیاب ہیں ۔ خشک زعفران کی پیداوار فی ہیکٹر چار سے 10 کلو گرام کے درمیان ہوتی ہے ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 6 فروری، صفحہ7)

پانی

سندھ ہائی کورٹ نے وزارت آبپاشی سندھ پر نہروں سے پانی چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ عدالت نے دوران سماعت کہا ہے کہ وزارت آبپاشی عدالت کے مارچ 2018 کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کررہی ۔ عدالت نے سیکریٹری محکمہ آبپاشی کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلے 10 دنوں میں حلفیہ بیان داخل کریں جس میں صوبے میں نہروں سے براہ راست پانی حاصل کرنے والوں کی تعداد بتائی جائے تاکہ مزید کارروائی کے لیے حکم جاری کیا جاسکے ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 فروری، صفحہ5)

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کوہ سلیمان رینج میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کےلیے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق منصوبہ بندی (فزیبلٹی پلان) شروع کرنے کی منظوری دےدی ہے ۔ زراءع کے مطابق جلد ہی ملکی وغیرملکی ماہرین کی مدد سے 14 چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے گا ۔ ماہرین نے منتخب مقامات پر چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کےلیے اپنا سروے مکمل کرلیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں پانچ مقامات پر چھوٹے ڈیموں کی فوری تعمیر شروع ہوگی ۔ ان مقامات میں ہاتھی موڑ، جلیبی موڑ، فضیلہ چوکی اور فورٹ منرو شامل ہیں ۔ فورٹ منرو میں دو ڈیم تعمیر کیے جائیں گے ۔

(دی ایکسپریس ٹریبیون، 8 فروری، صفحہ11)

نکتہ نظر

زراعت و خوراک سے متعلق ملکی خبروں کا مطالعہ کریں تو یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس شعبہ میں ایک طرف پیداواری مراحل جیسے کہ بیج، کھاد اور زرعی زہر سے متعلق کمپنیاں اور ان کی لابیز ہیں جو چھوٹے اور بے زمین کسانوں کو زہریلے مداخل کا محتاج بنا کر ان کا استحصال کررہی ہیں تو دوسری طرف اس پیداوار کی قدر میں اضافہ کرکے اسے بطور خوراک فروخت کرنے والی کمپنیاں یا کارپوریٹ لابیز ہیں جیسے کہ چینی، آٹا، ڈبہ بند دودھ، پروسسڈ گوشت وغیرہ فروخت کرنے والی کمپنیاں ۔ یہ صوتحال آزاد تجارتی اصولوں کے تحت بیک وقت ملک سے چھوٹے پیمانے پر پیداوار کرنے والوں اور اس پیداوار کی ترسیل و فروخت سے جڑے چھوٹے کسانوں ، تاجروں کو زراعت و خوراک کے اس پورے چکر سے نکال باہر کرنے کی منظم منصوبہ بندی نظر آتی ہے ۔ اس کی چند مثالیں مندرجہ بالا خبروں میں ہی پائی جاتی ہیں ۔ جیسے کہ کھلا خوردنی تیل اور دودھ فروخت کرنے والوں پر پابندی، ڈبہ بند دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات فروخت کرنے والی بین الاقوامی کمپنی فرائسز لینڈ کیمپینا کی پالیسی سازی میں مدد کے لیے سرکاری ایوانوں تک رسائی، پنجاب کے بعد اب سندھ میں فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں ۔ یقینا فروخت ہونے والی ہر خوراک صاف اور محفوظ ہونی چاہیے اور اسے یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے لیے قائم کیے گئے اداروں کو جان بوجھ کرتباہ کرکے ہر حکومت نے اپنی زمہ داریوں سے مجرمانہ غفلت برتی ہے ۔ اب اسی بنیاد پر دودھ ہو یا گوشت و دیگر غذائی اشیاء، آٹا ہو یا چینی، منافع خور کمپنیاں اور ان کے مقامی سرمایہ دار ایجنٹ ریاستی ایوانوں میں بیٹھے عوام کو سستا آٹا، چینی، دودھ، گوشت جیسی خوراک سے بھی محروم کرنے پہ تلے ہیں ۔ ماحول، صحت اور خوراک کے معیار کی دہائی دینے والے سرمایہ دار اور ان کی کمپنیاں خود خوراک کی پیداوار سے لے کر اس کی پیکنگ تک میں کیمیائی زہریلے مواد شامل کرنے کی زمہ دار ہیں ۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ سمیت دیگر سرکای و نجی ادارے دودھ جیسی بنیادی غذا میں بھی کمپنیوں کی جانب سے کیمیائی مواد شامل کیے جانے کی تصدیق کرچکے ہیں ۔ زیر زمین و سطح پر اور سمندری پانی کو آلودہ کرتی یہ کمپنیاں ماہی گیروں کا روزگار نگل رہی ہیں اور ملکی فضا و خوراک کو زہر آلود کرکے ہر سال لاکھوں افراد کو وقت سے پہلے موت کے منہ میں دھکیل رہی ہیں ۔ ان کے خلاف نا تو کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی سزا ۔ حد تو یہ ہے کہ خود حکومتی ادارے اور اس کی تحقیقاتی رپورٹیں گواہی دے رہی ہیں کہ سرمایہ داروں اور ملوں کا گٹھ جوڑ ملک میں چینی اور آٹے کی قیمت میں اضافے کی ذمہ دار ہیں جنہوں نے چند ماہ میں ہی قوم کی جیب سے اربوں روپے نکال کر اپنی تجوریاں بھری ہیں ۔ یہ لازم ہے کہ اب آزاد تجارتی معاشی و زرعی پالیسیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے کسان مزدور عوام کے استحصال کا خاتمہ کیا جائے جو ملک میں بھرپور سائل ہونے کے باوجود ہر سطح پر شدید نا انصافی اور بھوک و غربت کی شکار ہے ۔ یقینا اس کے لیے ملک بھر کے کسان مزدور عوام کو بلاتفریق ایک ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *